عمران خان کی ایک اور وعدہ خلافی پکڑی گئی ، پی ٹی آئی کے اعتراض پر فیصل صالح حیات کی درخواست مسترد

عمران خان کی ایک اور وعدہ خلافی پکڑی گئی ، پی ٹی آئی کے اعتراض پر فیصل صالح ...
عمران خان کی ایک اور وعدہ خلافی پکڑی گئی ، پی ٹی آئی کے اعتراض پر فیصل صالح حیات کی درخواست مسترد

  

اسلام آباد،لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین پاکستان کے نئے وزیراعظم کا آئندہ چند رو زمیں حلف اٹھانے جارہے ہیں لیکن ایسے میں ان کی ایک اور وعدہ خلافی پکڑی گئی ۔تحریک انصاف کے امیدوار کے اعتراض پر دوبارہ گنتی نہ ہونے کی وجہ سے پیپلزپارٹی کے فیصل صالح حیات نے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔ یادرہے کہ اس سے قبل این اے 131 میں بھی یہی اعتراض کیا جاچکا ہے ۔ 

تفصیلات کے مطابق عمران خان نے اپنے پہلے ہی خطاب میں اعلان کیاتھا کہ جن حلقوں پر کسی امیدوار یا جماعت کو اعتراض ہے ، وہ سب کھلوانے کیلئے تیار ہیں لیکن اب تحریک انصاف کے اعتراض پر پیپلزپارٹی کے فیصل صالح حیات کے حلقے میں ووٹوں کی گنتی ریٹرننگ افسر نے روک دی اور بتایاکہ تحریک انصاف کے امیدوار صاحبزادہ محمد محبوب سلطان نے پولنگ ایجنٹ کے توسط سے دوبارہ گنتی کی مخالفت کی ہے ۔ دی نیوز کے مطابق ریٹرننگ افسر اعجاز علی نے این اے 114جھنگ میں دوبارہ گنتی اس وقت روکی جب 10پولنگ سٹیشنز کی گنتی مکمل ہوچکی تھی اور ان پولنگ سٹیشنز میں84ووٹ کم ہوئے ۔ فیصل صالح حیات نے اپنی درخواست میں موقف اپنایاتھاکہ درخواست قانون کے مطابق ہے ، ہارنے اور جیتنے والے امیدواروں کے ووٹوں میں صرف 589ووٹوں کا فرق ہے جبکہ ووٹوں کا گنتی کا عمل اندھیرے میں مکمل کیاگیاتھاجس کی وجہ سے امکان ہے کہ ان کا ووٹ جیتنے والے یا کسی اورامیدوار کے حق میں چلاگیا ہو۔

ریٹرننگ افسر نے اپنے فیصلے میں بتایاکہ تحریک انصاف کے امیدوار نے اپنے پولنگ ایجنٹ کے ذریعے دوبارہ گنتی کی مخالفت کی تاہم درخواست گزار کی تسلی اور الیکشن پراسیس میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے کچھ پولنگ سٹیشنز کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی ہوسکتی ہے تاہم تمام ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست قانون میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے مسترد کی جاتی ہے ، یہ فیصلہ کیاگیا کہ ابتدائی طورپر دس پولنگ سٹیشن کھولتے ہیں اور اگر واضح فرق ملاتو مزید پچیس پولنگ سٹیشن کھول دیئے جائیں گے ۔

پیپلزپارٹی کے امیدوار نے الزام لگاتے ہوئے کہاکہ ریٹرننگ افسر ڈرا ہواتھا کہ تحریک انصاف کے امیدوار کے ووٹ ہر گنتی پر کم ہوتے جارہے ہیں ، اس لیے اس نے مزید پولنگ سٹیشن کھولنے سے انکار کرتے ہوئے جلدی میں رپورٹ الیکشن کمیشن کو بھیج دی ۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر سے استدعا کی کہ جلد از جلد این اے 114کی مکمل گنتی کا حکم دیا جائے ۔

ادھراسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما اور این اے 114جھنگ سے قومی اسمبلی کے امیدوار مخدوم فیصل صالح حیات نے موقف اپنایا کہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر نے فیصلہ کیا کہ ابتدائی طور پر دس پولنگ سٹیشنوں میں دوبارہ گنتی ہوگی۔ ٹھوس شواہد ملنے پر مزید 25پولنگ سٹیشنوں کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی ہو گی۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق فیصل صالح حیات کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد میں 155ووٹوں کا مزید اضافہ ہو گیا مگر مزید 25پولنگ سٹیشنوں کے ووٹوں کی گنتی کے پہلے احکامات پر عملدرآمد روک دیا گیا۔ مخدوم فیصل صالح حیات نے اپنی درخواست میں کہا کہ ریٹرننگ افسر کا مزید پولنگ سٹیشنوں میں ووٹوں کی گنتی سے انکار اور انتخابی نتائج کے خلاف ان کے ٹھوس شواہد انتخابات کی شفافیت اور انصاف سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں لہذا ان کی استدعا ہے کہ این اے 114میں تمام ووٹوں کی از سر نو گنتی کے احکامات جاری کئے جائیں، ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے عمل کو روکنا تحریک انصاف کے امید وار کی جانب سے بدترین دھاندلی کی مثال ہو گی۔

مزید : الیکشن /قومی اسمبلی