اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 3

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 3

  

فرعون کفروتی بڑا زیرک اور دور اندیش فرعون تھا۔ اس نے اپنے رویے کو ایسا بنایا کہ مجھے خواب میں بھی یہ خیال نہیں آسکتا تھا کہ وہ میری جان کا دشمن ہے۔ وہ مجھے دربار میں اپنے قریب رکھتا۔ شاہی ضیافتوں میں بھی خاص طور پر مجھے اپنے ساتھ بٹھاتا۔ اس نے ایک بہت بڑی سرکاری ضیافت میں شاہی خاندان کے تمام افراد اور غیر ملکی سفیروں کے سامنے باقاعدہ اعلان کر دیا کہ عاطون اس کے بعد تخت شاہی کا وارث ہوگا۔ 

فرعون کفروتی کا طرز عمل اس قدر گہرا ، دھیما اور پر اعتماد تھا کہ اب میرے دل میں بھی یہ خیال آنے لگا کہ کفروتی نے میرے ماں باپ کو ہلاک کروانے کے بعد مجھے قتل کروانے کا ارادہ ترک کر دیا ہے اور شاید وہ مجھ ہی کو اپنے بعد مصر کے تخت پر دیکھنا چاہتا ہے۔ میرے ساتھ سرکاری اور غیر سرکاری تقریبات میں ولی عہد ایسا سلوک روا رکھا جاتا ۔ میرے لئے ایسے اتالیق مقرر کردیئے گئے جو مجھے فن حرب و ضرب کے علاوہ امور سلطنت اور آداب شاہنشاہی سے بھی آگاہ کرتے۔ میری سمارا بہت خوش تھی کیونکہ فرعون کفروتی بوڑھا ہو رہا تھا اور میری بیوی کے خیال میں اس کے بعد میں وارث تخت تھا اور وہ میری ملکہ بننے والی تھی۔ مگر یہ طلسم ایک روز ٹوٹ گیا۔ 

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 2 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں کبھی کبھی شاہی خدام کے ہمراہ شکار پر جاتا تو جڑی بوٹیوں کی تلاش بھی جاری رکھتا۔ کسی وقت چاندنی راتوں میں دریائے نیل کے کنارے نکل جاتا کیونکہ میرے باپ نے مجھے بتاتا تھا کہ بعض بوٹیاں صرف چاندنی راتوں میں اپنا آپ ظاہر کرتی ہیں اور ان کے پتے اور ڈنٹھل چاندنی میں سرخی مائل ہوجاتے ہیں۔ ایک روز میں شکار سے واپس آیا ۔ ہم اپنے ساتھ بہت سا شکار مار کر لائے تھے۔ شاہی مطبخ میں شکار کا گوشت بھونا گیا۔ رات کے کھانے پر فرعون کفروتی بھی موجود تھا اور شاہی افراد خانہ کے آگے ۔۔۔ بار بار میری بہادری ، سپہ گری اور عالی ہمتی کی تعریف کر رہا تھا۔ 

شاہی ضیافت شروع ہوئی تو غلام ، رواج کے مطابق ایک مردے کی حنوط شدہ ممی ہاتھوں میں اٹھا کر لائے اور اس باری سب مہمانوں کو دکھایا اور کہا ۔ ’’ کھاؤ پیو اور زندگی کے ہر لمحے کو غنیمت جانو کیونکہ ایک وقت آ ئے گا جب تمہارا بھی یہی حال ہوگا۔ ’’ ضیافت شروع ہوگئی۔ یمن اور ہند کی رقاصاؤں نے رقص پیش کیا۔ چین کے بازی گر اپنے کرتب دکھانے لگے۔ نیل کے موسیقاروں نے سیرلی دھنیں بجائیں۔ ضیافت آدھی رات تک جاری رہی۔ جب میں اور میری بیوی اپنے محل کی طرف جانے لگے تو فرعون کفروتی نے مجھے سینے سے لگایا اور کہا۔ 

’’ میرے بھیتجے ! میں اس وقت کا انتظار کر رہا ہوں جب تم مصر کے شاہی تخت پر تاج فرعونی پہن کر براجمان ہوگے۔‘‘ 

میں نے جھک کر فرعون کی تعظیم کی پھر اپنی بیوی اور محل کے غلاموں کے ساتھ اپنے محل میں آگیا۔ میں اور میری بیوی اپنی خواب گاہ میں جانے کی تیاریاں کر رہے تھے کہ اچانک مجھے چکر آیا اور میں دیوان پر بیٹھ گیا۔ 

’’ کہا ہوا عاطون ؟‘‘ 

میری بیوی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔ 

’’ کچھ نہیں چکر سا آگیا تھا۔ ‘‘ 

اتنے میں میرا حبشی رتھ بان زال بدحواسی کے عالم میں اندر آگیا اور آداب ملحوظ رکھے بغیر چلا اٹھا۔

’’عالی جاہ آپ کو زہر دے دیا گیا ہے ‘ کھانے میں ۔ ‘‘ 

’’ کیا ۔۔۔ ؟‘‘ میری بیوی چیخ اٹھی۔ 

میں نے اسے اشارے سے خاموش رہنے کو کہا اور مہاگنی کی الماری میں سے چمپاؤنی بوٹی کا زرد سفوف نکلوا کر پانی سے نگل لیا۔ مگر بہت جلد مجھے یقین ہو گیا کہ وقت گزر چکا ہے اور زہر اپنا کام کر چکا ہے میں نے جس بوٹی کو سفوف کھایا تھا وہ مجھے زہر کی ہلاکت سے ، اب نہیں بچا سکتی تھی۔ لیکن میری موت کو چند لمحوں کے لئے روک سکتی تھی۔ 

’’ میرا بستر لگا دو۔ ‘‘ 

وہ خواب گاہ میں گئی تو میں نے رتھ بان زال سے پوچھا کہ اسے کیسے پتہ چلاِ مجھے کھانے میں زہر دیا گیا ہے۔ رتھ بان زال ایک ادھیڑ عمر حبشی غلام تھا اور میرے باپ کا وفادار رتھ بان تھا۔ وہ مجھ سے بچوں کی طرح پیار کرتا تھا۔ اس کا رنگ اڑا ہوا تھا اور آواز کانپ رہی تھی۔ اس نے کہا۔ 

’’ عالی جاہ ! میں نے اپنے کانوں سے فرعون کو کاہن اعظم قہرون کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہم نے عاطون کو اس کے کھانے میں زہر دلوادیا ہے اور صبح اس کی لاش ، اس کے محل کی خواب گاہ میں پڑی ہوگی۔ ‘‘

سمارا خواب گاہ سے باہر نکل رہی تھی۔ اس نے زال کی یہ بات سن لی تھی۔ وہ بدحواس ہوکر بولی ۔ 

’’ تم جھوٹ کہتے ہو۔ فرعون ایسا نہیں کر سکتا۔ اس نے خود عاطون کے ولی عہد ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ‘‘ 

میں نے اپنی بیوی کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا۔ ’’ سمارا میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ میری ہدایات کو غور سے سنو ۔ میری جڑی بوٹیوں کا تھیلا اور میرے والد مرحوم کی کتاب طب اور کچھ زیورات اور جواہرات جلدی سے نکال کر میرے ساتھ محل کے باہر آجاؤ۔ ‘‘ 

پھر میں نے رتھ بان زال سے کہا۔ ’’ تم رتھ لے کر محل کے عقبی دروازے پر میرا انتظار کرو۔ ‘‘ 

’’ جو حکم عالی جاہ ! ‘‘ 

رتھ بان زال پلک جھپکتے میں باہر نکل گیا۔ میری بیوی آنسو بہاتے ہوئے ہدایت کے مطابق چیزیں سمیٹنے لگی۔ اپنے والد کی کتاب طب ، جڑی بوٹیوں کا چمڑے کا تھیلا اور کچھ جواہرات و زیورات لے کر ہم دونوں محل کی سیڑھیاں اتر کر عقبی دروازے پر آگئے۔ یہاں مہندی کی جھاڑیوں میں اندھیری رات میں جگنو چمک رہے تھے۔ رتھ بان زال رتھ لئے بالکل تیار کھڑا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر مجھے سہارا دینا چاہا۔ میں نے کہا۔ ’’گھبراؤ نہیں ۔ میں نے جو دوائی پی ہے۔ وہ زہر کا اثر زائل کر دے گی۔ شاہی قبرستان کی طرف چلو۔ ‘‘ 

سمارا بے حد پریشان تھی۔ ہمارا رتھ محل کے بڑے عقبی دروازے سے نکل کر زیتون کے درجنوں کے درمیان سے گزرنے والی کچی سڑک پر سے ہوتا ہوا شاہی قبرستان کی طرف دوڑنے لگا۔ قدیم مصر کے گہرے نیلے آسمان پر چمکتے ستارے میرے ساتھ ساتھ رواں تھے۔ قبرستان شاہی موت کے عمیق سناٹے کی گرفت میں تھا۔ میں زال کو رھ ۔۔۔ شاہی قبرستان کے پہلو میں اپنے باپ کے اہرام کے باہر کھڑا کرنے کو کہا اور خود اہرام کے اندر چلا گیا۔ میری پریشان حال حسین بیوی میرے ساتھ ساتھ تھی۔ 

میرے پیارے اور شفیق کی قبر کے اوپر سنگی تابوت پر اس کی ممی کا چہرہ خاموش تھا۔ میں آنکھیں بند کر کے اپنے باپ کی قبر کے پاس کھڑا ہوگیا۔ زہر میرے رگ و پے میں سرایت کر رہا تھا۔ میرا سارا جسم پسینے میں شرابور ہونے لگا تھا۔ میری بیوی نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور بے تابی سے بولی۔ 

’’ رب شمس تمہارا نگہبان ہو۔ کسی طبیب کے پاس چلو۔ میرا سہاگ نہ اجاڑو عاطون!‘‘ 

مجھے اس کی آواز جیسے بہت دور خواب کی دنیا سے آتی محسوس ہوری تھی۔ میری زبان سوکھ رہی تھی۔ ہونٹ لکڑی کی طرح سخت ہونے لگے تھے۔ میری بیوی رونے لگی۔ اس کی سسکی کی آواز میں نے آنکھیں کھول دیں اور اسے ساتھ لے کر اہرام سے باہر آگیا۔ 

رتھ بان زال بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔ 

یہاں سے میں اپنی والدہ کی قبر سے گیا لیکن اب مجھ میں کھڑے ہونے کی بھی سکت نہیں تھی۔ رتھ بان زال اور میری بیوی نے مجھے سہارا دیا۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں اور مراقبے میں چلا گیا۔ پھر جیسے میری بند آنکھوں کے اندھیروں میں جگنو چمکنے لگے اور جیسے میرے والدہ کی شبیہہ نمودار ہوئی ۔ اس نے سفید بے داغ لباس پہن رکھا تھا اور ہاتھ میں سفید کنول پھول کی چھڑی تھی۔ اس نے کنول کی چھڑی باری باری میرے کندھوں سے لگائی اور میرے کانوں میں اس کی آواز آئی۔ 

’’ میرے بیٹے ! تم جس خدائے واحد کی دل سے عبادت کرتے ہو۔ اس نے تمہارے گناہوں کو بخش دیا ۔ یہاں سے اپنی بیوی کو لے کر ملک شام کی طرف چلے جاؤ۔ خدائے واحد کے حکم سے تمہارے جسم کا زہربے اثر ہوگیا ہے۔ ‘‘ 

میری پیاری والدہ کی شبیہہ غائب ہوگئی۔ میں نے آنکھیں کھول دیں۔ مجھے اپنے بدن کو توانائی واپس آتی محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے اپنی بیوی سمار اسے پانی مانگا۔ اس نے چھاگل میں سے پانی نکال کر دیا۔ پانی پینے کے بعد مجھے نیند آنے لگی۔ میں نے اپنے رتھ بان زال سے کہا۔ 

’’ یہاں سے ملک شام کی طرف نکل چلو۔ ‘‘ 

اور پھر میں گہری نیند سوگیا۔ جب میں جاگا تو ہم اپنے وطن مصر کی سرحدوں سے نکل کر شام کی سرحد میں داخل ہوچکے تھے۔ میں آنکھیں کھول کر دیکھا نیلے آسمان پر روشنی ہی روشنی تھی۔ شام کے صحرا ہمارے اردگرد پھیلے ہوئے تھے اور ہمارا رتھ اڑا چلا جا رہا تھا۔ میری بیوی میرے چہرے پر زندگی کی چمک دیکھ کر خوشی سے نہال ہوگئی۔ اس نے میری پیشانی چوم کر کہا۔ 

