مجھے کیوں ہروایا

مجھے کیوں ہروایا
مجھے کیوں ہروایا

  

پاکستان میں انتخابا ت کا عمل اپنے اختتام کو پہنچ چُکا ہے۔ انتخابات میں دھندلی کا ڈھول بڑی شد و مد کے ساتھ پیٹا جا رہا ہے۔ جیتنے والے اُمیدوار اس کو درست اور ہارنے والے اُمیدوار اس کو بوگس قرار دےتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ انہیں کیوں ہروایا ۔تاہم ایک بات پر کم و بیش سبھی سیاسی پارٹیوں کا اتفاق ہے کہ پولنگ نہایت خوش اسلوبی سے ہوئی۔ لوگوں نے انتخابات میں دلچسپی کا مُظاہرہ کیا۔ خاص طور پر خواتین نے ماضی کے بر عکس اس دفعہ الیکشن میں بھر پُور حصہ لیا۔ جس سے جمہوری عمل کو تقویت ملی۔ لیکن الیکشن کمشن کی کار کردگی اُس وقت مشکوک ہو گئی جب وُہ اپنے مقررہ وقت پر الیکشن کے نتائج برآ مد نہ کر سکی۔ جس سے عوام کے ذہنوں میں شکوک و شُبہات پیدا ہوئے۔ الیکشن کمشن کی طرف سے تا خیر کی ذمہ داری کمپیوٹر ٹیکنالوجی پر ڈالی گئی ہے جو بعض فنی خرابیوں کے باعث متوقع نتایج نہ دے سکا۔لہذا شکست سے دو چار پارٹیوں نے الزامات کا سلسلہ شروع کر دیا۔جو کہ تا دمِ تحریر جاری و ساری ہے۔

نتائج کے مُطابق قومی اسمبلی میں تحریک انصاف نے لگ بھگ ۶۱۱ سیٹیں حاصل کر لی ہے جبکہ مُسلم لیگ ن۴۶ سیٹوںپر قابض ہے اور پیپلز پارٹی نے ۳۴ سیٹیں جیت لی ہیں۔ مذکورہ الیکشن اِس اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے کہ دس سال کے بعد مُسلم لیگ ن مرکز میں شکست سے دوچار ہوئی ہے۔ اور ۳۲ سال کی مسلسل جدو جہد کے بعد پہیلی دفعہ عمران خان صاحب انتخابات میں کامیاب ہوئے ہیں۔ عمران خان صاحب کا طرہءامتیاز یہ بھی ہے کہ انہوں نے بیک وقت قومی اسمبلی کی پانچ نشتوں پر الیکشن لڑا اور وُہ ہر نشست سے کامیاب ہوئے ہیں۔ بھٹو صاحب کے بعد عمران خان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے بیک وقت متعدد سیٹوں پر الیکش لڑا اور ہر جگہ سے کامیاب ہو ئے۔ بھٹو صاحب نے تین نشستوں سے انتخاب میں حصہ لیا اور کامیاب قرار پائے جبکہ عمران خان نے پانچ مختلف جگہوں سے کامیابی حاصل کر کے انتخابات کی دُنیا میں نیا ر یکارڈ قایم کیا ہے۔ جو اُنکی عوام میں مقبولیت کا مُنہ بولتا ثبوت ہے۔ لیکن یہ بات سیاسی 

پارٹیوں کو ہضم نہیں ہو رہی۔ وُہ حسبِ سابق الزام تراشی میں مُصروف ہیں۔ عدلیہ، افواج پاکستان اور اداروں کو بد نام کرنے کے لئے اوٹ پٹانگ بیانات دے کر اپنے دلوں کی بھڑاس نکال رہے ہیں۔پاکستانی عوام کے ذہنوں میں مزید نفرت کے بیج بُو رہے ہیں۔

پاکستان میں انتخابات کی تاریخ بد قسمتی سے زیادہ روشن نہیں رہی ہے۔ ہر دفعہ دھندلی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ سوائے ۰۷۹۱ کے الیکشن کے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ چند دنوں کی چیخ و پُکار کے بعد تمام پارٹیاں نتائج کو مان لیتی ہیں۔۰۷۹۱ اور حالیہ انتخابات میں قدرے مشترک یہ ہے کہ دونوں انتخابات میںنتائج سیاستدانوں کی توقعات اُلٹ گئے ہیں۔لیکن سیاستدان اپنی شکست کا حقیقی انداز میں تجزیہ کرنے میں نا کام ہوئے ہیں۔وُہ یہ حقیقت تسلیم کرنے میں عار محسوس کرتے ہیں کہ عوام نے اُنہیں مسترد کر دیا ہے۔ اپنی عدم مقبولیت کی خفت کو مٹانے کے لئے وُہ د ھندلی کے الزامات لگا کر اپنے غُصہ کو ٹھنڈا کر رہے ہیں۔اگر ہارے ہوئے اُمیدواروں کو لگتا ہے کہ انتخابات میں اُن کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو وُہ الیکشن کمشن سے رجوع کر سکتے ہیں۔ ا لیکشن کمشن نے حالیہ دنوں میں کئی نشتوں کے نتایج کو شکایات موصول ہونے پر روک دیا ہے۔ اور بعض حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی بھی کروائی گئی ہے۔ الیکشن کمشن اُمیدواروں کی جائز شکائت پر فوری ایکشن لینے پر تیار ہے۔ لیکن کمزوراُمیدوار دوبارہ جان پڑتال کروانے کی بجائے یا کوئی معقول عُذر پیش کرنے کی بجائے انتخابات کو متنازعہ بنا کر یہ تا ثر دینے میں مُصروف ہیں کہ اداروں نے سازش کرکے اُنہیں ہرایا ہے۔مولانا فضل الرحمان، سعد رفیق، چوہدری نثار علی خان، شاہد خاقان عباسی، اسفند یار، محمود اچکزئی جیسے سیاستدانوں کی انتخابات میں شکست اس حقیقت کی غماز ہے کہ عوام تبدیلی چاہتے ہیں۔یہی ووٹ سے آنے والا وہ انقلاب ہے جسے اب شکست خوردہ سیاستدانوں کو تسلیم کرنا چاہئے۔

۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