عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر37

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر37
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر37

  

اب قاسم اور اس کے دوساتھی مکان کے اندر صحن میں بیٹھے تھے ۔ باقی سپاہیوں کو قاسم نے معمول کے گشت پر روانہ کردیا تھا ۔ مکان کے کمرے سے ابھی تک عورت کے چلانے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ لیکن اب قاسم کو تسلی تھی۔ وہ اطمینان سے صحن میں بیٹھا بوڑھے شخص کے ساتھ باتیں کر رہاتھا ۔ بوڑھے شخص نے ایک اور سوال کیا:۔

’’سنا ہے! تمہارا سلطان بلاوجہ کسی پر یلغار نہیں کرتا .........عیسائیوں نے بدترین معاہدہ شکنی کی تو اس نے شمشیرِ انتقام اٹھالی .......کیا یہ سچ ہے؟‘‘

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر36 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’ہاں ! یہی سچ ہے۔ ہمارے سلطان نے دس سال کے لیے ہونیاڈے کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کیا تھا ۔ جسے عیسائیوں نے پہلے مہینے ہی توڑ دیا ۔ چنانچہ معاہدہ شکنی کی سزا کے طور پر ہم نے نہ صرف شاہِ ہنگری کا سرکاٹ کر نیزے پر اٹھایا بلکہ پاپائے روم کے نائب کارڈ نیل جولین کو بھی دوٹکڑوں میں کاٹ کر رکھ دیا ۔ کیونکہ یہی وہ شخص تھا جس نے پوری عیسائی ملت کو مسلمانوں کے ساتھ معاہد شکنی پر اکسایا اور فتویٰ دیا‘‘۔

بوڑھا شخص نہایت غور سے قاسم کی با ت سن رہا تھا ۔ یوں لگتا تھا جسے قاسم کی شخصیت اسے بے حد پسند آئی ہو۔ وہ مسلمان سپاہیوں کے کردار سے بہت زیادہ متاثر دکھائی دیتا ہے۔ اسی دوران اندرونی کمرے سے ایک عورت برآمد ہوئی........اور تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی اسی طرف آنے لگی۔ وہ صحن میں اترنے سے پہلے ہی وہ برآمدے میں رک گئی اور بوڑھے شخص کو بلایا........کچھ دیر بعد بوڑھے شخص نے قاسم کو آکر بتایا .........کچھ ضروری سامان اور چند ’’بوٹیوں ‘‘ کی ضرورت ہے۔ قاسم نے سامان لانے کے لیے فوراً اپنے ایک سپاہی کو روانہ کردیا ۔ وہ عورت واپس چلی گئی اور قاسم بوڑھے شخص کے ساتھ پھر مشغول ہوگیا ۔ اس مرتبہ بوڑھے شخص نے کہا:۔

’’بیٹا ! تم نے ابھی تک اپنا نام بھی نہیں بتایا........اور نہ ہی فوج میں اپنا عہدہ بتایا ........صر ف یہی بتایا کہ تم سلطانی لشکر میں سالار ہو........میں تمہارے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔‘‘

’’میرا نام قاسم بن ہشام ہے..............اور میں سلطانی لشکر میں پنچ ہزاری سالار ہوں۔لیکن آپ کا کیا تعارف ہے۔ محترم بزرگ!۔‘‘

’’میرا نام .........’’بارٹا کوزین‘‘ ہے۔ میں نے اپنی تمام عمر سمندر میں گزاری ہے۔ اوائل عمری میں ہی........میں مذہبی تعلیم کیلیے یونان چلا گیا تھا ۔ وہاں ’’آرتھوڈکس چرچ‘‘ میں رہ کر میں نے عیسائیت کی مذہبی تعلیم حاصل کی ۔ بعد ازاں میں نے جہازرانی کا پیشہ اختیار کیا ۔ اور چند سال قبل تک میں جزیرہ کریٹ کے ایک بڑے بہری جہاز کا کپتان تھا ..........اب میں بوڑھا ہوچکا ہوں۔ اس لیے گھر میں بیٹھ گیا ہوں۔ اب میرے بیٹے جہاز رانی کرتے ہیں۔ ان دونوں عورتوں میں سے ایک میری بیٹی ہے اور ایک میری بیٹی کی سہیلی ہے۔ جو پناہ لینے کے لیے ہمارے پاس آگئی ہے۔‘‘

بوڑھے شخص بارٹا کوزین نے انتہائی مختصر الفاظ میں اپنا مفصل تعارف کروایا۔ اب قاسم بڑی قدر شناس نظروں کے ساتھ بارٹا کوزین کی جانب دیکھ رہا تھا ۔ وہ دونوں کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔ یہاں تک کہ سپاہی ضروری سامان لے کر پہنچ گیا۔ بارٹا کوزین فوراً اٹھا اور ضروری سامان لے کر اندرونی کمرے کی جانب چل دیا ۔ عورت کے کراہنے کی آواز ابھی تک متواتر سنائی دے رہی تھی۔ وہ غالباً بے حد تکلیف میں مبتلا تھی ۔ کسی کسی وقت اس کی کراہ زور دار چیخ میں بدل جاتی ........بارٹا کوزین اس مرتبہ اندر کی جانب گیا تو جلد واپس نہ لوٹا........قاسم اپنے سپاہیوں کے ہمراہ صحن میں خاموشی سے بیٹھا مشکل وقت کے گزر جانے کا انتظار کر رہا تھا ۔کئی لمحے اور کئی گھڑیاں دھیرے دھیرے گزرگئیں۔ اورپھر ایک لمحہ وہ بھی آیا ........جب اندرونی کمرے سے ’’زچہ‘‘ کی ایک فلک شگاف چیخ سنائی دی۔ اور سب کے دل دہل گئے ۔ قاسم جھٹ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ لیکن اگلے لمحے اس کی پریشانی دور ہوگئی۔ جب اس کے کانوں میں نومولود بچے کے رونے کی آواز پڑی۔

اب قاسم اپنی ذمہ داری سے عہدہ برا ہوچکا تھا ۔ اس نے ایک بچہ جنتی ہوئی عورت کی مدد کی تھی۔ ایک ایسی عورت جو جنگ کے حالات میں اپنے گھر میں بے یارو مددگار پڑی دردِ زہ سے چلا رہی تھی۔ ایک مسلمان سپاہی کا یہی فرض بنتا ہے چنانچہ اب قاسم اپنا فرض نبھا چکا تھا ۔ اور اب وہ یہاں سے جانا چاہتا تھا ۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے چلنے کی بات کی اور اٹھ کھڑا ہوا۔ جانے سے پہلے وہ بوڑھے ’’بارٹا کوزین ‘‘ سے ملنا چاہتا تھا ۔ تاکہ زچہ و بچہ کی خیریت دریافت کرسکے۔ اس نے بارٹا کوزین کو پکارا ۔ جب بوڑھا بارٹا کوزین اس کے نزدیک آیا تو قاسم نے دیکھا کہ وہ خوشی سے کانپ رہا تھا ۔ اس کے عقب میں دونوں جوان عورتیں نومولود بچے کو ہاتھوں میں اٹھائے کھڑی تھیں۔ عورتوں کا فاصلہ قاسم سے چند قدم دور تھا ۔ بارٹا کوزین کے کانپتے لرزتے ہاتھوں سے قاسم کو دونوں بازوؤں سے پکڑ لیا ۔ اور جذبات سے لبریز آواز میں کہا:۔

’’بیٹا ! تم کہاں چل دیے؟ تم آج کہیں نہیں جاؤ گے۔ ہم جی بھر کر تمہاری خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ تمہیں مبارک ہو۔ ہماری اور تمہاری کوشش رنگ لائی۔ ’’بریٹا ‘‘ نے چاند جیسے بچے کو جنم دیا ہے۔ تمہیں یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس بچے کا باپ سلطانی فوج کے خلاف ہونیاڈے کے مذہبی لشکر میں شامل ہے۔ جب اسے معلوم ہوگا کہ سلطانی لشکر کے ایک سالار نے اس کی مرتی ہوئی بیوی اور بچے کو بچایا ہے تو اس پر کیا گزرے گی...........میری بیٹی اور اس کی سہیلی تمہارے کردار سے بے حد متاثر ہوئی ہیں۔ وہ دونوں تم سے ملنا چاہتی ہیں۔‘‘

قاسم جیسے پرخلوص سپاہی کو اس طرح کے لوازمات کی چنداں ضرورت نہ تھی۔ اسے لشکر گاہ میں واپس جانے کی بھی جلدی تھی۔ چنانچہ اس نے بارٹا کوزین سے کہا:۔

’’محترم بزرگ ! یہ جو کچھ میں نے کیا میرا فرض تھا ۔ میں یہاں مزید نہیں رک سکتا ۔ اب آپ مجھے اجازت دیجیے!‘‘

لیکن ابھی بارٹا کو زین کچھ کہہ بھی نہ پایا تھا کہ عقب میں کھڑی دونوں جوان عورتوں میں سے ایک یک لخت تیز تیز قدموں کے ساتھ آگے بڑھی اور قاسم کے عین سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔ اس کی اس حرکت سے نہ صرف قاسم بلکہ قاسم کے ساتھی سپاہی حتیٰ کہ بارٹا کوزین خود بھی حیرت زدہ رہ گیا ۔ لیکن اس نوجوان عورت نے قاسم کے سامنے کھڑے ہوتے ہی اپنے چہرے سے چادر کا پلو ہٹا دیا ۔ 

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں )

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح