چیئر مین سینیٹ آئے یا جائے عام آدمی کو فرق نہیں پڑتا 

چیئر مین سینیٹ آئے یا جائے عام آدمی کو فرق نہیں پڑتا 

تجزیہ؛۔ایثار رانا

آج سینیٹ میں جو ہوگا اپ سیٹ ہوگا۔بظاہر اپوزیشن کا پلڑا بھاری ہے لیکن یہ بس بظاہر ہے اور پاکستانی سیاست میں جو بظاہر ہوتا ہے وہ پردے کے پیچھے کچھ اور ہوتا ہے۔آج کا دن عمران حکومت کیلئے ٹرننگ پوائنٹ ہے اگر وہ اپنا چیئرمین سینیٹ کو بچانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اپوزیشن اپنا سب سے اہم ”ٹرمپ کارڈ“کھودے گی جو سینیٹ میں عددی اکثریت کے نام پہ قائم ہے۔لیکن اس وقت تمام ٹرمپ چاہے وہ امریکی صدر ہو یا کارڈ عمران کے حق میں ہیں۔اپوزیشن پوری کے چکر میں آدھی سے بھی جائیگی اور ان کاڈپٹی چیئر مین بھی اس چکر میں فارغ ہوجائے گا۔بظاہر عددی اکثریت کی طرح ایسا ہونا نظر نہیں آتا لیکن جو دل ول لینے کا ڈھب جانتے ہیں وہ ترکیب ورکیب سب جانتے ہیں۔اگر آج اپوزیشن کامیاب ہوتی ہے تو سمجھ لیں پاکستانی کی پارلیمانی دلدل میں مزید گندگی کا اضافہ ہوجائے گا اور سینیٹ جو پاکستان کا سب سے مقتدر ادارہ ہے قومی و صوبائی اسمبلی کا منظر پیش کرنے لگے گا۔یہاں بھی آئے روز”فسادات“برپا ہوں گے جس کو میں اس پارلیمانی کمزور نظام کی ایک اور بد قسمتی قرار دوں گااور آخر میں سب سے اہم سوال چیئرمین کی تبدیلی سے اس مہنگائی میں مرتی عوام کو کیا ملے گا؟مہنگائی کا جن تیزی سے ہمارا سکون خوشیاں اور زندگیاں چاٹ رہاہے لیکن اس سے اس”ایلیٹ“کلاس کا کیا تعلق؟کیا یہ طاقتور طبقہ اپنی انا اقتدار کی جنگ سے نکل کے غریب بھوکے ننگے کیڑے مکوڑوں کیلئے بھی سوچے گا؟کاش اپوزیشن کا حکومت پر حملہ اس غریب عوام کی بھلائی کیلئے ہوتا۔کاش پاکستانی سیاست میں مولانا فضل الرحمن جیسے کردار اپنے حلوے کے بجائے ٹکڑے چبانے والے عوام کیلئے سوچتے۔غریب کے تن پہ کپڑا نہیں اور انکی پوشاکوں پر کوئی داغ نہیں۔میری بات لکھ لیں چیئرمین آئے یا جائے اس کا پاکستان کی معیشت ریاست اور عوام کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ہاں سیاستدانوں کی یہ لڑائیاں ”جن“کی بوتل کا ڈھکن کھول دیں گی جو اگر باہر آگیا تو اپوزیشن بچے گی نہ حکمران۔

تجزیہ ایثار رانا

مزید : تجزیہ