طالبان کا تین روزہ جنگ بندی کا اعلان

طالبان کا تین روزہ جنگ بندی کا اعلان
طالبان کا تین روزہ جنگ بندی کا اعلان

  

افغانستان میں گزرے20سال سے بچھی ہوئی بساطِ جنگ میں بنیادی طور پر دو فریق ہیں، ایک فریق حملہ آور ہے،جو امریکہ کی شکل میں سامنے، دوسرا فریق افغانستان کے وہ غیور عوام ہیں،جو اپنے وطن کی آزادی کے لئے امریکہ کے خلاف مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ طالبان کی شکل میں سامنے ہیں۔

امریکہ نے نائن الیون کے بعد القاعدہ کے خلاف جنگی مشن شروع کیا اور اسے دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ کا نام دیا، اس جنگ میں اس نے NATO ممالک کے ساتھ ساتھ ایساف فورسز کے ممالک بھی شامل کئے اس طرح امریکی اتحادی ممالک کی تعداد تین درجن سے زیادہ ہو گئی۔ دوسری طرف طالبان اور اس کے ساتھ شامل حقانی نیٹ ورک کے لوگ تھے، جنہیں افغان عوام کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ امریکی اتحادی افواج دن کے وقت شہروں اور اس کے اطراف میں حاکم ہوتے، جبکہ اندھیرا پھیلتے ہی افغان مزاحمتی گروہ دندناتے پھرتے تھے۔ امریکی اور عصر حاصر کی تاریخ میں یہ جنگ طویل ترین ہے، نہ صرف مدت کے اعتبار سے بلکہ جدید ترین اسلحہ کے استعمال اور فوجی اخراجات و نقصانات کے لحاظ سے بھی یہ جنگ ”بے مثل“ ہے۔ جارج بش نے یہ جنگ شروع کی۔ باراک اوباما اسے آخری وقت تک نبھانے کی کوششیں کرتے کرتے اسے بند کرنے کا اعلان کر کے رخصت ہوئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے پھر بھرپور بنانے اور طالبان کی مزاحمت بزور ختم کرنے کا اعلان کیا، جسے طالبان نے خند پیشانی سے قبول کیا،لیکن امریکی صدر کو جلد ہی احساس ہو گیا کہ افغان جنگ جیتنا تو دور کی بات ہے اسے طویل مدت تک جاری رکھنا بھی امریکی قومی مفاد میں نہیں ہے،اِس لئے انہوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ اسی مقام سے جوڑنے کی تگ و دو شروع کر دی، جہاں باراک اوباما نے پہنچائی تھی، پھر دُنیا نے دیکھا کہ دوحہ مذاکرات کامیاب ہوئے۔دُنیا کی سپریم طاقت نے انہی کے ساتھ برابری کی سطح پر آمنے سامنے بیٹھ کر مذاکرات کئے، امن معاہدہ ہوا۔اس معاہدے کی بہت سی شرائط،وعدے وعید ہیں،لیکن مرکزی نقطہ امریکی افواج کی ”باعزت“ اور ”محفوظ“ واپسی ہے۔طالبان نے نہ صرف میدانِ جنگ میں اپنی برتری ثابت کر دکھائی ہے، بلکہ مذاکرات کی میز پر بھی انتہائی ذہانت کا ثبوت دیا ہے۔ایک دشمن(امریکہ) شکست کھا کر واپسی کی راہ لے چکا ہے، اس حوالے سے طالبان نے، جو وعدے کئے تھے ان پر عمل درآمد کر رہے ہیں،بھاگتے امریکیوں پر حملہ آور نہیں ہو رہے ہیں،انہیں ”جو وہ چاہیں“ اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت ہے، طالبان اس عمل میں مزاحم نہیں ہو رہے ہیں۔ دوسرا امریکی اتحادیوں کے بارے میں ہے، یعنی اشرف غنی حکومت تاریخی اعتبار سے یہ حملہ آور کے ساتھی اور افغان عوام کے دشمن ہیں،کیونکہ دشمن کا دوست دشمن ہی ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ افغان امن معاہدے کے بعد بھاگتے ہوئے امریکی تو محفوظ ہیں،لیکن اشرف غنی اینڈ کمپنی طالبان کے نشانے پر ہیں، ان پر ہر طرح سے حملے ہو رہے ہیں۔حالات بدل چکے ہیں۔ افغانستان میں ایک نئی صبح کا سورج طلوع ہو رہا ہے، جس کی روشنی دیکھنے والوں کو نظر آ رہی ہے،لیکن اشرف غنی اینڈ کمپنی اس نئی صبح سے آنکھیں ملانے سے گھبرا رہی ہے۔ طالبان امریکیوں سے متعلق کئے گئے وعدوں پر کار بند ہیں، بھاگتے دشمن کو افغانستان سے نکلنے کا بھرپور موقع فراہم کر رہے ہیں، لیکن دشمن کے دوست کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک جاری رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ افغانستان پر مکمل عمل داری کے لئے انہیں اب اس دشمن کا سامنا ہے۔انہوں نے، یعنی طالبان نے امن معاہدے کے فوراً بعد اس دشمن کو نشانے پر لیا ہوا ہے،اس پر خوف وہراس طاری کر دیا ہے۔اشرف غنی اینڈ کمپنی کو پتہ ہے کہ امریکی افواج کے انخلاء کے بعد افغان فورسز طالبان کی قوتِ قاہرہ کے سامنے ٹھہر نہیں سکے گی۔ طالبان نے تو امریکیوں کی افغانستان میں بھرپور موجودگی میں بھی انہیں ٹکنے نہیں دیا تو پھر امریکیوں کے بعد اشرف غنی حکومت اور افغان فورسز کی کیا اوقات ہے۔یہی وجہ ہے کہ طالبان افغان حکومت پر بتدریج فوجی دباؤ بڑھا رہے ہیں، ان پر خوف و ہیبت تاری کر رہے ہیں،کیونکہ آنے والے دِنوں میں انہیں تخت ِ کابل سے ہٹا کر یہاں امارات اسلامیہ قائم کرنی ہے۔امریکیوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں پر طالبان عمل درآمد قائم کر رہے ہیں۔دُنیا ان کا بدلا ہوا چہرہ دیکھ رہی ہے، لڑکیوں کی تعلیم و تدریس اور عورتوں کی ملازمتوں کے حوالے سے بھی طالبان نے لچک دکھائی ہے۔ اقوام عالم کو یقین دلایا ہے کہ افغانستان میں افغانوں کی ایک قابل ِ قبول اسلامی حکومت قائم کی جائے گی۔امریکیوں نے اپنی بقاء کا معاہدہ کرتے وقت اشرف غنی حکومت کی بقاء کے حوالے سے کچھ شرائط طے کی ہیں، جن کی حیثیت اشرف غنی کی اشک شوئی کے علاوہ کچھ نہیں ہے، طالبان نے بھی ان شرائط پر صاد کیا ہے، لیکن ہمیں پتہ ہے، دُنیا جانتی ہے کہ امریکیوں کے بعد اشرف غنی حکومت بلا شرکت ِ غیرے طالبان کے رحم و کرم پر ہو گی۔ آئندہ حکومت سازی میں ان کی رائے یا شیئر تو دور کی بات ہے تاریخی شواہد کے مطابق ان کی اپنی بقاء ہی ایک مسئلہ ہو گی۔طالبان فاتح ہیں، فاتح ہوں گے۔ اشرف غنی اور ان کے حواری افغانوں کے دشمنوں کے ساتھ ہی گزرے20 برسوں کے دوران لاکھوں انسانوں کے قتل میں یہ لوگ قاتلوں کے ساتھی رہے ہیں، قاتلوں کو طالبان نے،افغان عوام نے، میدانِ جنگ میں شکست دے کر اس سرزمین پر اپنا حق ِ حکمرانی ثابت کر دیا ہے۔ اب یہ کیسے ممکن ہو گا کہ قاتلوں کے ساتھیوں کو شریک ِ اقتدار کر لیا جائے۔افغانستان کی ہزاروں سالہ تاریخ میں پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا ہے اور اب بھی ایسا ممکن نہیں، کیونکہ تاریخ کا یہ سبق ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے اور افغانستان میں تاریخ ایک بار پھر دہرائی جائے گی۔ ان شاء اللہ۔

مزید :

رائے -کالم -