بھارت کے امن عمل پر حملے

بھارت کے امن عمل پر حملے

  

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی قربانیوں کی لاتعداد ناقابل یقین اور ناقابل فراموش داستانیں ہیں جن کا ہر ایک ورق بہادری اور شجاعت کی عمدہ مثالوں سے سنہری حروف سے لکھا ہوا ہے۔جب بھی کوئی جماعت سرکشی پر اترتی ہے تو قانون خداوندی اور قانون مملکت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا جاتا ہے،فتنہ فساد برپا کرکے ملکی سلامتی کو درپیش مسائل پیدا کئے جاتے ہیں اور ان درندوں کی ناپاک حرکتوں سے قوم کی جان ومال،رہن سہن،عزت وقار،معیشت وکاروبار برباد ہوتے ہیں تو ایسی حالت میں جنگ جائز ہی نہیں بلکہ فرض ہو جاتی ہے اور پھر دھرتی ماں کے بیٹے ان گھناؤنی سازشوں اور شروفساد کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر ابھرتے ہیں اور یہ ہی اس وقت ملک وقوم کی سب سے بڑی خدمت ہے۔شمالی وزیرستان اور بلوچستان میں دہشت گردی کے تازہ حملوں کا مقصد امن کے عمل کو پٹٹری سے اتارنے اور اور امریکہ سے بہتر ہوتے تعلقات کو سبوتاڑ کرنے کی کوشش ہے۔بھارت نے افغانستان میں اربوں ڈالرز کی انویسٹمنٹ کر رکھی ہے اس معلوم ہے کہ کابل حکومت جائے گی تو طالبان کی حکومت آئے گی جو پاکستان کے حق میں ہوگی۔حالیہ دہشت گرد حملے“را اور این ڈی ایس”کی مشترکہ کارروائی ہے،بھارت اس امن مرحلہ کو خراب کرانے کے لئے اس قسم کے دہشت گردی کے واقعات مزید کراسکتا ہے ہمیں اس صورتحال میں مزید چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

ملک دشمن عناصر چاہتے ہیں کہ اس نوعیت کی کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کو اشتعال دلا کر جوابی کارروائی پر اکسایا جائے لہذا اس سلسلے میں کسی حتمی فیصلے کے لئے فوری طور نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس بلانا چاہیے اور تمام سٹیک ہولڈرز کو مل کر آئندہ کی حکمت عملی کرنا ہوگی۔افغانستان کی سیڈ کے حوالے سے ہونے والے حملے کے حوالے سے کابل اور امریکہ کی سطح پر ملٹری ٹو ملٹری سطح پر موجود تعاون کو بھی بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔واقعاتی شہادتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے دونوں واقعات کا ہینڈلر اور حسب سابق ان کارروائیوں کی پلاننگ کے لئے افغانستان کی سرزمین استعمال کی گئی جہاں این ڈی ایس کی اور را کی چھتری تلے کالعدم ٹی ٹی پی،جماعت الاحرار اور کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی سمیت دیگر پاکستان مخالف تنظیمیں سرگرم ہیں اور تاحال ان کا آپریشنل ڈھانچہ بھی موجود ہے۔شمالی وزیرستان پاک افغان سرحد پر اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران سکیورٹی اہلکاروں پر افغانستان کے سرحدی علاقے سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں چھ جوان شہید ہو گئے جبکہ۔ دہشت گردی کے دوسرے واقعہ میں بلوچستان کے ضلع تربت میں ایف سی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا جس میں ایک کیپٹن سمیت چار اہلکار شہید ہوئے۔بارڈر کراس کئے بفیر دہشت گردوں کے خلاف فضائی طاقت استعمال کی جانے چاہیے کیونکہ بیرونی دشمن دراصل امن عمل کو ناکام بنانا چاہتا ہے۔اس کی کوشش ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں کے ذریعے پاک فوج کی ساری توجہ مغربی سرحد کی طرف کردی جائے۔

بھارت کے عزائم کو ناکام بنانے کے لئے ایک جامعہ پلان بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ خدشہ ہے کہ جنگی جنون مین مبتلا مودی سرکار دوبارہ گڑبڑ کر سکتا ہے اور ایک بار پھر وہ اپنے ہی ملک یا افغانستان میں پلوامہ طرز کا جعلی حملہ کراکر اس کا الزام پاکستان پر تھوپ سکتا ہے اور عالمی برادری کی ہمداردیوں کو سمیٹ کر امریکہ کیساتھ پاکستان کے تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ضروری تھا کہ پلوامہ حملے کے حوالے سے پاکستان بھارت کے جھوٹ کو عالمی طور پر بے نقاب کرتا لیکن اس معاملے کو پس پشت ڈال دیا گیا۔بھارت نے پلوامہ سے متعلق پاکستان کو جو شواہد دیے تھے وہ سارے محض اخباری تراشوں پر مشتمل تھے۔چنانچہ ان شواہد کو مزاق قرار دیکر واپس بھیجا جا چکا ہے۔اب تین ماہ کا عرصہ گزر چکاہے لیکن نئی دہلی نے اس کا جواب نہیں دیا جبکہ پاکستان بھی خاموش ہو کر بیٹھ گیا ہے حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ پاکستان اس معاملے پر بھارت کے پیچھے پڑ جاتا۔بھارت کی جانب سے بھیجے جانے والے مضحکہ خیز شواہد کی کاپی سکیورٹی قونسل کے مستقل ارکان کو بھیجی جاتی اور دیگر عالمی فورمز پر بھی یہ ایشو اٹھایا جاتا۔جھوٹے کو گھر تک پہنچانے کا فائدہ یہ ہوتا کہ آئندہ بھارت اس نوعیت کا جعلی حملہ کرانے کے لئے سو بار سوچھتا۔بہترہوتے پاک امریکہ تعلقات کے تناظر میں پینٹاگون کو یہ پیغام پہنچا دیا گیا ہو گا کہ افغانستان میں پاکستان مخالف را اور این ڈی ایس کے نیٹ ورک کو بند کرایا جائے لہذا اب یہ نیٹ ورک بند ہو نا ہی ہے چاہیے اس میں ایک ماہ لگ جائے یا چند ماہ لگ جائیں۔اس دوران جاتے جاتے اس نیٹ ورک نے اپنی کارروائیوں کرنی ہیں اور یہ معاملات کو بگاڑنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔

دونوں ایجنسیاں پاک امریکہ تعلقات میں بہتری اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ڈویلپمنٹ سے خوش نہیں ہیں اور بالخصوص این ڈی ایس کا وجود خطرے میں پڑ چکا ہے کیونکہ طالبان بھی اس کے خلاف ہیں۔پاور شئیرنگ میں آتے ہی طالبان نے پہلا کام این ڈی ایس کی خاتمے کا کرنا ہے۔دوسری جانب طالبان حملوں کو روکنے میں ناکامی کا سارا غصہ این ڈی ایس پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر کے اتارنے کا پروگرام بنا چکی ہے جبکہ صدر اشرف غنی کی پوزیشن بھی پہلے کمزور ہو گئی ہے لہٰذا وہ اس کو کنٹرول کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔افغانستان کے تناظر میں واشنگٹن نے پہلے بھارت کو ساؤتھ ایشیا کا چودھری مقرر کیا تھا اب وہ یہ رول پاکستان کو دے رہا ہے جو نئی دہلی کو ہضم نہیں ہو رہا لہذا وہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کر سکتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں لگتا ہے کہ امریکہ ڈبل گیم نہیں کھیلے گا کیونکہ اس وقت پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون ایک ہی پیج پر ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر ٹرمپ کا کیا ردعمل ہوتا ہے اگر اس نے گراؤنڈ پر کوئی ایکشن نہ لیا تو پھر امریکہ میں موجود پاکستانی سفیر اور ڈیفنس اتاشی کو فوری ایکشن میں آنا چاہیے۔امن کے لئے پاکستانی کی کوششوں کا فائدہ خطے کو ہی نہیں پوری دنیا کو ہو گا۔عالمی سطح پر نہ صرف ان کوششوں کا اعتراف ہونا چاہیے بلکہ دنیا کو پاکستان کی پشت پر بھی ہونا چاہیے۔قوم کے قابل فخر سپوت دہشت گردی کے خاتمے اور امن کی بحالی کیلئے اپنا خون پانی کی طرح بہا رہے ہیں ان کی قربانیاں یقیناً رنگ لائیں گی۔دشمن بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتا۔پوری قوم پاک فوج کے شہداکو سلام پیش کرتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -