پی پی پی ملاکنڈ کا چیف جسٹس سے انتخابات کو سلیکشن قرار دینے کا سومو ٹو ایکشن لینے کا مطالبہ

پی پی پی ملاکنڈ کا چیف جسٹس سے انتخابات کو سلیکشن قرار دینے کا سومو ٹو ایکشن ...

سخاکوٹ(نمائندہ پاکستان) پاکستان پیپلز پارٹی ملاکنڈ نے عام انتخابات کو الیکشن کی بجائے سلیکشن قراردیتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان سے سوموٹو ایکشن لینے کا مطالبہ کردیا ۔پی پی پی کے مرکزی چےئرمین بلاول زرداری ، صوبائی صدر انجینئر محمد ہمایون خان اور مجھے ایک منظم سازش کے تحت ہروایا گیا ہے ۔آج تک سیاسی جماعتوں کو فارم 45نہیں ملے ہیں جبکہ مخصوص جماعت کو اقتدار میں لانے کے لئے قومی خزانے کے 30ارب روپے سے کی زائد رقم دریا بُر د کر د ی گئی ۔ بد ترین الیکشن نے دھاندلی کے ریکارڈ توڑ دئیے ہیں اور ملک بھر کی تمام سیاسی اور دینی جماعتیں نام نہاد الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دینے پر متفق ہیں ۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان فری اینڈ فےئر الیکشن کرانے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے ۔پی ٹی آئی کے کارکن اور قائدین ہمارے صبر کا مذید امتحان نہ لیں ورنہ تمام خراب حالات کی ذمہ داری پی ٹی آئی کے قائدین اور حکومت وقت پر ہو گی ۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق پارلیمانی لیڈر اور حلقہ پی کے 19ملاکنڈ سے سابق اُمیدوار صوبائی اسمبلی سید محمد علی شاہ باچہ نے پُر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ اس موقع پر ضلعی صدرو ضلع ناظم ملاکنڈ سید احمد علی شاہ باچہ ، تحصیل ناظم عبد الرشید بھٹو ، تحصیل نائب ناظم حاجی اعظم خان ، تحصیل صدر حاجی طیب خان ، جنرل سیکرٹری محمد یونس خان ، ممبران ضلع کونسل حاجی اکرم خان ، یوسف خان ،اسماعیل خان ، عمر حیات خان ، سفید خان دریاب ، ممبر ان تحصیل کونسل راشد حسن ، وکیل شاہ ، حمید نواز خٹک ، حاجی نثار محمد اور پی پی پی کے ضلعی و تحصیل قائدین اور سرکردہ کارکنان بھی موجود تھیں ۔ سید محمد علی شاہ باچہ نے کہا کہ الیکشن میں ہمیں مختلف قسم کی دھمکیاں دئیے گئے لیکن اس کے باوجود بھی عوام نے ہم پر اعتماد کرتے ہوئے گذشتہ انتخابات کی نسبت ہمیں تقریبأ 12ہزار زیادہ ووٹ دئیے ہیں جس پر ہم حلقے کے عوام اور کارکنوں کے مشکور ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد الیکشن کے روز ہمارے پولنگ ایجنٹس زبردستی نکال دئیے گئے تھیں اور آج تک سیاسی جماعتوں کو فارم 45تک نہیں ملے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پولنگ ختم ہونے کے بعد رات گیارہ تک ریٹرننگ آفیسر کے دفتر کو موصول ہونے والے نتائج کے مطابق 67پولنگ سٹیشنوں پر ہمیں 1300ووٹوں کی لیڈ حاصل تھی جبکہ ٹی وی پر پی ٹی آئی کے مخالف اُمیدوار کی کامیابی کی خبرنشر کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن میں کامیاب جبکہ سلیکشن میں ناکام ہو گئے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن صاف شفاف انتخابات کرانے میں مکمل طور پر بے بس اور ناکام ہو گئی ہے ۔سید محمد علی شاہ باچہ نے کہا کہ ہم الیکشن ہارنے کے باوجود مطمئن جبکہ مخالفین جیت کر بھی غیر مطمئن اور ان کی ضمیر شرمندہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی جمہوری پارٹی ہے اور جمہوری اقدامات پر یقین رکھتی ہے اس لئے آئندہ جو بھی لائحہ عمل ہو گا قائدین کے ہر حکم پر لبیک کہتے ہوئے حاضر ہونگے ۔ پی پی پی کے قائدین اور سابق اُمیدوار نے کہا کہ مرکزی چےئرمین بلاول بھٹو زرداری کے دورہ ملاکنڈ پر جلسے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ عمران خان پورے ملک میں کھلے عام جلسے کرتا رہا جس سے صاف شفا ف انتخابات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی عمران خان کے اعلانات اور انتخابی منشور پر عمل در آمد کرنے کا انتظار کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہیں کہ ملک چلانا عمران خان کے بس کی بات نہیں ہے ۔ ضلعی صدر و ضلع ناظم ملاکنڈ سید احمد علی شاہ باچہ نے کہا کہ این اے 8ملاکنڈ پر بلاول بھٹو زرداری کی ملاکنڈ سے الیکشن لڑنا خوش نصیبی جبکہ ان کو الیکشن ہروانابد قسمتی ہے کیونکہ بلاول بھٹو زرداری کے منتخب ہونے سے ملاکنڈ میں کالجز ، یونیورسٹی اور دیگر بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے مکمل کئے جاسکتے تھیں جبکہ اب ان کی مدد سے ہسپتال اور دیگر ترقیاتی کام کرینگے۔سید محمد علی شاہ باچہ نے کہا کہ ہم نے ہار کے باوجود فتح حاصل کی ہے جبکہ مخالفین جیت کر بھی شکست زدہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کارکن اور عوام تسلی رکھیں کہ ان کے مسائل کے حل کے لئے کسی قسم کے اقدامات سے گریز نہیں کرینگے اور ہر وقت ان کے خدمت کے لئے کمربستہ ہونگے ۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ جمہوری روایات کے مطابق اپنی جدوجہد جاری رکھیں اور پی پی پی کا پیغام گھر گھر پہنچائیں ۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...