''میں چاہتا ہوں کہ تمام حلقے۔۔۔'' مولانا فضل الرحمان نے الیکشن کے بارے میں نیا مطالبہ کر دیا، ہنگامہ برپا ہو گیا کیونکہ۔۔۔

''میں چاہتا ہوں کہ تمام حلقے۔۔۔'' مولانا فضل الرحمان نے الیکشن کے بارے میں نیا ...
''میں چاہتا ہوں کہ تمام حلقے۔۔۔'' مولانا فضل الرحمان نے الیکشن کے بارے میں نیا مطالبہ کر دیا، ہنگامہ برپا ہو گیا کیونکہ۔۔۔

  


روزنامہ ایکسپریس کے مطابق ، اسلام آباد ، لاہور (ویب ڈیسک) متحدہ مجسل عمل کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ دھاندلی کے نتیجے میں پی ٹی آئی بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، تحریک انصاف تمام حلقے کھولنے تک کابینہ بنانے سے بازرہے، الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو قانون کی غلط تشریح سے روکے۔ حلف اٹھانے یا نہ اٹھانے کے حوالے سے جماعت اسلامی کی تجویزاے پی سی میں رکھیں گے، کارکن ملک بھر میں اجتجاج جاری رکھیں بعد میں ایک بڑی احتجاج کی کال دیں گے۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں متحدہ مجلس عمل کا اجلاس مولانا فضل الرحمن کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق ، لیاقت بلوچ ، اویس نورانی ، اکرم درانی ، میاں محمد اسلم سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا نام ہوچکا ہے تو وہ نئے انتخابات کا میکنزم بھی خود تلاش کرے، حلف اٹھائیں تو کیوں اٹھائیں اسکا میکزم بننا ابھی باقی ہے۔ ایم ایم اے متحد ہے ، تمام امور اتفاق رائے سے طے ہوچکے ہیں، اختلاف کی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں جن کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ، ایم ایم اے کے اندر اور باہرعوام نے مذہبی جماعتوں کو 50لاکھ ووٹ دیا ہے ، مذہبی جماعتیں عوام میں مقبولیت رکھتی ہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہمارے لیے قابل احترام آرمی چیف نے بیان دیا ہے کہ ووٹ کے ذریعے دشمن کو شکست دی ہے ، واضح کریں کہ وہ دشمن کس کو گردانتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ اگر اسٹیبلشمنٹ دھاندلی کی فریق ہے تو اس کو واضح ہونا چاہیے، شفافانتخابات کا راگ نہ الاپا جائے۔ امریکہ نے بیان دیا کہ پاکستان میں انتہا پسند جماعتوں کو شکست ہوئی ہے، ادارے اپنے کردار اور بیان کو واضح کریں ،ا لیکشن کمیشن اصرار کر رہا ہے کہ الیکشن شفاف ہوئے ہیں ، تمام جماعتیں شفاف الیکشن کے دعوے کی نفی کرتی ہیں ، پی ٹی آئی کی قیادت نے کہا کہ حلقوں کو کھولنے کے لیے تیار ہیں ، ہم کہتے ہیں کہ آئیں ایک ایک حلقہ کو کھولا جائے اور حکومت قائم نہ کی جائے، مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کی حلف اٹھانے کی تجویز اے پی سی میں لیکر جائیں گے ، پی ٹی آئی اس وقت تاریخ کی بدترین ہارس ٹریڈنگ کر رہی ہے۔

قبل ازیں ایم ایم اے کے اجلاس میں سراج الحق نے جماعت اسلامی کا نقطہ نظر پیش کیا اور کہا کہ ہمیں استحکام پاکستان کے لیے جمہوری روایات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ سراج الحق کارکنان کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ جماعت اسلامی ایک فکری تحریک ہے ہمارا اصل کام غلبہ دین ہے۔ دریں اثناء متحدہ مجلس عمل نے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں حلف اٹھانے سے متعلق جماعت اسلامی پاکستان کی تجویز کی توثیق کردی ہے۔ علاوہ ازیں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جن میں عام انتخابات میں ہونیوالے دھاندلی کے خلاف بھرپور احتجاج تحریک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملکی سطح پر ہونیوالے بڑے سیاسی آلائنس کے بارے میں بھی گفتگو کی گئی۔ ایم ایم اے کی جانب سے پارلیمانی سیاست میں نیا موڑ دینے کے لیے آج اسلام آباد میں بڑی کوشش کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس میں مضبوط اپوزیشن یا احتجاج تحریک کے حوالے سے حتمی فیصلے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق متحدہ مجلس عمل نے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک مرتبہ پھر اسلام آباد میں یکجا کرنے کیلئے رابطے تیز کر دیئے ہیں۔ اسلام آباد میں اے پی سی کامیاب بنانے کے لیے مولانا فضل الرحمن کی جانب سے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ٹیلی فون پر رابطے کیے ہیں ، شاہ اویس نورانی باضابطہ دعوت پہنچانے کا کام کررہے ہیں، سراج الحق اولیاقت بلوچ بھی رابطے میں لگے ہوئے ہیں۔

مزید : علاقائی


loading...