تحریک انصاف کو ایک اور بڑی کامیابی مل گئی ،ایسے نو منتخب ممبر اسمبلی نے ساتھ دینے کا اعلان کر دیا کہ مولانا فضل الرحمن کی پریشانی کی کوئی حد نہ رہے گی

تحریک انصاف کو ایک اور بڑی کامیابی مل گئی ،ایسے نو منتخب ممبر اسمبلی نے ساتھ ...
تحریک انصاف کو ایک اور بڑی کامیابی مل گئی ،ایسے نو منتخب ممبر اسمبلی نے ساتھ دینے کا اعلان کر دیا کہ مولانا فضل الرحمن کی پریشانی کی کوئی حد نہ رہے گی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پی پی 126جھنگ سےآزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے ممبر پنجاب اسمبلی اور سابق رکن قومی اسمبلی مولانا اعظم طارق مرحوم کے صاحبزادے مو لانا معاویہ اعظم کی تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین سے ملاقات ،جھنگ کی ترقی و خوشحالی ،یونیورسٹی کے قیام اور تحفظ  ناموس رسالت ﷺ و ناموس صحابہؓ کے قانون کے تحفظ کی یقین دہانی پر پی ٹی آئی کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ،عمران خان سے کسی بھی وقت ملاقات متوقع ،یاد رہے کہ مولانا معاویہ اعظم ملک کی بڑی مذہبی جماعت اہل سنت والجماعت کے مرکزی رہنما ہیں اور عام انتخابات  2018 میں ان کی جماعت نے مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں قائم متحدہ مجلس عمل کی کھل کر مخالفت کی تھی جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان سے مولانا فضل الرحمن کے مقابلے میں تحریک انصاف کے امیدوار علی امین گنڈا پور کی حمایت کی تھی جنہوں نےجے یو آئی سربراہ  کو بڑے مارجن سے شکست دی تھی ۔یاد رہے کہاس سے پہلے جھنگ کی اسی سیٹ پر 2016 کے ضمنی الیکشن میں اہلسنت و الجماعت کے حمایت یافتہ اور  مولانا حق نواز جھنگوی کے صاحبزادے مسرور نواز جھنگوی نے کامیابی حاصل کر کے جمعیت علمائے اسلام ف میں شمولیت اختیار کرلی تھی اور پنجاب اسمبلی میں جے یو آئی ف کے پارلیمانی لیڈر مقرر ہوئے تھے ۔

تفصیلات کے مطابق روزنامہ ’’پاکستان ‘‘ کے ذرائع کے مطابق جھنگ سے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے والے مولانا معاویہ اعظم طارق نے تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر خان ترین سے ملاقات کر کے آزاد حیثیت میں پی ٹی آئی کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ہے،اس سے پہلے سابق گورنر پنجاب اور تحریک انصاف کے سینئر رہنما چوہدری محمد سرور دیگر رہنماؤں کے ساتھ جھنگ میں ان کی رہائش گاہ  پر ملاقات کر کے تحریک انصاف کے لئے حمایت کی اپیل کی تھی ،ملاقات میں مولانا محمد احمد لدھیانوی اور اہلسنت والجماعت کے دیگر رہنما بھی موجود تھے ۔جہانگیر خان ترین سے ہونے والی ملاقات میں مولانا محمد معاویہ اعظم نے  ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیلی  تبالہ خیال کیا اور انہیں جھنگ کی ترقی و خوشحالی کے لیے ترقیاتی کام کروانے ،یونیورسٹی کے قیام ،سوئی گیس کی فراہمی اور ملک میں  قانون ناموس رسالت ﷺ و ناموس صحابہؓ  کے تحفظ کے حوالے سے گفتگو کی ۔مولانا معاویہ اعظم کی حمایت حاصل کرنے کے لئے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ بھی اپنے وفد کے ہمراہ جھنگ میں مولانا احمد لدھیانوی اور معاویہ اعظم سے ملاقات کر چکے ہیں تاہم اہلسنت والجماعت نے مشاورت کے بعد  مسلم لیگ ن کی حمایت سے انکار کر دیا تھا ۔ 

دوسری طرف مولانا معاویہ اعظم طارق نے روزنامہ ’’پاکستان‘‘ سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اللہ کے فضل سے جھنگ کے لوگوں نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے تمام تر سازشوں اور رکاوٹوں کے باوجود انہیں بھاری اکثریت سے کامیاب کرایا ہے جس پر میں اہلیان جھنگ کا مشکور ہوں اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ جس طرح میرے والد گرامی نے تین بار قومی اسمبلی کا ممبر منتخب ہونے کے بعد اپنی ذات کی بجائے تحفظ ناموس صحابہؓ کے مشن اور اہلیان جھنگ کی خدمت میں کوئی کوتاہی نہ کی تھی میں بھی اپنی کامیابی کے بعد اپنی تمام تر صلاحیتیں جھنگ کی تعمیر و ترقی کے لئے وقف کر دوں گا ۔انہوں نے کہا کہ جھنگ میں یونیورسٹی میڈیکل کالج، انڈسٹریل فری زون کا قیام ،جدید سیوریج سسٹم کی تکمیل اور جھنگ کو ڈویژن کا درجہ بنیادی مطالبات ہیں اور مجھے یقین ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے ان تمام مطالبات کو پورا کرانے میں کامیاب ہوں گا ۔انہوں نے کہا  کہ بعض ٹی وی چینلز نے ان کے بارے میں بے بنیاد اور جھوٹی خبریں چلائیں کہ میں نے اپنے لئے کسی وزارت کی ڈیمانڈ کی ہے ،ان خبروں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ،مسلم لیگ ن نے بھی ان سے حمایت کے لئے رابطہ کیا اور رانا ثنا اللہ جھنگ میں ہمارے گھر آئے ،ماضی کے رویوں کو دیکھتے ہوئے اہلیان جھنگ کی خواہش اور عوام دوست منشور کی وجہ سے تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کیا ہے،کسی بھی عہدے یا اپنی ذات کیلیے کوئی ڈیمانڈ نہیں،بس میرے جھنگ کی احساس محرومی ختم ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنے والد گرامی کی طرح کسی پارٹی میں شامل نہیں ہوئے بلکہ آزاد حیثیت میں رہتے ہوئے اصولی بنیادوں پر تحریک انصاف کی حمایت کی ہے ،ہمیں جہاں محسوس ہوا کہ تحریک انصاف کی حکومت اپنے منشور سے ہٹ رہی ہے تو کسی دباؤ اور لالچ کے بغیر اس کی مخالفت کی جائے گی ۔

 

واضح رہے کہ مولانا معاویہ  کے والد اور کالعدم سپاہ صحابہؓ پاکستان کے سربراہ مولانا اعظم طارق مرحوم   کئی مرتبہ ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور انہیں یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ انہوں نے جیل میں رہ کر جھنگ سے قومی اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کی تھی ،2002 میں مولانا فضل الرحمان وزارت عظمیٰ کے امیدوار تھے اور ان کے مقابلے میں مسلم لیگ ق کے میر ظفراللہ خان جمالی تھے ، ظفر اللہ خان جمالی ایک ووٹ سے وزیر اعظم بنے اور وہ ایک ووٹ سپاہ صحابہؓ کے نائب سر پرست اعلی اور جھنگ سے منتخب رکن قومی اسمبلی مولانا اعظم طارق کا تھا ۔مولانا اعظم طارق کو  6 اکتوبر 2003 کو گولڑہ موڑ اسلام آباد  میں  قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے جاتے ہوئے ٹول پلازہ کےقریب گاڑیوں میں سوار نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے چار ساتھیوں سمیت قتل کر دیا گیا تھا ۔

مزید : قومی