سرکاری مکانات خالی کرانے سے متعلق حکم امتناعی کی درخواست مسترد

سرکاری مکانات خالی کرانے سے متعلق حکم امتناعی کی درخواست مسترد

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ نے مارٹن کوارٹرز سمیت دیگر سرکاری مکانات خالی کرانے سے متعلق حکم امتناع کی درخواست مسترد کر تے ہوئے پاکستان کوارٹرز اور پاکستان سیکرٹریٹ کے مکینوں کا معاملہ اسٹیٹ آفیسر کو 10 دن میں نمٹانے اور ریٹائرڈ ملازمین اور دیگر غیر قانونی طور مقیم افراد سے کوارٹرز خالی کرانے کا حکم دیدیاہے۔منگل کوسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو مارٹن کوارٹرز سمیت دیگر سرکاری مکانات خالی کرانے سے متعلق سماعت ہوئی۔ عدالت کے روبرو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق کراچی میں 4168 سرکاری کوارٹرز پر قبضہ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا مارٹن کوارٹرز میں 639اور پٹیل پاڑہ میں 301مکانون پر قبضہ ہے۔ گارڈن اور پاکستان کوارٹرز میں 49 مکانوں پر قبضہ ہے۔ باتھ آئی لینڈ سے قبضہ ختم کرالیا گیا ہے۔ مکینوں کو حتمی نوٹسز جاری کرکے اشتہارات بھی شائع کرادیئے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے سرکاری کوارٹرز کے انخلا کیخلاف حکم امتناع کی درخواست مسترد کردی۔ عدالت نے حکومت کو سرکاری رہائش گاہیں خالی کرانے کا عمل جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔ سپریم کورٹ نے پاکستان کوارٹرز اور پاکستان سیکرٹریٹ کے مکینوں کا معاملہ اسٹیٹ آفیسر کو 10 دن میں نمٹانے اور اسٹیٹ آفیسر کو مکینوں کی انفرادی درخواستیں سن کر فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔ ریٹائرڈ ملازمین نے عدالت کے روبرو کہا کہ ہم 20،20سال سے کوارٹرز میں مقیم ہیں۔ جسٹس مشیر عالم نے ریماکس دیئے کوئی 100 سال سے بھی رہ رہا ہو، تو اس کا قبضہ قانونی نہیں ہوجائے گا۔ حاضر سروس ملازمین کے سوا کسی کا سرکاری مکان پر حق نہیں ہے۔ عدالت نے تمام سرکاری کوارٹرز کے مکینوں کی درخواستوں کا جائزہ لینے اور ریٹائرڈ ملازمین اور دیگر غیر قانونی طور مقیم افراد سے کوارٹرز خالی کرانے کا حکم دیدیا دوسری جانب سرکاری کوراٹرز کے رہائشیوں نے سپریم کورٹ رجسٹری کے باہر احتجاج کیا۔ احتجاج میں بچے، خواتین اور بزرگوں اور مردوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔ مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس پر چیف جسٹس آف پاکستان کے حق پر نعرے درج تھے۔ مظاہرین عدالیہ اور پاک فوج کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ مظاہرین نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 2006 میں ہمیں لیٹر ملا تھا۔ بے گناہوں کو سزا کیوں دی جارہی ہے

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر