امریکی دفاعی بل سے حقانی نیٹ ورک کیخلاف کارروائی اور پاکستان کی امداد کا ذکر غائب

امریکی دفاعی بل سے حقانی نیٹ ورک کیخلاف کارروائی اور پاکستان کی امداد کا ذکر ...

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) امریکی کانگریس سے پاس ہونیوالے نیشنل ڈیفنس اتھارائزیشن ایکٹ ( این ڈی اے اے ) 2019 میں انسداد د ہشتگردی کی کوششوں کے سلسلے میں پاکستان کو دی جانیوالی سکیورٹی امداد کی مد میں مستقبل میں دی جانیوالی ادائیگیوں کا ذکر نہیں ہے۔(بقیہ نمبر37صفحہ12پر )

رپورٹ کے مطابق امریکی ہاؤس آف پارلیمنٹ اور سینیٹ میں گزشتہ ہفتے منظور ہونیوالا بل اب دستخط کیلئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس بھیجا جائیگا، جس کے بعد یہ قانون کی شکل اختیار کرلے گا۔بل میں حقانی نیٹ ورک سے متعلق صرف ایک حوالہ دیا گیا ہے جبکہ امریکہ کی جا نب سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے حقانی نیٹ ورک پاکستان میں اپنی محفوظ پناہ گاہوں سے افغانستان میں حملے کرتا ہے، تاہم اسلام آباد نے ہمیشہ ان دعووں کو مسترد کیا ہے۔بل میں عسکریت پسندوں کیخلاف اپنے علاقے کا دفاع کرنے کیلئے افغان سکیورٹی فورسز کی صلاحیت کے بار ے میں بات کرتے ہوئے حقانی نیٹ ورک کا ذکر کیا گیا ہے۔کانفرنس رپورٹ کہلائی جانیوالی اس دستاویز میں پاکستان سے متعلق 19 حوا لے دیے گئے ہیں اور یہ رپورٹ امریکی کانگریس کے چیمبرز کا مشترکہ ورژن ہے۔ڈیفنس بل میں موجود پہلے حوالے میں کچھ دوست مما لک کو سرحدی سکیورٹی آپریشن کیلئے دی جانیوالی رقم کی شرائط شامل ہیں جن کے مطابق امریکہ مسلح فورسز کی صلا حیت بڑھانے اور انکی حما یت کیلئے پاکستان کو سکیورٹی رقم فراہم کرسکتا ہے تاکہ وہ سکیورٹی میں اضافہ کرنے سمیت پاک افغان سرحد پر بھی سکیو رٹی برقرار رکھیں،تاہم اس میں یہ بات واضح نہیں کی گئی کہ امریکہ ان آپریشنز کیلئے پاکستان کو کتنی امداد فراہم کرنے کا ارداہ رکھتا ہے، لیکن کچھ ذرائع ابلاغ کی رپور ٹ میں بتایا گیا یہ رقم گزشتہ برس کے 35 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر 15 کروڑ ڈالر ہوسکتی ہے۔ قابل ذکرامریہ ہے ایک سال قبل تک امریکہ اس مد میں پاکستان کو 70 کروڑ ڈالر امداد فراہم کرتا تھا،ذرائع ابلاغ کے علاوہ دیگر رپورٹس میں کہا جارہا ہے امریکی انتظامیہ 2019 کیلئے پاکستان کی 35 کروڑ ڈالر کی امداد برقرار رکھے گی،تاہم کانفرنس رپورٹ یہ واضح کرتی ہے ہر طرح کے آپریشن یا سرگرمی کے مقاصد اور مطلوبہ نتائج کیلئے امریکہ اور پاکستان کو پہلے ہی اتفاق رائے کرنا چاہیے، اس کے علاوہ اہداف کی کامیابی اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کیلئے دو طرفہ عمل کی بھی ضرورت ہے۔بل کے ایک سیکشن میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کیلئے بھی پاکستان پر زور دیا گیا ہے کیونکہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی سے متعلق مدد کرنے پر امریکہ انہیں بین الاقوامی ہیرو کی طرح سمجھتا ہے۔دوسری جانب واشنگٹن میں موجود سفارتی مبصرین کا کہنا تھا ادائیگیوں میں کمی پاکستان کے مخصوص نہیں ، این ڈی اے اے 2019 میں کل عالمی اتحادی سپورٹ فنڈ ( سی ایس ایف ) اتھارائزیشن کو 35 کروڑ ڈالر تک محدود کردیا ہے، جس میں سے پاکستان کو سرحدی سکیورٹی آپریشن کیلئے 15 کروڑ ڈالر کی امداد کی جاسکتی ہے جبکہ بقیہ 20 کروڑ ڈالر پاکستان یا کسی دوسری قوم کیلئے سی ایس ایف کے طور پر دستیاب ہوں گے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...