عید کے رنگ۔ ٹی وی سیریز کے سنگ

عید کے رنگ۔ ٹی وی سیریز کے سنگ
عید کے رنگ۔ ٹی وی سیریز کے سنگ

  

اگر سچ پو چھا جائے تو یہ سال اب تک بہت سی مشکلات لے کر آیا ہے۔ایک طرف معا شی کساد بازاری اور اس کے اثرات اور پھر رہی سہی کسر ”کورونا“ وائرس نے پو ری کر دی۔چھوٹی عید کی طرح اب یہ بڑی عید بھی اس امید سے گزار ی جارہی ہے کہ عید کے بعد شاید حالات بہتر ہونا شروع ہو جائیں۔حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں دُنیا کی ہر تہذیب، مذہب، خطے، قبیلے اورا قوم میں ہر سال کئی تہوار ضرور آتے ہیں۔ ان تہواروں کے دوران انسان کو ذہنی فرا غت ہوتی ہے تاکہ وہ ان ایک، دو دنوں کے لئے غم کو بھلا کر آنے والے حالات سے لڑنے کے لئے ایک مرتبہ پھر اپنے آپ کو تا زہ دم کرے،اور عید جیسے تہوار میں اس سے بڑی فرا غت یا ذہنی عیا شی کیا ہو سکتی ہے کہ انسان اچھی فلمیں اور ٹی وی سیریز دیکھ پائے۔عید کے موقع کی مناسبت سے ضروری ہے کہ اس کالم کو ہلکا پھلکا رکھا جا ئے تو کیوں نہ آج چند ایسی اچھی ٹی وی سیر یز کا ذکر ہو جائے کہ جن میں سے کئی کو میں حالیہ دنوں میں دیکھ چکا ہوں اور کئی کو آنے والے دنوں میں دیکھنے جا رہا ہوں۔حالیہ چند دِنوں میں مجھے کئی ایسی اچھی ”ٹی وی“ سیر یز کو بھی دیکھنے کاموقع ملا کہ جو ”نیٹ فلکس“”ایما زون“ ”زی“ یا ایسی دوسری ویب سائٹس نے تیار کیں اور ظاہر ہے کہ ایسی ”سیر یز“ کو یوٹیوب یا ”یو ٹورنٹ“ پر آتے کئی ہفتے لگ جاتے ہیں، مگر اللہ بھلا کرے میر ے ریسر چر دوست ابو بکر کا جنہوں نے مجھے کئی اچھی فلموں اور سیر یز کو تجویز کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے ”ویب لنکس“ بھی بتا دیے کہ جن کے ذریعے میں ایک ”کلک“ کے ذر یعے میں ایسی شاندار فلموں اور ٹی وی سیر یز کو دیکھنے کے قابل ہوا،بلکہ اب ذیل میں جن ٹی وی سیر یز کا ذکر ہونے جا رہاہے یہ ان ”لنکس“ کی بدولت ممکن ہوئے جو مجھے ابو بکر بھا ئی نے بھیجے۔ اب ان سیر یز کا ذکر ہو جائے۔”پاتال لوک“ایسی ٹی وی سیریز ہے کہ جس میں جرم اور سیاست کے تعلق کو انتہائی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔بھارتی سیاست میں ”اتر پر دیش“ کی کیا اہمیت ہے اس کو سمجھنے کے لئے ”پاتال لوک“ کو دیکھنا ضروری ہے۔اس سیر یز میں بہت سے دیو مالائی تصورات کو بھی علامتوں کے طور پر استعمال کیا گیا ہے ” ہاتھی رام چوہدری“ جیسا ایک پولیس اہلکار کیسے اپنے کیس کو حل کرنا چاہ رہاہے مگر اس کو علم ہی نہیں ہو رہا کہ وہ کیسے اس سارے کھیل کا صر ف ایک تما شائی ہی ہے۔ ”کوئین“ ویب سیریز میں تامل نا ڈو کی سا بق وزیر اعلیٰ جے للیتا کی زندگی، اداکاری، سیاست اور تامل نا ڈو کے بڑے سیاست دان ”ایم جی آر“ کے ساتھ ان کے تعلق کو بیان کیا گیا ہے۔ سیاست میں کامیابی پانے کے لئے کیا کیا سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں ”کوئین“ دیکھ کر اندازہ ہو تا ہے۔تاہم یہ ویب سیر یز ضرورت سے زیا دہ طویل ہے۔ خاص طور پر جے للیتا کے بچپن اور اداکاری پر بہت زیادہ وقت صرف کیا گیا ہے۔

”سٹی آف ڈر یمز“ کی بات جائے تو اس سیریز میں خاندانی یا مورو ثی سیاست، کرپشن، اقربا پروی،اور پورے نظام کی کمزوری کو انتہائی شاندار انداز میں پیش کیا گیا ہے۔اس سیریز میں ”اتھل کلکرنی“ جیسے منجھے ہوئے اداکار نے ایک انتہائی گھاگ سیاست دان کا کر دار ادا کیا ہے، اس کی بیٹی پریا بھابت جس طرح اپنے بھائی کے مقابلے میں سیاست میں اپنا نا م بنانا چا ہتی ہے یہ سب دیکھ کر توجہ خود ہی پا کستانی سیاست کی جانب چلی جا تی ہے۔”سٹی آف ڈریمز“ مہا راشڑا“ کے معروض میں پیش کیا گیا ہے۔”زی 5“ کی بنائی گئی ویب سیر یز ”رنگ باز“ میں بتا یا گیا ہے کہ کیسے ایک نوجوان ایک واقعہ کے باعث جرم کی راہ پر نکلتا ہے اور پھر کیسے سیاست دان اس کو استعمال کرتے ہیں۔”رنگ باز“ حقیقی واقعات پر بنایا گیا ہے۔اس میں بھی جرم اور سیاست کا تعلق بیان کیا گیا ہے اور اس سے معلوم ہو تا ہے کہ سیاسی اعتبار سے بھارت کی دو سب سے اہم ریاستوں ”یوپی“ اور ”بہار“میں ذات پات اور خاص طور پر ”برہمن“ اور ”ٹھاکر وں“ میں کتنا زیادہ تناؤ ہے اور یہ ذاتیں کیسے سیاست اور سما ج پر اثر انداز ہو تی ہیں۔”رنگ باز“ میں ”رنویر شورے“ اور”روی کشن“کے علاوہ اکثر اداکار نئے ہیں، مگر اس سیریز کی یہ خاص با ت بھی ہے اس میں فحاشی اور عریانی کا سہارا نہیں لیا گیا۔ کیونکہ کئی ”ویب سیریز“ ایسی ہوتی ہیں کہ جن کی کہانی جاندار ہونے کے با وجود ان میں فحاشی اور عریانی کا بھرپور سہارا لیا گیا ہو تا ہے۔ ”ہاوس آف کا رڈز“ جیسا انگر یزی اور ”سیکرڈ گیمز“ جیسی ہندی سیریز اس با ت کی مثا لیں ہیں کہ ان سیر یز خاص طور پر ہاوس آف کا رڈز کی کہانی یا پلاٹ انتہائی جاندار ہے، مگر اس میں فحاشی اور عریا نی کا بھر پور سہارا لیا گیا ہے۔”یور آنر“ بھی انتہائی شاندار سیریز ہے۔اس سیریز کے مرکزی کردار ”جمی شیر گل“ جیسے منجھے ہوئے اداکار نے ایک ایسے سیشن جج کا کردار اداکیا ہے کہ جس کا نام ہا ئی کورٹ کے جسٹس کے لئے بھی تجویز کیا گیا ہے، مگر اس کے بیٹے کی ایک دانستہ غلطی کے باعث یہ سیشن جج مشکل میں پڑ جا تا ہے اور پھرہا ئی کورٹ کا جج بننے کے لئے کیسے کیسے سمجھوتے کرتا ہے یہ سب آپ کو سیریز دیکھنے سے ہی معلوم ہو گا۔”یور آنر“ کی کہانی بھا رتی پنجاب کے معروض میں پیش کی گئی ہے۔ اس سیریز کو دیکھ کر یہ اندازہ بھی ہو جا تا ہے کہ بھارتی پنجاب میں صدیوں سے آباد ”پنجابی“ اور یوپی، سی پی اور بہار سے آئے ہوئے لوگوں کے درمیان کتنے شدید تضادات پائے جا تے ہیں۔”یور آنر“ سیریز کی آخری قسط سب سے زیادہ دلچسپ ہے، جس میں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جمی شیر گل(سیشن جج) کے بیٹے نے پہلی قسط میں جرم کیا کیوں تھا۔ نیٹ فلکس کی جانب سے پیش کیا گیا ”جمتارا“ سیر یز بھی انتہائی دلچسپ ہے۔ اس کا موضوع بہت جاندار ہے۔ موبائل فون کالز کے ذریعے فراڈ کرنے، دوسروں کے بینک اکا ونٹس تک آن لائن رسائی حاصل کرنے جیسے حقیقی واقعات کو ہی ”جمتارا“ کاموضوع بنایا گیا ہے۔ ”جمتارا“بھارتی ریاست ”جھار کھنڈ“ کا شہر ہے اور کچھ عرصہ پہلے اسی شہر میں بڑے پیمانے پر ایسے فراڈ بے نقاب کئے گئے تھے۔ اس طرح کے ”آن لائن“ فراڈ کی خبریں آئے روز پا کستان کے بھی کئی علاقوں سے سامنے آتی رہتی ہیں۔میرا رادہ تو یہ تھا کہ مزید ایسی سیریز کا ذکر کر دیا جا تا کہ جن کے موضوعات جاندار ہونے کے ساتھ ساتھ حقیقی زندگی سے بھی تعلق رکھتے ہیں مگر ایک کالم میں اتنی گنجا ئش نہیں۔ اس کالم میں ایسی سیریز کا ذکر ہی کیا گیا ہے کہ جن میں سیاست، جرم، کرپشن، اقربا پر وری اور سماجی پسماندگی کو اچھی طرح سے بے نقا ب کیا گیا ہے۔فلم اور ڈرامے کو سمجھنے والے نا قدوں کے مطا بق کسی فلم کی کامیابی کا دارو مدار صرف اس با ت پر نہیں ہو تا کہ کسی چیز کو کتنے افراد نے کتنی مرتبہ دیکھا ہے،بلکہ کسی فلم، ڈرامے اورسیریز کی کامیابی کے لئے بہت سے عوامل کو دیکھنا پڑتا ہے۔ان عوامل میں موضوع، پلاٹ یا کہانی، ہدایت کاری، اداکاری، پس منظر، موضوع کو پیش کرنے کا طریقہ شامل ہوتے ہیں۔ اس کالم میں جتنی سیریز کا ذکر کیا گیا ہے ان میں یہ عوامل ہمیں نظر آتے ہیں۔ یوں اس بڑی عید پر ایسے افراد جو کورونا کے اس دور میں اپنے اپنے گھروں میں رہ کر ہی معیاری تفریح کرنا چا ہتے ہیں، وہ ان سیریز کودیکھ کر اپنی عید کا لطف دوبالا کر سکتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -