کشمیر دو طرفہ مسئلہ نہیں اسکا حل یو این قرار دادوں پر عملدرآمد ہے :راجہ فاروق حیدر

کشمیر دو طرفہ مسئلہ نہیں اسکا حل یو این قرار دادوں پر عملدرآمد ہے :راجہ فاروق ...

مظفرآباد(وقائع نگار خصوصی)وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ تحریک آزادی کشمیرکو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے اور مقبوضہ وادی سے قابض ہندوستانی افواج کے ناپاک قدم اکھیڑ کر غازی ملت کے خواب کی تعبیر کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملکر چلنے کی دعوت دیتا ہوں ،امید ہے کہ نئی وفاقی حکومت مسئلہ کشمیر پر جارحانہ موقف اختیار کرتے ہوئے ہندوستان کو سفارتی محاذ پر ناکامی سے دوچار کریگی اور ہندستان کے بھکاؤے میں نہیں آئے گی ، مسئلہ کشمیر کوئی دوطرفہ مسئلہ نہیں اس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد ہے ،اس سے ہٹ کر کشمیری کوئی دوسرا آپشن جو تقسیم کی طرف جاتا ہو قطعی طور پر قبول نہیں کرینگے ،یورپین یونین اور اقوام متحدہ کی رپورٹ کشمیریوں کی جدوجہد کا ثمر ہے،آزاد خطہ کو ہمارے اکابرین نے اپنی جدوجہد کے ذریعے آزاد کروایا،الحاق پاکستان کا نعرہ ہماری سیاسی نعرہ نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے خون میں شامل ہے ، ہم نے آئینی ، انتظامی ، مالیاتی مسائل و معاملات اور مطالبات کوآزادکشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق اور مملکت خداد پاکستان کے بھرپور تعاون سے حل کرتے ہوئے اسے ریاستی عوام کا مقبول ترین نعرہ بنانے میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے ۔ 13ویں آئینی ترمیم کوئی آسمانی صحیفہ نہیں اس میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے ،پاکستان میں بھی 18ویں ترمیم کے بعد بہت ساری ترامیم آئیں مگر اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے کچھ بابو اس خیال میں ہیں کہ اس کو واپس کیا جائیگاتو یہ ان کی بھول ہے ،نئی حکومت سے توقع ہے کہ آزادکشمیر کے عوام کے پیسوں پر ماضی میں عیاشیاں کرنے والوں کے بجائے عوامی رائے عامہ کو مدنظر رکھیں گے ۔ میرے اوپر الزام لگانے والوں کو شرم آنی چاہیے ، اگر ایک پیسہ بھی حرام کا ثابت ہو جائے تو میرا گریبان پکڑیں ۔میرے مکان کی تعمیر میں10سال لگے اور مجھے پتا ہے کہ کتنی مشکل سے بنایا اور کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ چوہدری مجید نے اس کیلئے پیسے دیے اگر یہ بات ثابت ہو جائے تو ہمیشہ کیلئے سیاست چھوڑ دونگا، بے بنیاد الزامات لگانے والوں کو اللہ غرق کرے اور اگر میں جھوٹ بولوں تو مجھے ۔ میں نے زندگی کے تمام تر اہداف اللہ کے فضل و کرم سے حاصل کر لیے ہیں جن میں ختم نبوت ﷺ کو آزادکشمیر کے عبوری آئین کا حصہ بنانا ، آئینی ترامیم ، وفاقی محصولات میں اضافہ ، نیلم جہلم منگلا کی واٹر یوزج چارجز میں اضافہ ، ترقیاتی بجٹ میں ریکارڈ دوگنا اضافہ اورمیرٹ کی بحالی شامل ہے۔غازی ملت کی تحریک آزادی کیلئے بے پناہ خدمات ہیں ، انہوں نے ہر فورم پر کشمیر کا مقدمہ لڑا، 19جولائی1947کو غازی ملت کی رہائشگاہ پر کشمیریوں نے اپنی جس منزل کا تعین کیا تھا گزشتہ کئی دھائیوں سے اس کے حصول کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے جموں وکشمیر لبریشن سیل کے زیر اہتمام سینٹرل پریس کلب میں غازی ملت سابق صدر ریاست سردار محمد ابراہیم خان کی برسی کے موقع پر ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجتماع سے وزیر حکومت محترمہ نورین عارف، تحریک انصاف کے سینئر رہنماء خواجہ فاروق احمد، تحریک حق ارادیت برطانیہ کے چیئرمین راجہ نجابت حسین ، پیپلز پارٹی کے رہنماء حنیف اعوان اورشوکت جاوید ،لبریشن لیگ کے رہنما میر عبدالطیف ایڈووکیٹ ،حریت رہنما مشتاق الاسلام اور عزیر غزالی ، سیکرٹری جموں وکشمیر لبریشن سیل محمد ادریس عباسی ، راجہ سجاد لطیف و دیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ تقریب میں سیاسی و دینی جماعتوں کے رہنماؤں ، مہاجر تنظیموں، خواتین ، وکلاء تاجروں اور سول سوسائٹی کی کثیر تعداد شریک تھی ۔غازی ملت کی برسی کے حوالے سے منعقدہ تقریب کل جماعتی کانفرنس کی حیثیت اختیار کر گئی جس میں ماسوائے مسلم کانفرنس کے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین ، علماء کرام اور تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہماری حکومت شہداء کی وارث حکومت ہے،ایک دن مختص کر کے پوری دنیا میں ہندوستان کے خلاف احتجاج کرینگے ، میں بحیثیت کارکن ہندوستان کے خلاف احتجاج میں شریک ہونگا،اقوام متحدہ کی رپورٹ بتاتی ہے یوریپن معاشرہ ابھی زندہ ہے ، سیاسی طور پر مستحکم اور ہر لحاظ سے مضبوط پاکستان ہیں کشمیریوں کو مقدمہ لڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ وادی میں حریت قائدین کشمیر کی آزادی کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں،نوجوانوں کی قربانیوں سے قابض بھارتی افواج بوکھلا گئی ہے ، سرینگر کی نڈر اور دلیر بچیوں نے جس ہمت اور بہادری کا مظاہرہ کیا اس کی مثال نہیں ملتی ، جموں میں ننھی آصفہ کے ساتھ جو کچھ ہوا انسانیت اس پر شرما گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ دنیا تجارت کی طرف راغب ہے ، کشمیری ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق عمل درآمد چاہتے ہیں ۔ کشمیر کی تقسیم قابل قبول نہیں ، جنرل مشرف کے دور میں پاکستان کا اصولی موقف کمزور ہوا۔ پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر جارحانہ موقف اختیار کرنا چاہیے ، کشمیر کے مسئلے کو دوبارہ سلامتی کونسل میں لے جانا چاہیے ۔انہو ں نے کہاکہ تیرہویں آئینی ترمیم میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے ،جمہوری نظام میں ارتقائی عمل جاری رہتا ہے ، پاکستان میں 18ویں ترمیم کے بعد کئی ترامیم آ گئی ہیں ، تیرہویں آئینی ترمیم کے حوالے سے ابہام پیدا کیے گئے۔ انہوں نے کہاکہ جمہوری انداز میں ملک میں کوئی بھی تبدیلی آئے تو وہ ملک کے لیے بہتر ہے بجائے اس کے کہ آمریت ہو ۔ ہندوستان کی قیادت مکار ہے ، نئی آنے والی حکومت ہندوستان کے ٹریک ریکارڈ کو دیکھے ، ہندوستا ن نے ہمیشہ دھوکہ دیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی نئی حکومت سے امید کرتے ہیں کہ آئین و قانون کی بالادستی ، جمہوری اصولوں کی پاسداری کریگی۔انہوں نے کہاکہ آزاد حکومت کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مثبت کردار دیا جائے تاکہ بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کی آواز زیادہ موثر ہو، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان زمینی تنازعہ نہیں حق خودارادیت کا معاملہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ میاں محمد نواز شریف کے صحت کے حوالے سے پریشانی ہے، مہاجرین کی دیکھ بھال ہماری ذمہ داری ہے جس کو پوار کرینگے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...