کیا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت میں توسیع کی جارہی ہے؟ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی میدان میں آگئے

کیا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت میں توسیع کی جارہی ہے؟ وزیر خارجہ ...
کیا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت میں توسیع کی جارہی ہے؟ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی میدان میں آگئے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ابھی تک آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی۔

نجی ٹی وی ’’ہم نیوز‘‘ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا اختیار وزیر اعظم کا ہے لیکن لیکن فی الحال اس پر مشاورت نہیں ہو رہی ہے کیونکہ ہنوز دلی دور است۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر ملکی مسائل حل کرنے ہیں تو تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک صفحے پر آنا ہوگا، ہماری حکومت میں آج تک پاکستان کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہے جس میں فوج کو اعتماد میں نہ لیا گیا ہو، افواج پاکستان مملکت کے ساتھ وفادار ہیں حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، ہم ایک ہو کر پاکستان کے لیے سوچ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغان مسئلہ حل کرنے کے لیے مختلف سٹیک ہولڈرز قریب آ رہے ہیں اور امید ہے کہ جلد مسائل حل ہوں گے ،ہمسایہ ملک کو مشورہ دیا کہ ہمارے درمیان بات چیت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے،ہمیں امید تھی کہ الیکشن کے بعد مودی کا رویہ بدلے گا لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا،مسئلہ کشمیرپرٹرمپ کی جانب سے اس بیان کی توقع نہیں تھی کیوںکہ ماضی میں امریکہ ثالثی کرنے سے انکارکرتا رہا ہے،نریندر مودی نے بھی ٹرمپ کے بیان کی تردید نہیں کی، افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے پاکستان کوئی کوتاہی کرنا نہیں چاہتا لیکن بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ اور کشمیر میں مزید فوجی بھیجنا ہمیں تشویش میں مبتلا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کیساتھ کسی صورت حالات کشیدہ کرنا نہیں چاہتا کیوں کہ اس سے افغان امن عمل کو نقصان پہنچے گا،ہم سعودی عرب اور یو اے ای کے مشکور ہیں جو اس کڑے وقت میں وہ ہمارے ساتھ کھڑے رہےجبکہ چین کے ساتھ بھی تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں۔

 شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکہ کی اولین ترجیج افغانستان میں امن قائم کرنا ہے اور پاکستان کی کاوشوں سے اس کے مثبت اشارے بھی مل رہے ہیں، حکومت چاہتی ہے کہ طالبان کی وزیراعظم سے ملاقات جتنی جلدی ہو اتنا ہی بہتر ہوگا،افغان مسئلہ حل کرنے کے لیے مختلف سٹیک ہولڈرز قریب آ رہے ہیں اور امید ہے کہ جلد مسائل حل ہوں گے۔ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اور ایف اے ٹی ایف کے مقاصد ایک ہیں، دنیا قائل ہوگئی ہے کہ پاکستان کی حکومت دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات اٹھا رہی ہے،امریکہ پاکستان کے ساتھ  برابری کی سطح پر وسیع تجارتی اور معاشی تعلقات چاہتا ہے لیکن ہمارے اداروں میں صلاحیت کم ہے اور حکومت ارادہ کرچکی ہے کہ اسے بہتر بنایا جائے گا۔کولیشن سپورٹ فنڈ کے سوال پر وزیرخارجہ نے کہا ہم ارادہ کر کے گئے تھے کہ یہ معاملہ نہیں اٹھائیں گے لیکن جیسے ہی تعلقات بہتر ہوں گے تمام مسائل کر لیے جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور ہر پاکستانی کی خواہش ہے کہ عافیہ صدیقی کو واپس لایا جائے لیکن امریکیوں کی قانونی مشکلات ہیں جیسے شکیل آفریدی کے معاملے پر پاکستان کے قانونی مسائل ہیں۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بارے میں بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن نے اپنی عددی برتری کو مدنظر رکھتے ہوئے صادق سنجرانی کو ٹارگٹ کیا، ن لیگ اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ذہنی طور پر پارٹی موقف کو نہیں مانتے، میں ن لیگ کے کچھ سینیٹرز کو جانتا ہوں جو اس تحریک کے حق میں نہیں تھے،چیئرمین سینیٹ اچھا کام کر رہے ہیں لیکن ان پر سیاسی نزلہ گرایا گیا،تحریک عدام اعتماد کے پیچھے سیاسی محرکات تھے ، اس کے لیے حکومت کو موردالزام نہ ٹھہرایا جائے بلکہ اپوزیشن اپنی صفیں ٹٹولے۔

مزید :

قومی -Breaking News -اہم خبریں -