انصاف کا تقاضا ہے باقی 2ریفرنسز جج محمد بشیر نہ سنیں : خواجہ حارث

انصاف کا تقاضا ہے باقی 2ریفرنسز جج محمد بشیر نہ سنیں : خواجہ حارث

اسلام آباد (آئی این پی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف اور دیگر کے خلاف نیب ریفرنسز کی منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت کل جمعرات 2اگست تک ملتوی کر دی، 2اگست کو بھی نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث ریفرنسز منتقلی کی درخواست پر دلائل آگے بڑھائیں گے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں گزشتہ روزنواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کی درخواست پر سماعت ہوئی، کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس گل حسن اورنگزیب نے کی۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پہلے کیس منتقل کرنے کی درخواست پر دلائل دیں، ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے بتایا کہ پہلے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ کیا جائے، ریفرنس دوسری عدالت منتقلی پر وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ ان ریفرنسز میں کئی باتیں مشترک ہیں، جج محمد بشیر ان معاملات پر اپنا فیصلہ دے چکے ہیں، انصاف کا تقاضاہے کہ باقی 2ریفرنسز وہ نہ سنیں کیونکہ ایون فیلڈ کا فیصلہ آ چکا، فیلگ شپ اور العزیزیہ ریفرنس زیر التواء ہیں، ہمارا تینوں ریفرنسز میں دفاع ایک جیسا ہے، کیسز میں قانونی نکات ملتے جلتے حقائق ہیں۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیس منتقلی پر زیر التواء کیسز موجودہ حیثیت میں ہی چلیں گے۔ خواجہ حارث نے بتایا کہ ریفرنسز موجودہ سطح سے ہی آگے چلیں گے، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ چاہتے ہیں ریفرنسز اسلام آباد کی دوسری احتساب عدالت منتقل کئے جائیں؟ خواجہ حارث نے بتایا کہ ایون فیلڈ ریفرنس پر فیصلے کے بعد جج صاحب رائے کا اظہار کر چکے ، تینوں ریفرنسز آمدن سے زائد اثاثوں کے ہیں، تینوں ریفرنسز میں گواہ بھی مشترکہ ہیں، سٹار گواہ واجد ضیاء بھی تینوں ریفرنسز میں شامل ہیں، جسٹس میاں گل حسن نے استفسار کیا کہ آپ نے ریفرنس منتقلی کیلئے سپریم کورٹ میں بھی درخواست دی ؟ خواجہ حارث نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے ہماری درخواست سنی ہی نہیں، جسٹس میاں گل حسن نے استفسار کیا کہ آپ سمجھتے ہیں تینوں ریفرنسز میں الزام ایک ہی ہے؟ آپ سمجھتے ہیں ایک کا فیصلہ ہو گیا تو دوسرے کا نہیں ہو سکتا؟خواجہ حارث نے بتایا کہ العزیزیہ ریفرنس میں واجد ضیاء کا بیان ریکارڈ ہو گیا، جرح جاری ہے، فلیگ شپ ریفرنس میں واجد ضیاء کا بیان ریکارڈ ہونا ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیا دونوں ریفرنسز میں ٹرائل چل رہا ہے؟ خواجہ حارث نے بتایا کہ دونوں ریفرنسز میں ٹرائل تاخیر کا شکار ہے، تینوں ریفرنسز میں ملزم اور دفاع مشترک ہیں، نواز شریف ان جائیدادوں میں سے کسی کے مالک نہیں، ایون فیلڈ ریفرنس فیصلے میں عدالت نے کہا بچے زیر کفالت ہیں۔ جسٹس گل حسن نے کہا کہ جج کو وکلاء نے اپنے دلائل سے قائل کرنا ہوتا ہے، کئی بار کیس کی فائل پڑھ کر سمجھتا ہوں اس میں کچھ نہیں، عدالت میں وکلاء اپنے دلائل سے میرا ذہن بدل دیتے ہیں۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایسا سب کے ساتھ کئی بار ہوتا ہے۔ خواجہ حارث نے بتایا کہ فیئر ٹرائل کیلئے عالمی رہنما اصول بھی موجود ہیں، فیئر ٹرائل کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ٹرائل غیر جانبدار ہو، جسٹس عامر فاروق نے نواز شریف کے وکیل سے سوال کیا کہ مزید کتنا وقت چاہتے ہیں؟ وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ ایک گھنٹہ مزید درکار ہے، نواز شریف اور دیگر کے خلاف نیب ریفرنسز کی منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی گئی۔

نیب ریفرنسز منتقلی کیس

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...