ہر حکومت میں شریک، بری الذمہ کیسے ہوگئے؟

ہر حکومت میں شریک، بری الذمہ کیسے ہوگئے؟
ہر حکومت میں شریک، بری الذمہ کیسے ہوگئے؟

  

ہمارے پیارے پاکستان میں سیاست نے جو رُخ اختیارکیا اس نے اخلاق اور انسانیت بھی بھلا دی ہے اور اب انسانی مصائب و مسائل پر بھی سیاست ہی ہوتی ہے،مون سون کی بارشوں نے شمال سے جنوب تک تباہی مچائی،لیکن ہم سیاست کراچی اور حیدر آباد پر کر رہے ہیں اور انسانیت کی بنا پر پریشان حال لوگوں کی مدد اور مسائل کی وجوہ تلاش کر کے حل تجویز کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہیں،کراچی بلاشبہ ایک بڑا شہر ہے اور وہاں بارشوں کی وجہ سے پانی نے شہریوں کا جو حال کیا ہے وہ الیکٹرونک میڈیا سے نظر بھی آ رہا ہے،تاہم کوریج کی اس نہج نے یہ سوال اٹھا دیا کہ کیا بارش نے صرف کراچی اور حیدر آباد ہی میں ایسا کیا ہے، کیا ناران،کاغان، آزاد کشمیر، مانسہرہ جیسے علاقے بالکل محفوظ رہے ہیں، کیا فیصل آباد، گوجرانوالہ،سیالکوٹ، لاہور، ملتان اور صادق آباد میں بارش اور نہری پانی نے کوئی نقصان نہیں کیا،کیا آج بھی الیکٹرانک میڈیا کو کسی قوت کا خوف ہے، یا بانی کے بعد بھی خوفزدہ کرنے والی قوتیں موجود ہیں؟

بلاشبہ کراچی اور حیدر آباد متاثر ہوئے اور یہ بھی درست ہے کہ گزشتہ گیارہ سال سے سندھ پر پیپلزپارٹی حکومت کر رہی ہے۔ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ صوبائی حکومت کا ”جرم“ تو ہے اور کہا بھی جا رہا ہے تاہم کوئی بتائے گا کہ کراچی اور حیدر آباد کے بلدیاتی اداروں پر کس کی حکومت ہے؟ اور ماضی میں رہی ہے، کیا یہ درست نہیں کہ آج واویلا کرنے والے کراچی کے میئر اور کراچی سے تعلق رکھنے والے وزراء اس میں برابر کے شریک ہیں، محترم میئر اور وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی کو بات کرتے وقت ماضی پر نظر ڈالنا چاہئے کہ ان کی جماعت ماضی کی کس حکومت کا حصہ نہیں رہی اور پھر ان کے بانی کے خلاف جو الزام ہیں یہ ان سے بری الذمہ کیسے ہو گئے؟ جو ان کے اشارہ ابرو پر جان قربان کرتے تھے، کیا اب تک ان حضرات نے خود دورِ اقتدار میں شرکت کا حساب دیا اور کیا آج کی متحدہ(پاکستان) نے بانی کے گناہوں میں شرکت اور ان کے احکام کی تکمیل پر توبہ کی اور لاتعلقی کا اظہار کیا؟ ان حضرات کو ان سوالوں کا جواب دینا ہو گا کہ مصطفےٰ کمال نے یہ مثال پیدا کی،لیکن یہ جو آج بھی وفاقی حکومت کا حصہ ہیں اور ایک مزید وزارت کا وعدہ لے چکے ہیں۔ یہ کیوں اپنے مسائل کو ”گناہوں“ سے پاک گردانتے ہیں؟

بارش اور اس کے باعث سیلاب قدرتی آفت ہے اس پر انسان کا بس نہیں،انسان تو بروقت بہتر اقدامات کے ذریعے اثرات میں کمی اور حادثات سے بچنے کی تدبیر کر سکتا ہے،اس مرتبہ صرف محکمہ موسمیات،بلکہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی طرف سے بار بار وارننگ دی گئی کہ اس سیزن میں غیر متوقع طور پر شدید بارشیں ہوں گی اور ندی، نالوں اور دریاؤں میں سیلابی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔ پوچھا تو یہ جانا چاہئے کہ وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں نے کیا پیشگی حفاظتی اقدامات کئے، اور ان کے باعث نقصان میں کیا کمی ہوئی،یہ بھی پوچھا جائے گا کہ آج فنڈز اور آلات کی کمی کا رونا رونے والوں نے پہلے فنڈز اور آلات کا کیا کِیا؟ کیا نیب کو ان بلدیاتی اداروں کے سربراہوں سے موجودہ دور اور سابقہ ادوار کا حساب نہیں لینا چاہئے، اور کیا صوبائی حکومتوں کا یہ فرض نہیں کہ وہ نہ صرف متاثرین کی مدد اور ان سے تعاون کریں،بلکہ یہ بھی تحقیق کریں کہ ایسی کیفیت کے اصل اسباب کیا ہیں اور ان کو کیسے دور کیا جا سکتا ہے،لیکن دُکھ تو یہ ہے کہ یہاں سیاست ہو رہی ہے اور الزام تراشی ہی سے کسی کو فرصت نہیں۔

خیبرپختونخوا، پنجاب اور آزاد کشمیر میں جو کچھ ہوا اور جتنا نقصان اسلام آباد اور راولپنڈی میں ہوا،اس پر کون بات کر رہا ہے اور پھر اس الیکٹرونک میڈیا کو کیا ہو گیا،جو بلوچستان پر توجہ مرکوز نہیں کر رہا،اس صوبہ کو حساس تو سبھی قرار دیتے ہیں،لیکن بارشوں کی وجہ سے ندی نالوں نے جو تباہی مچائی اس کا ذکر کیوں نہیں؟ بلوچستان حکومت کے وزیراعلیٰ سے کسی نے پوچھا کہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اسلام آباد میں صادق سنجرانی کی کرسی بچانے کے لئے کیوں بیٹھے ہیں اور سرکاری خرچ پر کیسی سیاست کر رہے ہیں کہ ان کا صوبہ پانی کی زد میں ہے اور دشمن دھماکے اور فائرنگ سے شہادتیں کرا رہا ہے، وہ کہاں ہیں، اس کا جواب بھی تو لینا چاہئے، پھر ہماری محترم معاون خصوصی برائے اطلاعات کو یہ تو علم ہے کہ سندھ کی حکومت ناکام ہو گئی ہے،لیکن ان کو یہ کیوں یاد نہیں کہ خیبرپختونخوا میں تو سیاحوں کو پھنسے کئی کئی روز گزر گئے تھے، لینڈ سلائیڈنگ نے کئی گھر اجاڑ دیئے اور یہاں لاہور میں جو حال ہوا وہ ان کی آنکھ سے اُوجھل کیوں ہے؟ اللہ کا نام لیں اور انسانی المیئے پر سیاست نہ کریں۔

آیئے ہم آپ کو لاہور کی معمولی جھلک دکھا دیں، ہم دفتر آنے جانے کے لئے سپیڈو بس کا سہارا لیتے ہیں کہ ابھی تک بسیں نئی ہیں۔اگرچہ روز بروز ان کی حالت بھی لاہور ٹرانسپورٹ سسٹم کی طرح پتلی ہونا شروع ہو گئی ہے۔ بہرحال 20روپے میں ٹھنڈی بس میں سفر بھلا معلوم ہوتا ہے۔گزشتہ روز(منگل) کو بارش ذرا تھمی تو ہم کام مکمل کر کے قریباً ساڑھے چار بجے بس پر بیٹھے جو قرطبہ چوک سے ملتان روڈ چونگی جاتی ہے،ہمارے گھر تک والی سڑک کا سفر عموماً 20سے25منٹ میں ہوتا ہے،لیکن گزشتہ روز فیروز پور روڈ پر بس رینگ بھی نہیں رہی تھی،جھٹکے جھٹکے سے چل رہی تھی کہ ایک سو دس فٹ کی سڑک پر بھی ٹریفک جام تھا کیونکہ فیروز پور روڈ پر بارش کا پانی جمع اور سڑک دریا کا منظر پیش کر رہی تھی۔یہی نہیں قرطبہ چوک، جیل روڈ، مال روڈ معہ گورنر ہاؤس اور جی پی او چوک اور شہر کے دیگر تمام علاقے ڈوبے ہوئے تھے، لکشمی چوک، نسبت روڈ، مصری شاہ، شاد باغ، سکیم نمبر2 اور مشرقی علاقے بھی دریا ہی کا منظر پیش کر رہے تھے، شاہدرہ سے گوجرانوالہ تک جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف تالاب بن چکے تھے، نالہ ڈیک نے فصلیں تباہ کر دی تھیں،لیکن یہ ذکر ہی نہیں، بات کراچی اور حیدر آباد تک محدود رہی اور پھر سیاسی محاذ آرائی میں یہ ناگہانی مصیبت بھی وجہ بن گئی۔

ہم نے مسلسل اِس امر کی اپیل کی کہ اللہ کا نام لیں، عوام جسے آپ بھی عوام ہی کہتے ہیں،ان میں اب برداشت کی سکت نہیں رہی، یکم جولائی نے مزید تباہی مچائی، ایف بی آر روزانہ وضاحت کے نام پر نئے ٹیکسوں کی نوید سنا دیتا ہے،فنانس بل جو اسمبلی میں منظور ہوا اسے اب تک مشتہر نہیں کیا گیا اور ایف بی آر ٹائپنگ کی غلطی کے نام پر بالکل نئے ٹیکس عائد کر رہا ہے۔عوام تو اب گھریلو اخراجات پورا کرنے سے قاصر ہو گئے ہیں،ابھی سے سٹریٹ کرائمز میں اضافہ ہو گیا ہے، نوجوان موٹر سائیکلوں سے لے کر بائی سائیکلوں تک چوری اور دکانوں سے سودا خریدنے والوں کو لوٹ رہے ہیں اور اب یہ جرائم نو عمر نوجوان کر رہے ہیں،لاہور کی مزید حالت خراب، محکموں نے سات مویشی منڈیوں کا اعلان کیا۔یہاں ہر محلہ اور ہر چوک مویشی منڈی بن چکا، گندگی پھیلتی ہے تو پھیلتی رہے، بلدیاتی ملازمین کی نئی آمدنی شروع ہو گئی ہے، ان مسائل پر کون دھیان دے گا، ہم تعصب پر لعنت بھیجتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ سب اس پر عمل کریں گے۔

مزید :

رائے -کالم -