چیئر مین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد کیوں ناکام ہوئی؟

چیئر مین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد کیوں ناکام ہوئی؟
چیئر مین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد کیوں ناکام ہوئی؟

  

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کیلئے اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں جہاں پرامید تھیں کہ وہ آسانی سے صادق سنجرانی کو سینیٹ کی چیئر مین شپ سے محروم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی تو دوسری جانب حکومتی حلقوں کی جانب سے بھی مکمل اطمینان کا اظہار اور صادق سنجرانی کیخلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے دعوئے کئے جارہے تھے ،حیرت انگیز طور پر اپوزیشن کو جہاں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑاہے تو وہاں حکومتی وزرا ءکے دعوے درست ثابت ہوئے ہیں۔ اپوزیشن کو سینیٹ میں واضح اکثریت رکھنے کے باوجود خفت اورشرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ حکومتی صفوں میں جشن منایا جا رہا ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایوان بالا میں اپوزیشن کو65 ارکان کے ساتھ واضح اکثریت حاصل تھی اور چیئر مین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے نتیجے میں صادق سنجرانی کے بچنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی تھی ، جہاں تک حکومت کے اطمینان اور تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے دعوﺅں کا تعلق ہے تو اس کے لئے ہمیں پاکستان کی سیاست کے معروضی حالات کا جائزہ لیناہوگا۔

ایوان بالا کے ارکان عوام کے ووٹوں سے براہ راست منتخب نہیں ہوتے بلکہ ان کا انتخاب قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان خفیہ رائے شماری کے ذریعے کرتے ہیں اور اس موقع پر ملک میں جو مچھلی منڈی لگتی ہے اور جس طرح ارکان اسمبلی کی کروڑوں میں خرید وفروخت کی جاتی ہے ، وہ معاملہ کسی سے ڈھکا چھپانہیں ہے۔اس لئے جو امیدوار کروڑوں روپے خرچ کرکے ایوان بالا تک رسائی پاتے ہیں۔ ان کی وفاداریاں کسی سیاسی جماعت سے زیادہ اپنے مفادات سے وابستہ ہوتی ہیں جن کے تحفظ کیلئے اتنی بھاگ دوڑ کی جاتی ہے۔

ملک کی موجود ہ سیاسی صورتحال کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس وقت اپوزیشن شدید دباﺅ کا شکار ہے ، ایک طرف جہاں اپوزیشن کی بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت مختلف مقدمات کے تحت جیلوں میں بند ہے اور سزابھگت رہی ہے تو ساتھ ہی حکومتی وزراءکی جانب سے احتساب کے عمل میں شدت لانے کے دعوے بھی تواتر سے کئے جارہے ہیں اور اپوزیشن کی مزید گرفتاریوں کا مڑدہ سنایا جارہا ہے جبکہ عوامی سطح پر بھی اپوزیشن کی تمام تحریک اور دعوﺅں کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ عوام ابھی کسی احتجاج تحریک کا حصہ بننے کیلئے تیار نظر نہیں آتے اور تحریک انصاف کی حکومت کو مکمل موقع دینے کے موڈ میں ہیں۔

ایسے میں اپوزیشن میں بھی ایسے سینیٹرز حضرات کی کمی نہیں ہے جواس ساری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کا جائزہ لے تھے کہ ان کے مفادات کا تحفظ کس صورت ممکن ہوسکتا ہے اور وہ بھی اس صورت میں کہ جب ن لیگ یا پیپلز پارٹی کے مستقبل قریب میں طاقت میں آنے کے امکانات موجود نہیں ہیں اور تحریک انصاف کی حکومت کو ریاستی اداروں کی بھی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔

اس کے علاوہ بعض دفاعی تجزیہ کار بھی اس بات کا عندیہ دے چکے تھے کہ سینیٹرز کو اپنے ضمیر کے مطابق تحریک عدم اعتماد کی خفیہ رائے میں حصہ لیں گے ، یو ں یہ وہ پہلو ہیں جن کومدنظر رکھا جائے تو چیئر مین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر سینیٹ میں واضح اقلیت میں ہونے کے باوجود حکومتی اطمینان کی وجہ سمجھ میں آتی تھی جو حکومتی توقع کے عین مطابق ناکام ہوئی ۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -