جیو نیوز نے صادق سنجرانی کی جیت کے بجائے ہار کی خبر چلادی لیکن جب سوشل میڈیا پر ہنگامہ ہوا تو ایسا کام کردیا کہ آپ بھی حیران رہ جائیں گے

جیو نیوز نے صادق سنجرانی کی جیت کے بجائے ہار کی خبر چلادی لیکن جب سوشل میڈیا ...
جیو نیوز نے صادق سنجرانی کی جیت کے بجائے ہار کی خبر چلادی لیکن جب سوشل میڈیا پر ہنگامہ ہوا تو ایسا کام کردیا کہ آپ بھی حیران رہ جائیں گے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکام ہوچکی ہے لیکن جیو نیوز نے ووٹوں کی گنتی کے دوران ہی یہ خبر نشر کردی کہ صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ نہیں رہے، سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید اور غلطی کے احساس کے بعد جیو نیوز انتظامیہ نے غلط خبر نشر ہونے پر معافی بھی مانگ لی۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کی جانب سے 4 بج کر 14 منٹ پر یہ خبر نشر کی گئی کہ ’ صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ نہیں رہے۔‘ جیو پر یہ خبر نشر ہونے کی دیر تھی کہ بعض مین سٹریم ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر چینل کو کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

جیو نیوز کی انتظامیہ کو جب اپنی غلطی کا احساس ہوا تو جیو نیوز نے اپنی غلطی پر نہ صرف معافی مانگ لی بلکہ وہ ٹویٹ بھی ڈیلیٹ کردیے جن میں صادق سنجرانی کے چیئرمین سینیٹ نہ رہنے کی خبر دی گئی تھی۔

جیو نیوز انتظامیہ نے اپنے پیغام میں کہا ’ چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی خبر چندلمحوں کیلئے غلطی سے نشر ہوئی۔ چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی غلط خبر کے نشر ہونے پر ادارہ معذرت خواہ ہے،غلطی مان کر جیو۔‘

یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ اکثر ٹی وی چینلز سب سے پہلے خبر بریک کرنے کے چکر میں ’ ٹکرز‘ (سکرین پر نیچے چلنے والا سرخ ٹیکسٹ) پہلے ہی لکھ کر رکھ لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب بھی کوئی کرکٹ میچ ہوتا ہے تو اس کے بارے میں جن کھلاڑیوں نے سب سے اچھی پرفارمنس (بیٹنگ ، باﺅلنگ) دی ہوتی ہے ان کی کارکردگی کے بارے میں پہلے ہی لکھ کر رکھ لیا جاتا ہے جس کے بعد صرف ایک جملہ جو ہار جیت سے متعلق ہوتا ہے وہی باقی رہ جاتا ہے اور جونہی میچ کا نتیجہ آتا ہے تو فوری طور پر سارے ٹکرز ایک ساتھ نشر کردیے جاتے ہیں۔

چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے معاملے میں بھی جیو نیوز نے یقینی طور پر یہی طریقہ اپنایا ہوگا کیونکہ اپوزیشن کے ووٹوں کی تعداد زیادہ تھی ، ہوسکتا ہے کہ انہیں یہ یقین ہو کہ اپوزیشن کی تحریک کامیاب ہوجائے گی اسی لیے انہوں نے جیسے ہی ووٹنگ کا عمل مکمل ہوا تو وہی ٹکر نشر کردیے جو ممکنہ طور پر پہلے سے لکھ کر رکھے ہوئے تھے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -