بڑا ڈھوند کر پی آئی اے کا سربراہ لگایا ، سیدھا نیب کا کیس ہے : چیف جسٹس

بڑا ڈھوند کر پی آئی اے کا سربراہ لگایا ، سیدھا نیب کا کیس ہے : چیف جسٹس

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں مختلف مقدمات کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس سربراہ پی آئی اے کی تعیناتی اور ادارے کی نجکاری کے خلاف درخواستوں پرسماعت کے دوران مشرف رسول کی بطورسی ای اوپی آئی اے تعیناتی پراظہار برہمی کرتے ہوئے کہا بڑا ڈھونڈ کرپی آئی اے کا سربراہ لگایا ہے، سیدھا سادہ نیب کا کیس ہے۔ منگل کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں سربراہ پی آئی اے کی تعیناتی اور ادارے کی نجکاری کے خلاف درخواستوں پرسماعت ہوئی۔عدالت میں سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ مشرف رسول 1999ء میں وزیراعلی مہتاب عباسی کے چیف آف سٹاف تھے۔وکیل درخواست گزار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مشرف رسول مطلوبہ تعلیمی قابلیت پر پورا نہیں اترتے، انہیں کسی ایئرلائن میں کام کرنے کا 25 سالہ تجربہ بھی نہیں ہے ، وہ تعلیمی اعتبار سے معالج ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بڑا ڈھونڈ کرپی آئی اے کا سربراہ لگایا ہے، سیدھا سادہ نیب کا کیس ہے۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ عرفان نعیم منگی معاملے کی انکوائری کر رہے ہیں۔مشرف رسول نے عدالت سے استدعا کی کہ مجھے وکیل کرنے کا موقع دیا جائے، چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ آپ کا سردار مہتاب عباسی سے کیا تعلق ہے۔؟ انہوں نے ریمارکس دیے کہ آپ مسلسل عدالت کو دھوکا دے رہے ہیں۔عدالت عظمی نے مشرف رسول کی بطورسی ای اوپی آئی اے تعیناتی پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔ سپریم کورٹ نے نیو اسلام آباد ایئرپورٹ میں پانی کھڑا ہونے سے متعلق از خود نوٹس نمٹاتے ہوئے ایئرپورٹ کے ڈیزائن کرنے والے معاملے کو دیکھنے اور تبدیلی کا حکم دے دیا‘ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یقینی بنایا جائے کہ مستقبل میں نیو اسلام آباد ایئرپورٹ میں پانی کھڑا نہ ہو،چوہدری منیر نے صرف رن وے بنایا تھا بلا وجہ کسی کو بدنام نہیں کرنا چاہئے،منصوبے کی لاگت میں اضافے کی ذمے داری کوئی نہیں لے گا۔ منگل کو سپریم کورٹ میں نیو اسلام آباد ایئرپورٹ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ بار بار کہا جاتا ہے ایئرپورٹ چوہدری منیر نے بنایا چوہدری منیر نے صرف رن وے بنایا تھا بلا وجہ کسی کو بدنام نہیں کرنا چاہئے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے متعلقہ عدالتوں کوسرکاری رہائشگاہوں کے مقدمات 15 روزمیں نمٹانے کاحکم دیتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کودوبارہ تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی جبکہ سپریم کورٹ نے چیف سیکریٹری بلوچستان کوبھی نوٹس جاری کردیا،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہماراکام الاٹمنٹ نہیں،غیرقانونی قابضین سے رہائشگاہیں خالی کراناہے اور سب سے خراب کارکردگی بلوچستان کی ہے۔ منگل کو چیف جسٹس آف پاکستان میاں محمد ثاقب نثار نے سپریم کورٹ میں سرکاری گھروں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ پنجاب میں سرکاری گھروں کاقبضہ خالی کرانے سے متعلق کیاصورتحال ہے؟جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پنجاب میں بھی وفاقی حکومت کے گھروں کوخالی کرایاجارہاہے جبکہ وفاق کے سرکاری گھروں کے 71 مقدمات زیرالتواہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہماراکام الاٹمنٹ نہیں،غیرقانونی قابضین سے رہائشگاہیں خالی کراناہے اور سب سے خراب کارکردگی بلوچستان کی ہے۔جس پر وکیل درخواست گزارنے موقف اپنا یا کہ صوبے کی تمام الاٹمنٹ وزیراعلی بلوچستان نے کیں۔ سپریم کورٹ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کودوبارہ تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے چیف سیکریٹری بلوچستان کونوٹس جاری کردیا۔سپریم کورٹ نے بین الاقوامی کمپنی کی جانب سے پاناما پیپرز کیس کے حوالے سے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی پیش کردہ رپورٹ کی جلد 10کی نقول حاصل کرنے سے متعلق درخواست پر قومی احتساب بیورو (نیب )اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیے۔

چیف جسٹس

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ریفرنس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی سپریم جوڈیشل کونسل نے کارورائی کا آغاز کیا تو عدالت عظمیٰ کے ایک وکیل طارق اسد ایڈووکیٹ نے پیش ہو کر کہا کہ انہوں نے چیف جسٹس کے خلاف ایک ریفرنس دائر کر رکھا ہے ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کی زندگی کا پہلا مواد ہے جوانہوں نے کسی جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں پیش کیا ہے۔کونسل کو اس ریفرنس کی سماعت بھی کرنی چاہیے۔کونسل بااختیار ہے کہ اس ریفرنس کو سنیں یا واپس کر دے۔اس ریفرنس کی موجودگی میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو دیگر ریفرنسز کی کاروائی میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔یہ آزاد کارروائی نہیں ہے اس پر جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کونسل کے سامنے آپ کا ریفرنس زیر سماعت نہیں یہ دوسرا ریفرنس ہے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہم نے آپ کو سن لیا ہے آپ کا بہت بہت شکریہ ۔طارق اسد نے کہا کہ چیف جسٹس کو اپنے خلاف ریفرنس کی موجودگی میں کونسل کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔جسٹس گلزار نے وکیل سے کہا کہ آج ہمارے سامنے آپ کا کیس مقرر نہیں ہے ۔طارق اسد ایڈووکیٹ نے کہا کہ آج کا ریفرنس حساس اداروں کی ہدایت پر مقرر ہوا ہے ۔جسٹس آصف کھوسہ نے پھر دوبار وکیل کو روسٹرم سے ہٹنے کی ہدایت کی تو وہ پیچھے ہٹ گئے اس دوران جسٹس شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان نے کونسل کو بتایا کہ گزشتہ روز درخواستیں مسترد ہونے کا تحریری حکم انہیں مل چکا ہے۔اس حکم کیخلاف آئین کے آرٹیکل 184-3 کے تحت عدالت عظمیٰ سے رجوع کریں گے اس درخواست کو کل سماعت کے لیے مقرر کیا جائے اور فیصلہ آنے تک سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو روکا جائے۔چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد دیکھیں گے کہ سماعت کرنی ہے یا نہیں قانونی قدغن نہ ہوئی تو درخواستیں سماعت کے لیے مقرر ہو جائیں گی عدالت نے جسٹس صدیقی کی جوڈیشل کونسل کی کارروائی موخر کرنے کی استدعا مسترد کر دی تو استغاثہ کے گواہ علی انور گوپانگ پر جرح کرتے ہوئے کہا کہ گواہ کو دستاویزات ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں بتائی جائیں۔اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ دستاویزات مختلف والیمز پر مشتمل ہیں۔الگ الگ دستاویزات فی الحال نہیں دے سکتے کیونکہ کیس سابق اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے تیار کیا تھا مولوی انوار الحق کی وطن واپسی تک سماعت ملتوی کی جائے اس دوران حامد خان نے کہا کہ جسٹس شوکت صدیقی بھی 22 اگست تک بیرون ملک ہوں گے ان کی واپس تک سماعت ملتوی کی جائے سپریم جوڈیشل کونسل نے اٹارنی جنرل اورحامد خان کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

مزید : صفحہ آخر


loading...