’’عاطون! آج سے میں بھی تمہارے خدائے واحد کا شکر ادا کرتی ہوں تم سور ہے تھے اور میں تمہارے رب واحد کے حضور دست بہ دعا تھی۔ اس نے میری دعا قبول کرلی اور زہر کا اثر زائل کر دیا۔ ‘‘ 

میں اپنے جسم میں ایک نئی توانائی اور تازگی محسوس کر رہا تھا۔ رتھ بان زال بھی بہت مسرور تھا۔ اس کی جھریوں بھری آنکھوں میں خوشی کے آنسو جھلک کر رہے تھے۔ دور ملک شام کے قدیم شہر دمشق کے سوار نظر آنے لگے اور ہمارا رتھ بان آگے بڑھتا چلا گیا۔ شہر کے دروازے پر پہرے داروں نے مجھ سے پوچھا کہ میں کون ہوں اور دمشق میں میری آمد کی غرض و غایت کیا ہے۔ میں نے کہا۔ 

’’ میرا نام عاطون ہے۔ میں مصری طبیب ہوں اور جڑی بوٹیوں کی تجارت کرتا ہوں۔ یہ میری بیوی سمارا ہے۔ ہم دمشق میں کچھ عرصہ قیام کریں گے۔‘‘ 

ہمیں شہر میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی۔ 

دمشق میں ہم اپنی نئی زندگی کا آغاز کر چکے تھے۔ میں نے اپنی بیوی کے زیور اور جواہرات فروخت کر کے شہر کنارے ایک پختہ اینٹوں والا مکان خرید لیا تھا۔ میں صحرا میں گھوم پھر کر جڑی بوٹیاں تلاش کرتا اور اس سے مریضوں کا علاج کرتا۔ میرے والد کی دی ہوئی کتاب طب میں ایسے ایسے قدیم نسخے تھے کہ میری ہاتھوں بے حد تشویش ناک امراض میں مبتلا مریضوں کو شفا ہوئی۔ دمشق میں میری شہرت عام ہوگئی۔ اس وقت دمشق پر حموربی کی تیسری اولاد میں سے ایک کاہل اور عیاش بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ میں امیروں اور وزیروں کے محلوں میں بھی جا کر علاج کرتا۔ میں نے اپنے لئے دریا کے کنارے ایک حویلی بنوالی۔ ایک با رمجھے شاہی محل میں بھی بلوایا گیا۔ ایک عمرہ رسیدہ کنواری شہزادی پیٹ کے مرض کہنہ میں مبتلا تھی۔ میں نے اس کا علاج کیا۔ اسے شفا ہوگئی۔ بادشاہ نے مجھے دربار میں کرسی پیش کی۔ میں خوب جانتا تھا کہ اگر میں نے انکار کیا تو میرا سر قلم کر دیا جائے گا۔ اگرچہ میرا دل شاہی محلات سے بے زار ہوچکا تھا مگر اپنی جان بچانے کے لئے میں نے دربار کی کرسی قبول کر لی۔ 

دربار کے شاہی طبیب کو یہ بات سخت ناگوار لگی۔ اس نے میرے خلاف باقاعدہ سازش کا آغاز کر دیا۔ مجھے ان درباری جھمیلوں میں پڑ کر کیا لینا تھا۔ میں اپنے گھر میں اپنی پیاری بیوی کے ساتھ بہت خوش و خرم تھا مگر میں دربار بھی نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ آپ آج کے پاکستان میں رہ کر ایک جمہوری دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ آپ آج سے چھ ہزار برس پہلے کی شہنشاہیت کا صحیح تصور بھی نہیں کر سکتے۔ آپ نے بادشاہوں کے عہد کی تاریخی کہانیاں ہی پڑھی ہیں مگر میں خود اس دور میں سے گزر کر آپ کے عہد تک پہنچا ہوں۔ اس لئے ان کو حرف بحرف سچے اور اپنے اوپر بیتے ہوئے واقعات اور تجربات بیان کر رہا ہوں۔ شاہی دربار کی زندگی سے وابستہ ہونے کے بعد آپ کے وہاں سے نکلنے کے دو ہی صورتیں ہو سکتی تھیں۔ پہلی یہ کہ بادشاہ آپ کو زہر دے کر ہلاک کروا دے اور دوسری یہ کہ آپ خود زہر کھا کر خود کشی کر لیں۔ تیسری کوئی صورت نہیں ہوا کرتی تھی۔ 

(جاری ہے... اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں )

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار