چارسدہ، تین سگے بھائیوں کے قتل کیس نے نیارخ اختیار کر لیا

چارسدہ، تین سگے بھائیوں کے قتل کیس نے نیارخ اختیار کر لیا

  

چارسدہ(بیو رو رپورٹ) عمر زئی میں تین سگے بھائیوں کے تہرے قتل کیس نے نیا رخ احتیار کر لیا۔تہرے قتل کیس میں گرفتار ملزم کے بھائی نے قرآن پر خلف اٹھا کر اپنے بھائی کو بے گناہ قرا ر دیا۔لواحقین کو اپنے خرچ پر خانہ کعبہ لے جا کر تسلی کر نے کا بھی اعلان کر دیا۔تہرے قتل کیس کے وقت میرا بھائی ناصر جمال جائے وقوعہ پر موجود ہی نہ تھا۔ پولیس نے جائے وقوعہ کے سی سی ٹی وی فوٹیج کو مثل پولیس میں شامل نہیں کیا ہے۔تہرے قتل کیس میں ایک لڑکی اور مردان کے بااثر شخصیت کے ملوث ہونے کا انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق عمر زئی علی جان کلے میں تین جوان بھائیوں کے بہیمانہ قتل میں نامزد گرفتار ملزم ناصر جمال کے بھائی یاسر جمال نے عمائدین علاقہ کی موجودگی میں پر ہجوم پریس کانفرنس میں قرآن پرخلف اٹھا کر کہا کہ ان کے بھائی ناصر جمال کا تہرے قتل کیس سے کوئی واسطہ نہیں اور نہ وہ وقوعہ کے وقت جائے وقوعہ پر موجود تھے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں چھ افراد کو بطور گواہ پیش کیا اور کہا کہ ان کے بھائی ناصر جمال تہرے قتل کیس کے وقت ان کے پاس موجود تھے۔ انہوں نے پولیس کی انکوائری رپورٹ کو یکسر مستر د کر تے ہوئے موقف اختیار کیا کہ جائے وقوعہ کے سی سی ٹی وی فوٹیج میں سب کچھ موجود ہے مگر پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کو مثل پولیس میں شامل نہیں کیا۔ انہو ں نے تہرے قتل کیس کے حوالے سے اعلی سطحی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وہ اور ان کا خاندان عمزدہ خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے متاثرہ خاندان کو اپنے خرچ پر خانہ کعبہ لے جانے اور کعبہ پر ہاتھ رکھ کر اپنے بھائی کے بے گناہی کا بھی اعلان کر دیا۔یاسر جمال نے واضح کیا کہ ہمارا بھائی ناصر جمال بے قصور ہے اس لئے ہم نے رضاکارانہ طور پر اپنے بھائی کو قانون کے حوالے کیاجبکہ اس سے پہلے ایف آئی آر میں نامزد دوسرے ملزم پیر محمد کو بھی ہم نے از خود قانون کے حوالے کیا تھا۔پولیس کی طرف سے ناصر جمال اور پیر محمد کی گرفتاری کے دعوے غلط اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے خود پولیس افسران سے رابطہ کرکے ناصر جمال کو قانون کے حوالے کر دیا ہے۔ آئی جی خیبر پختون خوا مرکزی ملزم نادر خان کا قریبی رشتہ دار ہے اس لئے پولیس نے واقعہ کے بعد نادر خان کو ملایشیاء فرار کرنے میں مدد کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ تہرے قتل کیس کے وقت نادر خان کی گرل فرینڈ عائشہ ناز اور مردان سے تعلق رکھنے والے بااثر شخص عامر خان بھی موجود تھے مگر پولیس نے عامر خان کو گرفتار کرنے کے بعد چھوڑ دیا جبکہ عائشہ ناز مرکزی ملزم نادر خان کے ساتھ ملایشیاء فرار ہو گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈی پی او چارسدہ عرفان اللہ خان ایک اچھے کردار کے حامل مذہبی شخص ہے او ر موصوف خافظ قرآن بھی ہے۔ میں ان سے مطالبہ کر تا ہوں کہ اپنے دل میں موجود قرآن کو حاضر ناظر جان کر عوام کو حقائق بتائیں کہ تہرے قتل کیس میں تمام انکوائری اور تفتیش جھوٹ کا پلندہ ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -