فوڈ فورٹیفکیشن انسانی جسم کے لئے انتہائی اہم

فوڈ فورٹیفکیشن انسانی جسم کے لئے انتہائی اہم

غذائی قلت، صنعتی اور ترقی یافتہ ممالک کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ غذائی قلت کی وجہ سے ان ممالک میں مختلف قسم کی بیماریاں جنم لے رہی ہیں اور وہاں کے لوگوں میں صحت سے متعلق مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اس غذائی قلت کو پورا کرنے کے لئے بھرپور خوراک کی ضروت ہے۔

غذا کے سب سے اہم عناصر آئرن، وٹامن اے، ڈی اور آئیوڈین کی کمی کی وجہ سے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں اور ’’ہیڈن ہنگر‘‘ بھی ایک اہم مسئلہ بن کر ابھرا ہے۔

’’ہیڈن ہنگر‘‘ (وٹامنز اور منرلز) کی کمی کے باعث موٹاپا جیسی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق ’’دنیا کی ایک تہائی آبادی جن کا تعلق زیادہ تر ترقی پذیر ممالک سے ہے، سخت غذائی قلت کا شکار ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دو بلین سے زائد افراد میں خون، آئیوڈین اور 5 سال سے کم عمر کے 254 ملین بچے وٹامن اے کی کمی کا شکار ہے۔

غذائی قلت کی کمی کو پورا کرنے لئے فوڈ فورٹیفکیشن میں اہم غذائی اجزاء شامل کئے جاتے ہیں۔ یہ اسٹرٹیجی انسانی جسم میں غذائی قلت کو تیزی سے پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ اگر موجودہ ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جائے تو مناسب اور معقول لاگت سے اس پروسس پر عملدرآمد کروایا جاسکتا ہے۔ ان فورٹیفائیڈ پراڈکٹس کو استعمال کروانے کے لئے مناسب رقم خرچ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ فوڈ فورٹیفکیشن حالیہ نیوٹریشن پروگرام کو بڑھانے اور اس کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ خاص طور پر چھوٹے سے بڑے صنعتی اداروں میں فوڈ فورٹیفکیشن کے استعمال سے غذائی قلت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ٹارگیٹڈ فورٹیفکیشن (مثال کے طور پر 6-24 ماہ کے بچوں کے لئے نیوٹرینٹ، فورٹیفائیڈ کمپلیمنٹری فوڈز) ان نوزائیدہ اور چھوٹے بچے، حاملہ خواتین اور دیگر افراد کے لئے ناگزیر ہے۔ جو روزمرہ زندگی میں ضرورت کے مطابق خوراک نہیں کھاتے۔ ٹارگیٹیڈ فورٹیفکیشن خراب صورتحال میں بھی موثر ہے۔ دودھ چھوٹے بچوں میں غذائی قلت کو پورا کرنے کے لئے بہت اہم ہے، لیکن کئی خاندانوں کو جانوروں کا دودھ (گائے اور بکری) میسر نہیں۔

خاص طور پر فورٹیفکیشن سب سے عام اور اہم جز میں سے ایک ہے، کیونکہ بچے زیادہ تر دودھ پیتے ہیں۔ اس لئے فورٹیفائیڈ ملک میں مناسب مقدار میں وٹامن اے اور ڈی شامل کئے جاتے ہیں۔ فورٹیفائیڈ ملک کے سب سے اہم فائدوں میں سے ایک یہ ہے کہ وٹامن ڈی قدرتی طور پر کیلشیم جذب کرنے کی شرح کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے جو پہلے ہی سے دودھ میں موجود ہوتا ہے۔ وٹامن ڈی خون میں کیلشیم کے لیول کو برقرار رکھنے اور جسم کو بھی بہتر بناتا ہے۔ وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے ہڈیاں نرم ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ وٹامن ڈی اور کیلشیم سوکھے کی بیماری یا ہڈیوں کو کمزور ہونے سے بچاتا ہے۔ وٹامن ڈی اور کیلشیم کے مسلسل استعمال سے ہڈیاں بھربھرا (آسٹیوپروسس) کا خدشہ بھی کم ہوتا ہے۔

مزید : رائے /کالم