عید مبارک، اس دعا کے ساتھ، اللہ وبا سے نجات عطا کرے!

عید مبارک، اس دعا کے ساتھ، اللہ وبا سے نجات عطا کرے!
عید مبارک، اس دعا کے ساتھ، اللہ وبا سے نجات عطا کرے!

  

اللہ ہی کا ہے، سب کچھ اور راحت اور پریشانی بھی اسی کی طرف سے آتی ہے۔ بندہ خاکی اپنی حیثیت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے، شاعر نے کہا ”کیہ بھروسہ، دم دا، دم آوے نہ آوے“ اور یہ درست بھی ہے کہ دم نکلنے کا کسی کو بھی علم نہیں، خود اللہ نے قران مجید (کتاب حکمت) میں فرمایا ”اے، رسولؐ لوگ تم سے پوچھتے ہیں، روح کیا ہے، کہہ دو، یہ حکم ربی ہے“ واضح ہوا کہ زندگی اور موت کا تعلق اسی ذات واحد سے ہے اور جسم سے روح اسی کے حکم سے جدا ہوتی ہے کہ یہ حکم ربی ہے، یہ گزارش کسی فلسفے یا علمیت بگھارنے کے لئے نہیں، عجز سے استدعا کے لئے ہے کہ ہم فانی انسانوں کو موت کو بھی یاد رکھنا چاہیے اور یہ ضرب المثل صرف بکرے کے لئے نہیں کہ اس کی ماں کب تک خیر منائے گی، اسے تو چھری تلے آنے کا پیغام دیا گیا، تاہم انسان کے لئے کھلا راز ہے کہ وقت آیا تو چلے جانا ہے، تاہم یہ بھی لازم ہی قرار دیا گیا کہ انسان جب تک زندہ ہے، اسے اس کی حفاظت بھی کرنا ہو گی اور اس کے لئے بھی اصول وضع کر دیئے گئے، حضور، ختم المرسلین، خاتم النبینﷺ کی تعلیمات میں سب مضمر ہے۔ آج عیدالاضحی ہے، اسے بقر عید، بکرا عید یا عید قربان بھی کہتے ہیں۔ آج اسلامیان پاکستان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اللہ کی راہ میں قربانی کو یاد کرتے ہوئے حلال جانور قربان کریں گے۔

اس سلسلے میں پہلے بھی عرض کیا آج تو توجہ دلانا ہے کہ یہ عید اور اس سے پہلے عیدالفطر ایک ایسے ماحول میں آئی، جب دنیا سمیت ہمارا پیارا ملک بھی کورونا وبا کی زد میں ہے۔ عیدالفطر بھی پھیکی رہی اور آج عیدالاضحی ہے۔ اس کے لئے بھی احتیاطی تدابیر جاری کی گئی ہیں ان کا مقصد یہی ہے کہ فر امین ہی کی روشنی میں زندہ اور زندہ رہنے والے انسانوں کی حفاظت کی جائے جو اسی طرح ممکن ہے کہ ہم سب اجتماعی طور پر ان تدابیر پر عمل کریں جو اس وبا سے بچاؤ کے لئے جاری کی گئیں اور جن کی وجہ سے وبا رکنے میں معاونت ہوئی۔ یہ اپنی جگہ درست کہ ہم سب کو اس وبا کو ایک وارننگ جان کر اللہ سے معافی مانگنا اور ان اعمال کو درست کرنا چاہیے جو ایسے امتحانوں کا باعث بنتے ہیں، اس حوالے سے بہت کچھ کہا گیا اور گزشتہ روز مسجد نمرہ میں خطبہ حج میں بھی یہی کچھ واضح کیا گیا ہے۔

ہمیں تو آج تھوڑی مختلف بات کرنا ہے۔ یہ مشاہدے میں ایا کہ عیدالاضحی کے موقع پر گزشتہ عید کی نسبت کچھ زیادہ دینی جذبہ نظر آیا، جانوروں کے لئے قائم مویشی منڈیوں میں جانوروں کی آمد تو معمول ہے اور جو بیوپاری مال لے کر آتے ہیں، وہ سال بھر کی محنت اور انتظار کا پھل حاصل کرنے آتے ہیں کہ مسلمان اس واجب کی ادائیگی کے لئے معمول سے زیادہ قیمت ادا کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں اور بیوپاری بھی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنی سال بھر کی سرمایہ کاری کے عوض معقول منافع حاصل کر سکیں۔ یہ کشمکش یا کھینچا تانی ہمیشہ ہوتی ہے۔ تاہم اس بار ماحول مختلف ہے، وبا کے پھیلاؤ کی روک تھام کے انتظام لازم اور ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ یہ امر بھی واضح ہے کہ 8ماہ سے جاری اس غیر معمولی صورت حال نے لوگوں کو معاشی طور پر بھی پریشان کیا ہے اور بہت سے صاحب استطاعت اس سال یہ حالت برقرار نہیں رکھ سکے۔ چنانچہ قدرتی طور پر اس بار تعداد کے حوالے سے قربانی کم ہو گی لیکن اس بدتر حالت کے باوجود بھی بھاری تعداد ان حضرات کی ہے، جنہوں نے روایت کو برقرار رکھا اور یوں ایک جذبہ نظر آیا ہے، جس کی بدولت اجتماعی قربانی کے ساتھ انفرادی واجب کی ادائیگی بھی ہو گی۔

آج ہم اہلیان پاکستان کو مبارکباد دیتے ہوئے گزارش کرتے ہیں کہ وہ قربانی کرنے سے قبل نماز عید کی ادائیگی کے بعد اللہ سے گڑگڑا کر دعا مانگیں کہ وہ اللہ عظیم ہے جو قوم موسیٰ کی بار بار کی فرمانی کو معاف کر سکتا ہے تو اپنے پیارے حبیبؐ کے صدقے ہمیں بھی معاف کر دے۔ ہماری توبہ قبول فرمائے اور اس وباء سے نجات دے کہ معمول کی زندگی شروع ہو سکے۔ محترم حضرات! توبہ کا مطلب درست تائب ہونا کہ سابقہ عیوب کو ترک کر دیا جائے اور مسلمانوں سے اللہ اور اس کے رسولؐ یہی توقع رکھتے ہیں۔

اب ذرا قربانی اور گوشت کی تقسیم کی بات کر لیں ہم سنتے آئے ہیں کہ قربانی کے جانور والے گوشت کے تین حصے کئے جاتے ہیں، جو یوں تقسیم ہوتے ہیں، اول خویش، دوم درویش اور سوئم آپ،یعنی ایک حصہ عزیز و اقارب اور ہمسایوں کے لئے دوسرا ضرورت مندوں میں تقسیم کے لئے اور تیسرا اپنے لئے، تیسرے کے بارے میں تو یہ حدیث بھی بیان کی گئی ہے کہ رسولؐ اللہ نے یہ بھی احسن جانا کہ سارا گوشت تقسیم کر دیا گیا اور اپنے لئے تھوڑا رکھا گیا۔ بہرحال آج بھی ایسا ہو گا کہ قربانی اور گوشت کی تقسیم کا سلسلہ شروع ہو گا تو روائتی انداز بھی اختیار کیا جائے گا جو یوں کہ اعزہ اور محلے داروں کا حصہ پہلے اور غرباء کا بعد میں نکالا جائے گا اور یہ بھی ان کو دیا جائے گا جو گھر جائیں گے، لہٰذا تلاش کرکے ایسے افراد تک گوشت پہنچانا افضل ہوگا جو سفید پوش کہلاتے ہیں اور اپنی ضرورت بیان نہیں کر سکتے، ہم ایک مثال دیں ہمارے بہنوئی عبدالمومن اور ہماری چھوٹی ہمشیرہ شکیلہ مشتاق نے غالباً باہمی مشاورت سے یہ طے کیا کہ جو خود قربانی کرے اس کے ہاں گوشت نہ بھیجا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ انہوں نے بھیجا اور ہمیں آ گیا۔ اس سے مستحقین کے لئے زیادہ گنجائش نکل آتی ہے۔ آپ سب سے توقع اور اپیل ہے کہ حفاظتی تدابیر پر بھی مکمل عمل کریں۔ احتیاط کا دامن تھامیں، مستحقین کا خاص خیال رکھیں اور صفائی بھی بہترین ہو، اللہ حافظ! اس دعا کے ساتھ عید مبارک کہ اللہ ہم سب کو وباؤں اور بلاؤں سے نجات دے۔

مزید :

رائے -کالم -