اسلامی سیاست نہیں مولانا فضل الرحمن ناکام ہوئے،مولانا مجاہد الحسینی

اسلامی سیاست نہیں مولانا فضل الرحمن ناکام ہوئے،مولانا مجاہد الحسینی

لاہور (خصوصی رپورٹ )حالیہ انتخابی معرکہ میں جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن کی شکست پر چند میڈیا چینلز نے اسے اسلامی سیاست کی شکست قرار دیا جو صحیح نہیں ہے بلکہ یہ مولانا فضل الرحمن کی شکست ہے. مولانا فضل الرحمن اور اسلامی سیاست دونوں الگ الگ حیثیت رکھتے ہیں، مولانا مجاہد الحسینی۔قیام پاکستان کے بعد ابتدائی برسوں میں جن شخصیات نے اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد کی اور پاکستان میں دستوار اسلامی کے نفاذ اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے سرگرمی کا مظاہرہ کیا ہے ان میں سید عطاء اللہ شاہ بحاری اور ان کے رفقاء کی خدمات لائق تحسین ہیں ۔پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے رائے عامہ ہموار کرنے اور عوام کو اپنا ہمنوا بنانے کے سلسلے میں اپنے بزرگوں کی کارکردگی نظر انداز کر دی اور دوراز کار مسائل میں الجھ کر رہ گئے ، پاکستان کی حالیہ بساط سیاست پر نگاہ ڈالنے سے یہ حقیقت نمودار ہو گی کہ عمران خاں نے اپنے مقاصد کی خاطر رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے بھرپور جدوجہد کی جس کا ثمر اسے مل گیا ہے. اس کے بالمقابل کسی بھی مذہبی جماعت کے رہنما نے حالیہ انتخابی مرحلے میں عوام الناس کے ساتھ رابطہ قائم کیا اور نہ ہی رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے کوئی جدوجہد کی ہے ۔گذشتہ چند برسوں میں مولانا فضل الرحمن نے چند مرتبہ کراچی میں ’’اسلام زندہ باد‘‘ کی کانفرنسیں منعقد کی تھیں کیا اسلام صرف کراچی میں ہی زندہ ہوتا ہے؟ پورے ملک میں حتی کہ انہوں نے اپنے صوبے پختون خواہمیں اسلام زندہ باد کانفرنسیں منعقد کر کے لوگوں کو ہمنوا بنانے میں جدوجہد کیوں نہ کی؟ پاکستان کی سیاست میں جہاں تک جمعیت علماء اسلام کی کارکردگی کا تعلق ہے اول تو اس جماعت کا نام ہی محض علماء کرام کی ذات تک محدود ہے عوام کا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ حالیہ انتخابات میں مولانا فضل الرحمن کی شکست کو بعض میڈیا چینلز نے پاکستان میں مذہبی سیاست کی شکست قرار دینے کا پروپیگنڈا کیا ہے جبکہ مولانا فضل الرحمن کی شکست ان کی اپنی کارکردگی کا ثمرہ ہے اسلام کی شکست قرار دینا سراسر زیادتی ہے اسلام توابدی روشن چراغ ہے جسے پھونکوں سے ہرگز بجھایا نہیں جا سکتا۔

مولانا مجاہد الحسینی

مزید : صفحہ آخر