قانونی تلوار سے فلسطینی پناہ گزینوں کے ’حق واپسی‘ کو ختم کرنے کی امریکی سازش

قانونی تلوار سے فلسطینی پناہ گزینوں کے ’حق واپسی‘ کو ختم کرنے کی امریکی سازش
قانونی تلوار سے فلسطینی پناہ گزینوں کے ’حق واپسی‘ کو ختم کرنے کی امریکی سازش

  


واشنگٹن(آن لائن)امریکا کی جانب سے فلسطینی پناہ گزینوں کی مالی امداد بند کیے جانے کے بعد اب نام نہاد قوانین کے ذریعے فلسطینیوں کی اپنے علاقوں میں واپسی اور آباد کاری کے حق کو ختم کرنے کی نئی سازش شروع کر دی گئی ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق امریکی کانگریس میں ایک نیا بل پیش کیا گیا ہے جس میں فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد کم سے کم ظاہر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ناقدین نے اس بل کو فلسطینیوں کے ’حق واپسی‘ کوناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی ایک نئی سازش سے تعبیر کیا ہے۔امریکی کانگریس میں یہ نیا بل ری پبلیکن پارٹی کے رکن ڈوگ لامبرون نے پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ نے جنگ کے بعد چھ لاکھ فلسطینیوں کی واپس ان کے علاقوں میں آباد کاری اور مہاجرین کی مالی کفالت کے لیے ‘اونروا‘ ایجنسی قائم کی۔70 سال گذرنے کے بعد دنیا بھر میں فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد 53 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ فلسطینی پناہ گزینوں کی دوسری اور تیسری نسل بھی پناہ گزین قرار دی جا رہی ہے، ان پر بھاری بجٹ صرف ہو رہا ہے۔ انہی کی وجہ سے پناہ گزینوں کا نہ ختم ہونے والا مسئلہ پیدا ہوا۔ لہٰذا دوسری اور تیسری نسل میں شامل فلسطینیوں کو پناہ گزین شمار نہ کیا جائے۔

اْنہوں نے تسلیم کیا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کی بہبود کے لے قائم کردہ ’ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی’اونروا کو سیاسی اور اقتصادی طورپر اس لیے کمزور کیا جا رہا ہے تاکہ وہ کم سے کم فلسطینی پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھائے۔ ان کے نئے مسودہ قانون کا مقصد یہ ہے کہ پناہ گزینوں کا ’سٹیٹس‘ صرف ان فلسطینیوں کو دیا جائے جو 1948کی جنگ میں فلسطین سے نکالے گئے۔ ان کی اولاد اور دوری اور تیسری نسل کو ان میں شامل نہ کیا جائے۔ اسی طرح ان فلسطینیوں کو بھی پناہ گزین قرار نہ دیا جائے جو دوسرے ملکوں کی شہریت حاصل کرچکے ہیں۔ 

رپورٹ کے مطابق ایسی صورت میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے 50 لاکھ ڈالر کی رقم ہی کافی رہے گی۔واشنگٹن میں مڈل ایسٹ پیس انسٹیٹیوٹ کی خاتون ڈائریکٹر لارا فریڈمین کا کہنا ہے کہ امریکی کانگریس میں پیش کردہ بل کا مقصد فلسطینی پناہ گزینوں کی مالی امداد روکنے کے لیے قانون سازی نہیں بلکہ اس کا مقصد فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد کم سے کم کرنے کی کوشش ہے۔ جب ’اونروا‘ ایجنسی پر فلسطینی پناہ گزینوں کی دوسری اور تیسری نسل کا بوجھ نہیں رہے گا تو ان کے مسئلے کو آسانی کے ساتھ حل کیا جاسکتا ہے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...