ولن کی تلاش

ولن کی تلاش
ولن کی تلاش

  


منفی سوچ کے لوگ زندگی بھر کسی نہ کسی ولن کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ یہ وہ ولن ہوتا ہے جس پر وہ اپنی ہر ناکامی اور ہر شکست کا ملبہ ڈال کر مطمئن ہوجاتے ہیں۔ اس مزاج کے لوگ جب کسی قوم کے سر پر لیڈر بن کر مسلط ہوجائیں تو پھر وہ پوری قوم کو ولن کی تلاش میں لگا دیتے ہیں ۔ اس کے بعد قوم کے ہر مسئلے اور پریشانی کا سبب کوئی اور قوم یا گروہ بن جاتا ہے جس کا کام صرف سازشیں کرنا اور انھیں نقصان پہنچانا ہوتا ہے ۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس دنیا میں ولن نہیں پائے جاتے ۔ بلاشبہ اس دنیا میں ولن اوردشمن پائے جاتے ہیں مگر انھیں کامیابی ان کی کوششوں سے زیادہ ہماری کمزوریو ں کی بنا پر ملتی ہے ۔ اس کی سب سے بڑی مثال شیطان ہے ۔ وہ انسان کا کھلا دشمن ہے ۔ مگر اس کے باجود قرآن کریم جگہ جگہ واضح کرتا ہے کہ اسے اختیار صرف انھیں لوگوں پر حاصل ہوتا ہے جو اپنی باگ اس کے حوالے کر دیتے ہیں۔ جو نفسانی خواہشات کی پیروی ، تکبر اور تعصب جیسے اخلاقی جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں ۔

یہی معاملہ ان افراد اور اقوام کا ہے جو ہمارے اطراف میں رہ کر ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں ۔ یہ ان کی کوششیں نہیں جو انھیں کامیاب کرتی ہیں بلکہ ہماری حماقتیں اور کمزوریاں ہیں جو ہمیں نامراد کرتی ہیں ۔ اس لیے عقلمند وہ ہے جس کی ساری توجہ کسی ولن کو تلاش کر کے اس پر الزام ڈالنے کے بجائے اپنی کمزوریوں کو تلاش کر کے انھیں دور کرنے پر مرکوز رہے ۔ رہے ولن ڈھونڈنے والے تو بربادی کے سوا ان کا مقدر اور کچھ نہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ خدا کی دنیا میں ولن تلاش کرنا ہی ایک جرم ہے ۔ یہ اپنی شکست آپ تسلیم کرنے کے مترادف ہے ۔ جس کے بعد زندگی کبھی آپ کے لیے ترقی کی راہ نہیں کھولے گی۔ 

۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ


loading...