افغان امن مذاکرات، زلمے خلیل زا د آج پاکستان آئینگے 

افغان امن مذاکرات، زلمے خلیل زا د آج پاکستان آئینگے 

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) افغان امن کیلئے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد پاکستانی حکام سے امن عمل سے متعلق بات چیت کیلئے آج جمعرات کو اسلام آباد آئینگے، وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے این این آئی کو بتایا امریکی نمائندہ خصوصی پاکستانی رہنماؤں کو طالبا ن کیساتھ اسوقت تک سیاسی مذاکرات میں پیشرفت سے آگاہ کرینگے۔ دورہ پاکستان سے پہلے زلمے خلیل زاد نے افغانستان کا تقریبا 9 دن کا دورہ کیا جس میں انہوں نے حکومتی رہنماؤں کے علاوہ سیاسی لیڈروں، امن کونسل کے ممبران اور خواتین اور سول سوسائٹی کے اراکین سے بھی امن عمل سے متعلق تفصیلی گفتگو کی۔ طالبان ذرائع کے مطابق امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا ساتواں دور چند دنوں میں قطر میں دوبارہ شروع ہوگا جس میں چند باقی رہنے والے نکات کو حتمی شکل دیئے جانے کا امکان ہے،طالبان ذرائع نے این این آئی کو بتایا غیر ملکی افواج کے افغانستان سے انخلاء کے ٹائم ٹیبل پر اختلافات موجود ہیں اور طالبان 9 ماہ میں غیر ملکی افواج کا مکمل انخلاء چاہتے ہیں جبکہ امریکہ نے 18ماہ میں افغانستان سے چلے جانے کی تجویز پیش کی ہے، ممکن ہے دونوں فریقین ایک سال یا 13 ماہ میں انخلاء پر متفق ہو جائیں۔ذرائع کے مطابق انخلاء کے اعلان کے بعد طالبان بین الاافغانی مذاکرات میں حصہ لیں گے جس میں افغان سیاسی جماعتوں کے علاوہ افغان حکومت بھی شرکت کریگی تاہم طالبان کا اصرار ہے حکومت ایک فریق کی حیثیت سے مذاکرات میں شریک ہوگی۔ انخلاء کے اعلان کیساتھ طالبان امریکہ کو یہ یقین دہانی کرائینگے کہ وہ افغانستان کو مستقبل میں امریکہ،ان کے اتحادیوں سمیت کسی اور ملک کیخلاف استعما ل کی اجازت نہیں دینگے۔ ذرائع کے مطابق انخلاء کیساتھ طالبان جنگ بندی کا اعلان بھی کر سکتے ہیں۔طالبان کا اصرار رہا ہے اکتوبر میں زلمے خلیل زاد کیساتھ شروع ہونیوالے مذاکرات صرف غیر ملکی افواج کے انخلاء اور افغانستان کی سرزمین کو کسی ملک کیخلاف استعما ل نہ ہونے کی یقین دہانی پر ہو رہے ہیں لیکن زلمے خلیل زاد کے مطابق مذاکرات میں جنگ بندی اور کابل حکومت کیساتھ براہ راست مذاکرات کے موضوع پر بھی گفتگو ہوتی رہی ہے۔ امریکیوں کا کہنا ہے طالبا ن کیساتھ ایک جامع معاہدہ ہوگا جس میں چار نکات اہم ہیں۔

زلمے خلیل زاد

مزید :

صفحہ اول -