سندھ، چناب کی بے رحمی، ہزاروں ایکڑ اراضی، سینکڑون بستیاں دریا، بود لوگ دربدر

سندھ، چناب کی بے رحمی، ہزاروں ایکڑ اراضی، سینکڑون بستیاں دریا، بود لوگ دربدر

  

مظفرگڑھ(نمائندہ خصوصی)ضلع کی چاروں تحصیلوں میں دریائے سندھ اور(بقیہ نمبر46صفحہ7پر)

 دریائے چناب کے کٹاؤ نے تباہی مچادی،کئی سالوں سے مسلسل ہونے والے کٹاؤ کے باعث ابتک ہزاروں ایکڑ اراضی اور ان پر کھڑی فصلیں،باغات اور مکانات دریا برد ہوچکے ہیں.تفصیلات کیمطابق تحصیل مظفرگڑھ کے علاقوں بیٹ دریائی،بیٹ کبھڑ،کلیم چوک،چین والا سمیت ملحقہ بستیوں میں دریائے سندھ کے کٹاؤ میں شدت آگئی ہے جبکہ موضع جڑھ،چک مٹھن،سپربند نمبر 3 اور ملحلقہ بستیوں میں دریائے چناب کے کٹاؤ کے باعث ابتک سینکڑوں ایکڑ زمین اور اس پر کھڑی فصلیں دریا برد ہوچکی ہیں.تحصیل کوٹ ادو میں احسانپور،بیٹ خادم والی سمیت مختلف بستیوں میں 2010ء  کے سیلاب کے بعد سے دریائے سندھ کے کٹاؤ میں تیزی آئی ہے،کٹاؤ کے باعث ابتک تحصیل کوٹ ادو کی بھی کئی بستیاں دریا برد ہوچکی ہیں.بستی چانڈیہ،گرمانی،مشوری،میرانی، خوشحالی اور گاڈی سمیت کئی بستیوں کو آنے والے سالوں میں دریائی کٹاؤ سے شدید خطرہ ہوسکتا ہے.تحصیل جتوئی میں لنڈی پتافی،موضع رام پور اول،موضع رام پور دوئم اور موضع رام پور سوئم سمیت ملحقہ بستیوں کی سینکڑوں ایکڑ اراضی ابتک دریائے سندھ کی نذر ہوگئی ہے،،جبکہ تحصیل علی پور میں سیت پور،بستی سانگھی سمیت مختلف قریبی بستیوں کی بھی ابتک کئی ایکڑ اراضی دریائے سندھ کی نذر ہوگئی ہے.کٹاؤ سے متاثرہ افراد کیمطابق دریائی کٹاؤ کے باعث ان کے باغات،مکانات،کپاس،چاول اور دیگر فصلیں بھی برباد ہوگئی ہیں.فصلیں،باغات اور مکانات تباہ ہونے سے متاثرہ افراد کو کروڑوں روپے کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا،متاثرہ علاقوں کے رہائشی حکومت،ممبران اسمبلی،ضلعی انتظامیہ اور محکمہ انہار کی روایتی بے حسی سے خوش نہیں،ان کا کہنا تھا کہ خوشحال زندگی گزارنے والے بڑے بڑے کئی زمیندار دریائی کٹاؤ کے باعث ایک ایک روپے کے محتاج ہوگئے ہیں مگر حکومت،ممبران اسمبلی اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دریائی کٹاؤ کو روکنے کے لیے کوئی سنجیدہ اقدامات نہ اٹھائے گئے،ہرسال سپربندوں کی تعمیر ومرمت کے نام پر ممبران اسمبلی اور ضلعی انتظامیہ اور محکمہ انہار کے کرپٹ آفیسران کرپشن کے اس آسان اور ناقابل پیمائش طریقہ کار کے ذریعے کروڑوں روپے کی سالانہ خرد برد کرتے ہیں جس کا خمیازہ متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے.انھوں نے وزیراعظم عمران خان اور حکومت سے اپیل کی کہ متاثرہ علاقوں میں سپربندوں کی تعمیر ومرمت جلد ازجلد شروع کرکے ان کے نقصانات میں کمی لانے کے اقدامات اٹھائے جائیں،انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ سپر بندوں کی تعمیرومرمت میں شفافیت لانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں تاکہ مقامی شہریوں کے لیے اہمیت کے حامل یہ منصوبے شفاف طریقے سے نہ صرف مکمل ہوسکیں بلکہ ان کی تکمیل سے مقامی آبادیوں کو بھی حقیقی فائدہ حاصل ہوسکے.دوسری جانب محکمہ انہار کے مطابق ضلع بھر میں سپر بندوں اور مختلف ذرائع سے دریائی کٹاؤ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں.

کٹاؤ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -