اسلامی شریعت پر عمل،مسلمانوں کے دُکھوں کا مداوا

اسلامی شریعت پر عمل،مسلمانوں کے دُکھوں کا مداوا

  

سعودی شاہی دیوان کے مشیر اور سپریم علما کونسل کے رکن شیخ عبداللہ بن سلیمان المنیع نے مسجد ِ نمرہ سے اپنے خطبہ حج میں اُمت مسلمہ سے کہا ہے کہ وہ خود کو سیاسی طور پر مضبوط کرے۔نجات کا راستہ صرف اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے میں ہے، دُنیا پر مشکلات اللہ کی طرف سے امتحان ہے، عبادات ہی سے مصیبت سے چھٹکارا ملتا ہے، قرآنِ حکیم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تم میری نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہ سکو گے،لہٰذا اِن نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرو، اللہ نے امانت میں خیانت سے منع کیا ہے، ناحق قتل پر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے، اللہ نے قتل کو حرام قرار دیا ہے، کورونا کے دوران زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات کریں، نفرتیں ختم کریں، انسان ہو یا جانور سب سے رحمت کا معاملہ کریں، تقویٰ کا راستہ اختیار کریں، سیاست اور امن کے میدان میں بھی شریعت ِ اسلامیہ نے ایسے احکامات صادر کئے ہیں، جو مُلک و قوم کی سلامتی کے ضامن ہیں، شریعت ِ اسلامیہ نے ایک دوسرے کے حقوق، جان و مال اور املاک کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہے، دوسروں پر حملہ کرنے یا انہیں اذیت دینے سے روکا ہے، جھگڑوں کو بڑھاوا دینے، دہشت گردی کو ہوا دینے اور زمین میں فساد پھیلانے سے روکا ہے۔فتنوں سے دور رہنے کا حکم دیا ہے، گھات میں بیٹھے دشمنوں سے خبردار بھی کیا ہے، قوانین کی پاس داری اور حکمرانوں کی فرمانبرداری کا بھی حکم دیا ہے، عدل و انصاف کرنے، معاشرے کے لئے مفید چیزوں کے حصول اور بُری چیزوں کے خاتمے کا حکم دیا ہے، بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں انہی لوگوں کے سپر کرو،جو اس کے ہل ہوں اور جب تم فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو، اسلام نے پاکیزگی اور صفائی کا حکم دیا، ماحول کو صاف ستھرا اور پاک رکھنے کا حکم دیا، پاکیزہ چیزیں کھانے کا حکم دیا اور نقصان دہ چیزیں کھانے سے منع فرمایا، معاشروں کو بیماریوں اور وباؤں سے بچانے کے لئے بہترین طریقہ تجویز کیا۔ اللہ نے کوئی بیماری ایسی نازل نہیں کی جس کا علاج نہ ہو۔

حج کے لئے سعودی حکومت نے اس بار خصوصی انتظامات کئے، محدود تعداد میں غیر ملکیوں کو جو ملک کے اندر مقیم ہیں، حج کی اجازت دی، 30فیصد سعودی باشندے بھی ان میں شامل ہیں، بوڑھوں اور بچوں کو حج کرنے سے روک دیا، جنہیں اجازت ملی اُن کی عمریں 20 اور50 سال کے درمیان ہیں اور کوشش یہ کی گئی ہے کہ وہی لوگ حج کریں، جو پہلی بار اِس فرض کی ادائیگی کرنا چاہتے ہیں، خانہ کعبہ اور دوسرے مقامات پر صفائی ستھرائی کا خصوصی خیال رکھا گیا، نماز کی ادائیگی کے لئے جائے نماز ہر حاجی کے لئے مخصوص تھی اور کوئی دوسرا اسے استعمال نہیں کر سکتا تھا، طوافِ کعبہ کے دوران بھی فاصلوں کا خیال رکھا گیا، شیطان کو مارنے کے لئے سینی ٹائزڈ کنکریاں خصوصی طور پر پیک کی گئی تھیں،غرض سعودی حکومت نے ہر وہ انتظام ممکن بنایا، جس کے ذریعے حاجیوں کی صحت و سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے، بڑی آسانی سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ انتظامات میں کوئی رخنہ یا کوتاہی نہیں رہنے دی گئی اور ہر وہ اقدام کیا گیا جو ممکن تھا، اِن احسن انتظامات کا انعام اِس شکل میں ملا کہ تمام حجاج کے بارے میں یہ اطلاع ہے کہ وہ صحت مند ہیں اور کوئی بھی کورونا سے متاثر نہیں ہے، اللہ ربِ العزت کے اِس احسان پر حاجیوں پر شکر لازم ہے اور سعودی حکومت کو بھی بجا طور پر اطمینان ہونا چاہئے کہ اس نے حج کو ممکن بنانے کے لئے بہترین انتظامات کئے۔

شیخ عبداللہ بن سلیمان نے اپنے خطبہ حج میں جن اسلامی تعلیمات پر روشنی ڈالی وہ اسلام کی بنیادی تعلیمات ہیں اور اگر ان پر ان کی روح کے مطابق عمل کیا جائے تو مسلمان معاشرے جنت نظیر بن سکتے ہیں،لیکن مقامِ افسوس ہے کہ عملاً ہر مسلم معاشرہ اِن تعلیمات سے اغماض برتتا نظر آتا ہے، قتل و غارت معمول بن چکی ہے،دن دہاڑے ناحق قتل ہوتے ہیں، اولاد کو حکم ہے کہ والدین کے سامنے اُف تک نہ کہے اور اُن کے سامنے نگاہیں نیچی رکھ کر بات کرے،لیکن جائیدادوں کے جھگڑوں میں اولاد ماں باپ کا بے دریغ قتل کر رہی ہے،پاکستان میں روزانہ کسی نہ کسی جگہ سے ایسی خبر آ جاتی ہے کہ بیٹے نے معمولی بات پر اپنے باپ یا ماں یا بھائی بہنوں میں سے کسی کو قتل کر دیا،روٹی جلدی نہ پکانے پر بھائی بہنوں کو قتل کر رہے ہیں، معمولی معمولی باتوں پر قتل روزمرہ بن گئے ہیں، بعض مقدمات میں سزائیں بھی ہو جاتی ہیں،لیکن بڑی تعداد میں ملزم بچ نکلتے ہیں افسوسناک امر یہ ہے کہ بحیثیت مجموعی ایسے جرائم روکنے کے لئے حکومتیں اور معاشرہ بھی کوئی کردار ادا نہیں کر رہا، قتل ِ عمد کو غیرت کے نام پر قتل بنا کر سزا سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہ راستہ خود قوانین اور روایات کے ذریعے کھلا رکھا گیا ہے، بیٹیوں کو جائیدادوں میں حصہ نہیں دیا جاتا اور اگر کوئی بیٹی اپنا حق طلب کرے تو قتل تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔

دہشت گردی اور فساد فی الارض بھی مسلمان معاشرے کے بڑے روگ ہیں، جو لوگ دہشت گردی کی وارداتیں کرتے ہیں وہ بظاہر اسلام کے نام پر خونریزی کے مرتکب ہوتے ہیں، اسلامی ممالک میں دہشت گردوں کے جو گروہ سرگرم ہیں اُن کا دعویٰ یہی ہے کہ وہ اصلاح کر رہے ہیں، حالانکہ وہ اصلاح کے نام پر فساد کرتے ہیں اور اس میں کوئی ندامت محسوس نہیں کرتے۔ اشیائے خوردنی میں ملاوٹ کا جرم اتنے وسیع پیمانے پر ہوتا ہے اور ایسے ایسے لوگ اس میں ملوث پائے جاتے ہیں کہ دیکھ اور سُن کر حیرت ہوتی ہے۔ناپ تول میں کمی بھی ہماری سوسائٹی میں رچ بس گئی ہے، یہاں تک کہ قربانی کے بکرے بھی دھوکے اور نوسر بازی سے فروخت کرنے کو بُرا نہیں سمجھا جاتا، یہ ساری معاشرتی برائیاں وقت کے ساتھ ساتھ وسیع تر ہو رہی ہیں اور اتنی عام ہیں کہ لگتا ہے معاشرے خوفِ خدا سے بے نیاز ہو کر یہ کام کئے چلے جاتے ہیں اور انہیں آخرت میں جواب دہی کا سرے سے کوئی احساس ہی نہیں، جناب شیخ عبداللہ نے اپنے روح پرور خطبے میں معاشرتی بیماریوں کا علاج بھی قرآنی تعلیمات کی روشنی میں تجویز کیا اور مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ فرض نمازوں کی ادائیگی کا خصوصی اہتمام کریں، بدعات سے بچیں اور پاکیزہ اور حلال غذائیں کھا کر بیماریوں سے محفوظ رہیں،انہوں نے اپنے خطبے میں خصوصی طور پر کورونا وبا کا ذکر کیا اور اِس خیال کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی سے یہ بیماری ختم ہو گی،اِس مقصد کے لئے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں گڑ گڑا کر دُعاؤں کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی مخلوق پر رحم کرے، شیخ عبداللہ نے کہا کہ دُنیا کی کوئی بیماری ایسی نہیں،جس کا علاج نہ ہو،اس فرمان میں مسلمانوں کے لئے امید کی کرن ہے کہ بالآخر اِس وبا کا خاتمہ ہو گا،تاہم دُعاؤں کے ساتھ ساتھ اعمالِ صالح بھی ضروری ہیں، تبھی معاشروں سے بدامنی اور بے چینی کا خاتمہ ہو گا،جن کی وجہ سے لوگوں کا امن و سکون برباد ہو چکا اور ایک مسلسل اضطراب کی کیفیت معاشروں پر چھائی نظر آتی ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -