بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

  

اب تو اس بارے میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں رہنی چاہیے کہ 18برس کی لاحاصل جنگ کے بعد امریکہ، افغانستان کے کوہ و دمن سے نکل رہا ہے۔ یہ ”کوہ و دمن“ اور ”بے آبرو“ ہو کر نکلنے کے شعری مرکبات، میں اپنے کالموں میں کئی بار استعمال کر چکا ہوں اس لئے اپنے قارئین سے اس ”جگالی“ کی معذرت چاہتا ہوں۔ اب امریکی وزیرخارجہ جناب پومپیؤ نے اپنے پھولے ہوئے گالوں اور حد سے نکلتی توند کے ساتھ باآواز بلند فرما دیا ہے کہ: ”صدرِ محترم اس موضوع پر کسی ابہام کا شکار نہیں۔ مجھے ہدائت دی گئی ہے کہ ’اس نہ ختم ہونے والی جنگ کو ختم کرو اور (امریکی) ٹروپس کو واپس منگواؤ‘ صدر اگلے برس نومبر2020ء سے پہلے پہلے فوج یہاں سے واپس منگوانا چاہتے ہیں۔“……

2016ء میں جب امریکہ کے صدارتی الیکشن ہوئے تھے اور ٹرمپ کامیاب ہوئے تھے تو (امریکی) عوام سے وعدہ کیا تھا کہ افغانستان سے فوج واپس بلوا کر یہ طویل جنگ ختم کر دیں گے۔ لیکن جب عنانِ اقتدار سنبھالی تو پینٹاگان کے جرنیلوں نے ان کو ورغلایا اور وہ عوام سے کئے گئے وعدے سے مکر گئے۔ ہم پاکستانیوں سے زیادہ اس حقیقت کا شناسا اور کون ہو گا کہ اس طرح کی وعدہ شکنی ہی اصل ”جمہوریت کا حسن“ ہوتی ہے! چنانچہ سابق صدر اوباما جو کابل میں 10800ٹروپس چھوڑ گئے تھے، ان میں اضافہ کر دیا گیا اور ہوتے ہوتے اب یہ تعداد 14000تک آ پہنچی ہے۔ لیکن ہم پاکستانی کہ افغانستان کے ہمسائے ہیں اور کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ سٹیک، اس تنازع میں رکھتے ہیں، یہ بھی جانتے ہیں کہ اسی افغانستان میں کبھی ایک لاکھ تیس ہزار (130000)امریکی اور ناٹو ٹروپس بھی جھونکے گئے تھے اور جن کو منہ کی کھانی پڑی تھی……مجھے یاد آیا، سکول کی آٹھویں جماعت میں ہماری اردو گرامر اور کمپوزیشن کی کتاب میں ایک باب ”اردو محاورات اور ان کے استعمال“ پر بھی تھا۔ ان محاورات میں بعض اردو محاورے ”جوتی“ سے متعلق تھے۔ مثلاً جوتیاں چٹخانا، جوتیاں سر پر رکھ کر بھاگنا، جوتیاں کھانا اور جوتیاں پڑنا وغیرہ۔ موخر الذکر محاورے (جوتیاں پڑنا) کا جو جملہ اس کتاب میں درج تھا وہ درجِ ذیل نصف اردو، نصف فارسی شعر کی صورت میں درج تھا:

پڑیں جب جوتیاں سر پر تو قول حافظ کا یاد آیا

’کہ عشق آساں نمود اول، ولے افتاد مشکل ہا‘

اس وقت ہمیں پتہ نہیں تھا کہ اس شعر کے مصرعہء ثانی کی اہمیت اور ”افادیت“ کیا ہے، حافظ صاحب کون ہیں اور ان کے قول کا کیا محل ہے۔ یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ حافظ سے مراد ایران کے مشہور ترین شعراء میں سے ایک، خواجہ حافظِ شیراز ہیں اور یہ مصرعہ، حافظ کے دیوان کی پہلی غزل کے پہلے شعر کا ہے اور زبان زدِ عام ہو کر ضرب المثل اور محاورہ بن چکا ہے۔ اصل شعر یہ ہے:

الا یا ایہّا الساقی ادر کاساً و ناول ہا

کہ عشق آساں نمود اول ولے افتاد مشکل ہا

حافظ کی اس غزل کا پہلا مصرعہ عربی زبان کا ہے جس کا مفہوم ہے: ”اے ساقی! ساغر اٹھا اور شراب نوشی کر اور ہمیں بھی کروا“…… اور دوسرے مصرعے کا مطلب ہے: ”یہ عشق کہ جسے ہم نے اختیار کر رکھا ہے، پہلے پہل آسان لگتا تھا۔ لیکن آخر اب جا کر معلوم ہوا ہے کہ یہ تو بہت مشکل کام تھا“۔ ہماری اردو کمپوزیشن کی کتاب میں ”جوتیاں سر پر پڑنے“ کا جو ”نتیجہ“ بیان کیا گیا تھا وہ بہت برمحل، بے ساختہ اور برجستہ تھا۔ حافظِ شیراز کی سی شہرت کا حامل اردو زبان کا ایک شاعر، مرزا غالب بھی ہے جس کا شعر ہے:

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن

بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

تسلیم کہ میرے بہت سے قارئین میری اس تشریح کو تضیحِ اوقات کی ذیل میں شمار کریں گے لیکن ہماری نژادِ نو چونکہ فارسی سے رفتہ رفتہ بیگانہ ء محض ہوتی جاتی ہے اس لئے یہ توضیح اس کے لئے کی گئی ہے……صاحبانِ خبر سے معافی کا خواستگار ہوں …… لیکن امریکی ٹروپس کے افغانستان سے انخلا (Draw down) کو افغانستان کے کوہ و دمن سے بے آبرو ہو کر نکلنے کی پھبتی مجھے بڑی ”شریفانہ“ معلوم ہوئی اور اس لئے ”جوتیاں پڑنے“ کے محاورے کا سہارا لینا پڑا۔ امریکی جب نو گیارہ کے بعد ایک دم افغانستان میں آدھمکے تھے تو ان کو کئی اقوام نے سمجھایا تھا کہ یہ ملک، اقوامِ غیر کا قبرستان رہا ہے، یہاں جو حملہ آور بھی کسی بدنیتی کے سبب آیا ہے، اسے منہ کی کھانی پڑی ہے۔ روس کی گریٹ گیم سے لے کر برطانیہ کی پہلی افغان وار تک افغانستان پر حملہ آور ہونے والوں کے حشر کی داستانیں تو موجود تھیں، لیکن ان پر بُش جونیئر کو اعتبار نہیں آیا تھا۔ لیکن اب 18برس بعد دنیا کی اس واحد سپرپاور کو معلوم ہو گیا ہے کہ جو ”عشق“ پہلے آسان لگتا تھا، اب کتنا مشکل ہو گیا ہے۔ امریکی افواج کی افغانستان سے یہ پسپائی تاریخ میں سپرپاورز کی تیسری پسپائی ہو گی۔

قارئین کو اب یہ بھی معلوم ہوا ہو گا کہ محترم ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان کو چند روز پہلے امریکہ آنے کی دعوت کیوں دی تھی، کشمیر پر ثالثی کا ڈول کیوں ڈالا تھا، ہمارے آرمی چیف کو پینٹاگون کے دورے کے دوران 21توپوں کی سلامی کیوں دی تھی اور ٹیکنیکل سپورٹ فنڈ کی جزوی بحالی کا اعلان کیوں کیا ہے۔ ٹرمپ اگلے صدارتی الیکشن سے پہلے کابل و قندھار خالی کرنا چاہتے ہیں اس لئے طالبان سے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کئے جا رہے۔ لیکن طالبان پر خدا کی ہزار ہزار برکات نازل کہ تیسری بار اس گریٹ گیم کے نتیجے کو اپنی جانوں کی بے محابا قربانیاں دے کر ایک بار پھر سچ ثابت کر رہے ہیں۔

دو سوال اہم ہیں …… ایک یہ کہ امریکہ کی اس پسپائی کے بعد افغانستان کی داخلی صورتِ حال کا کیف و کم کیا ہو گا اور دوسری یہ کہ پاکستان پر اس کے (اچھے یا بُرے) اثرات کیا پڑیں گے؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ طالبان اپنی اس جیتی ہوئی جنگ کو دوحہ یا اوسلو یا کسی اور ملک / شہر میں مذاکرات کی کسی میز پر بیٹھ کر ہار نہیں سکتے۔ ان کو معلوم ہے کہ انہوں نے کیا کرنا ہے۔ ابھی کل ہی (سوموار) دو امریکی سولجر افغانستان میں کسی جگہ مارے گئے تھے۔ ان کے نام صیغہء راز میں رکھے گئے ہیں۔یہی وہ اٹریشن (Attrition) کا عمل ہے جو امریکن ہاتھی کی سونڈ میں گھس کر اس کا جینا دوبھر کر رہا ہے۔ اگست 2019ء سے نومبر 2020ء تک 15ماہ کا عرصہ ہے۔ کیا طالبان اس عرصے میں اپنی اس آہستہ لیکن مسلسل یلغار (Slow Offensive) کو ترک کر دیں گے؟…… بالکل نہیں …… امریکہ پاکستان سے جس مدد کا طالب ہے (بلکہ درخواست کر رہا ہے) وہ یہی ہے کہ آنے والے 15ماہ میں امریکی اتلافات (Casualties) کو کم سے کم رکھا جائے۔ لیکن افغانوں کا ماضی اس حقیقت کا شاہد ہے کہ فرسٹ افغان وار میں پوری کی پوری برٹش آرمی کو انہی طالبان کے اسلاف نے اس طرح ختم کر دیا تھا کہ اس کا صرف ایک ڈاکٹر انتہائی کسمپرسی کے عالم میں جلال آباد پہنچ پایا تھا…… اور اسے بھی افغانوں نے خود جانے دیا تھا!

دوسری بات جو آنے والے 15ماہ میں پاکستانی سٹیک کو ایک نہایت گراں بہا اہمیت عطا کرتی ہے وہ افغانستان میں بھارتی اثر و رسوخ کا مسئلہ ہے۔ اگر کل کلاں افغانستان میں ایک ایسی حکومت تشکیل پاتی ہے جو پاکستان کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہے تو افغانستان میں ہندوستانی اثر و رسوخ کا جنازہ نکل جائے گا۔ شائد صدر ٹرمپ نے اسی لئے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی بات کی ہے اور مودی نے بھی صدر ٹرمپ کو اسی غرض سے ثالثی کی درخواست کی ہے۔ اگر بھارت، افغانستان میں اپنی بچی کھچی اہمیت بچانا چاہتا ہے تو پاکستان کے لئے مسئلہ کشمیر کے حل کا یہ دوسرا سنہری موقع ہوگا۔ پہلا سنہری موقع اکتوبر 1962ء میں اس وقت آیا تھا جب چین نے انڈیا پر لشکر کشی کر دی تھی اور امریکی صدر کینیڈی نے ایوب خان کو بہلا پھسلا کر کشمیر پر حملہ نہ کرنے کا وعدہ لے لیا تھا۔ اب 57برس بعد یہ موقع پھر آیا ہے۔ دیکھتے ہیں اب کی بار پاکستانی قیادت، امریکی جھانسے میں آتی ہے یا انڈیا کو اپنے جھانسے میں پھنساتی ہے!

تیسری بات ”انٹرا افغان ڈائیلاگ“ کی ہے۔ کابل میں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے تاریخ و جغرافیئے سے کون واقف نہیں۔ ایک بار جب کابل، امریکی ٹروپس سے خالی ہو گیا تو آنے والے افغان الیکشنوں میں موجودہ افغان حکومتی سیٹ اپ کا کیا بنے گا، پاکستان اس صورتِ حال کو بڑی باریک بینی سے مانیٹر کرے گا۔ ”کم سپتمبر“، افغان الیکشنوں کی صورتِ حال میں موجودہ کابل انتظامیہ اپنے آپ کو کس حد تک بچا پاتی ہے یہ ایک بڑا ٹیڑھا سوال ہے۔ افغان نیشنل آرمی (ANA) اور افغان نیشنل پولیس (ANP) کا جو حشر امریکی انخلاء کے بعد ہونے جا رہا ہے اس پر دنیا بھر کی نظریں ہیں۔ ان الیکشنوں میں کابل میں مقیم امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں واشنگٹن کو جو فیڈ بیک ارسال کریں گی، اس کے آثار و اثرات الیکشنوں کے بعد بہت جلد سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔

چوتھی بات پاکستان کی داخلی سیاسی صورتِ حال ہے۔ مولانا فضل الرحمن موجودہ پی ٹی آئی حکومت کو اگست 2019ء تک مستعفی ہونے کی ”وارننگ“ دے چکے ہیں۔ اگر عمران خان گھر نہیں جاتے تو مولانا اکتوبر میں خود اسلام آباد پر ملین مارچ کرکے عنانِ اقتدار اپنے ”ہاتھ“ میں لے لیں گے…… اللہ اللہ خیر سلّا!

حضرت مولانا مدظلہ العالی کی پشت پر کون ہے جو ان کی ڈوریں ہلا رہا ہے، کیا مولانا کی اس گرینڈ تھریٹ کا تعلق امریکی صدر کے اس اعلان سے بھی ہے کہ امریکی ٹروپس آنے والے چند ماہ میں افغان گلی کوچوں سے نکل جائیں گے۔ اور دوسرے بلوچستان میں جو گڑ بڑ ہو رہی ہے کیا وہ بلوچستان لبریشن آرمی کے چراغ کی آخری لوہے، اس پیاز کی پرتیں آنے والے چند ہفتوں میں اترنا شروع ہو جائیں گی۔ آج پاکستانی حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہے۔ دیکھیں اس نادر ملاپ سے پاکستان کی بگڑی کس حد تک سنورتی ہے!

مزید :

رائے -کالم -