ابنارمل چھٹی حس

ابنارمل چھٹی حس
ابنارمل چھٹی حس

  

چند سال قبل ایک سینئر بیوروکریٹ نے بتا یا کہ ایک مرتبہ ان کی ایک دہشت گرد سے ملاقات ہوئی۔تو انہوں نے دریافت کیا کہ تمیں دوسرے انسانوں کو قتل کرتے ہوئے تکلیف کیوں نہیں ہوتی؟اس پر دہشت گرد کے چہرے پر ایک خطرناک مسکراہٹ نمودار ہوئی اور وہ دھیرے سے بولا: ”جب میں نے اپنے پہلے شکار کو گولی ماری تو مجھے خوف محسوس ہوا۔ بعد میں یہ ایک مزے دار کام بن گیا۔پھرجب میں کسی کو گولی مارتا تھا تو اس کے تڑپنے کا نظارہ بہت مزہ دیتا تھا۔“

اللہ تعالی نے انسانوں کو پانچ حسیات سے نوازا ہے۔انسان انہیں مطمئن یا خوش کرنے کے لئے پوری زندگی کوشاں رہتا ہے۔انسان بہت لذیز کھانا کھانے کا خواہشمند ہے۔ہم جب کسی اچھے کھانے کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے اکثر مراد صرف اور صرف ذائقہ ہوتا ہے۔بہت سے لذیذ کھانے انسانی صحت کے لئے بہت مضر ہوتے ہیں لیکن ایسی جگہوں پر اکثر رش نظر آتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک معروف مچھلی فروش کی دکان پر چھاپہ مارا گیا تو پتہ چلا کر وہ مچھلیوں کو مصالحے لگا کر ایک گندے باتھ روم میں رکھتے ہیں اور ان مچھلیوں کا ذائقہ پورے ملک میں معروف ہے۔ کھانا زبان کو خوش کرنے کے لئے کھایا جاتاہے۔ کھانے کی بات ہوتی ہے تو ہمیں اکثر اپنے ایک دوست یاد آجاتے ہیں جن کی والدہ نے انہیں حرام کھانے سے منع کرتے ہوئے کہاتھا کہ بیٹا کھانے کا ذائقہ زبان کے صرف چند انچ تک ہے مگر یہ ذائقہ انسان کے کردار کو قتل کر دیتا ہے۔

آنکھوں کو خوش اور مطمئن کرنے کے لئے انسان مدتوں سے سیاحت کرتارہا ہے۔ پہاڑ، خوبصورت وادیاں، پھول اور لینڈ سکیپ انسانی آنکھوں کونئے نظاروں سے متعارف کراتے ہیں۔ بعض اوقات لوگ اسے اپنی زندگی کا مقصد سمجھ لیتے ہیں۔وہ خوبصورتی کی تلاش میں پوری دنیا میں سفر کرتے ہیں۔وہ دل موہ لینے والے نظاروں کی محبت میں مبتلا ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ایسے لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی ساری جمع پونجی سیاحت پر لگا دیتے ہیں۔ قدرت کے عجائبات ان کی کمزوریاں ہوتے ہیں۔بہت سے صوفیوں نے بھی نیچر سے ہی نروان حاصل کیا۔سفر روحانیت کی ترقی میں غیر معمولی کردارادا کرتا ہے۔ سیاحت کے لئے ہی امام غزالی نے بغداد یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا عہدہ چھوڑ دیاتھا۔عباسی دور میں اس عہدے کا پروٹوکول یہ تھا کہ اگر وائس چانسلر بغداد یونیورسٹی خلیفہ کے دربار میں جاتا تو خلیفہ کا فرض تھا کہ وہ اٹھ کر وائس چانسلر صاحب کو نشست پر بٹھائے۔ لیکن اگر خلیفہ یونیورسٹی جاتا تو وائس چانسلر خلیفہ کے احترام میں نہیں اٹھتا تھا۔ خلیفہ خود ہی مناسب نشست پر بیٹھتا تھا۔ علم کی یہی عزت تھی جس کی وجہ سے عباسیوں کے عہد میں غیرمعمولی ترقی ہوئی اور اسے عالم اسلام کا سنہری دور قرار دیا جاتا ہے اور اس دور میں عباسی خلفاء 52لاکھ مربع میل سے زائدرقبے پر حکومت کرتے تھے۔ مگر امام غزالی نے 34 سال کی عمر میں بغداد یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدے کو چھوڑ دیا اور دنیا کی سیروسیاحت پر نکل پڑے۔ ان سے کسی نے اس فیصلے کی منطق دریافت کی تو انہوں نے کہا کہ میں نے خدا کو اس پروٹوکول میں تلاش کرنے کی کوشش کی جو حکومت دیتی تھی۔ مجھے میرا خدا اس میں نہ ملا۔ پھر میں نے خدا کو دولت میں تلاش کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ مجھے میرا خدا سفر اور خدا کے بندوں سے ملاقات میں ملا۔ گویا سفروسیاحت امام غزالی کے دل کی راحت بنا۔

اللہ نے انسان کو سونگھنے کی حس سے نوازا ہے۔ انسان اپنی ساری زندگی اچھی سے اچھی خوشبو کے تعاقب میں رہتا ہے۔ دنیا میں کھربوں روپے کی پرفیوم انڈسٹری انسان کی اس ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کرتی ہے مگر جنگلوں میں کھلے ہوئے گلاب جنت کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ جھرنوں کے پانی کی آواز اور درختوں کی خوشبو انسان کے لئے کائنات کو بدل دیتی ہے۔ صوفی روحانیت کے اعلیٰ درجوں میں بھی غیر معمولی خوشبوؤں کے تذکرے کرتے ہیں۔ انسان اپنی زندگی میں خوبصورت، نرم و نازک اور منفرد چیزوں کو چھو کر بھی خوشی اور اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ حجراسود کو چھونا مسلمانوں کی زندگی کا بڑا مقصد ہوتا ہے۔ جنہیں یہ سعادت حاصل ہوجاتی ہے وہ اس کرم کو محسوس تو کرتے ہیں اکثر بیان کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اسی طرح یہودی دیوار گریہ کو چھوتے ہیں تو گویا ان کی سب سے بڑی خواہش پوری ہوتی ہے۔ عیسائیت، بدھ ازم، ہندومت اور دوسرے مذاہب کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ گویا بعض اوقات چھونے سے ہم اپنا مقصد زندگی حاصل کرتے ہیں۔ ہیوسٹن میں مجھے ایک نو مسلم امریکی نے بتایا کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے اس کی زندگی کا مقصد یہ تھا کہ کوئی غیر معمولی پینٹنگ دیکھ لی جائے۔ کسی بہت خوبصورت لڑکی کے ساتھ ڈیٹ پر جایا جائے۔ کوئی میوزک کا شاہکار سنا جائے۔ مگر جب سے میں مسلمان ہوا ہوں مجھے نماز پڑھنا بہت اچھا لگتا ہے۔ میں اپنی نماز کو انجوائے کرتا ہوں۔ اللہ کے ساتھ بات کرنے میں مجھے ابدی سکون اور راحت ملتی ہے۔ انسان بات کرنے سے خوش ہوتا ہے۔ قوت گویائی غیر معمولی عطیہ ہے۔ انسان نے اس صلاحیت کو استعمال کر کے دنیا کو تبدیل کیا ہے۔ سیاستدان اپنی زبان کے ساتھ حکومت حاصل کرتے ہیں۔ زبان ہی انہیں تخت سے تختہ دار تک بھی لے جاتی ہے۔ اچھی گفتگو کرنا انسان کا سب سے خوبصورت تجربہ ہے۔

انسان جب اقتدار حاصل کرتا ہے تو اس کی شخصیت میں حیرت انگیز تبدیلیاں آتی ہیں۔ ولیم کیسلر نے لکھا ہے کہ وہائٹ ہاؤس جیسے اقتدار کے ادارے انسان کو تبدیل کر کے رکھ دیتے ہیں۔ ایسی جگہوں پر بہت کم لوگ اپنی شخصیت کو بچانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا تھا کہ دولت، اختیار اور اقتدارانسان کو تبدیل نہیں کرتا بلکہ بے نقاب کر دیتا ہے۔ اقتدار گاہیں انسانوں کو بے نقاب ہی نہیں کرتیں بلکہ انہیں بالکل تبدیل کر دیتی ہیں۔ پانچ حسوں کے ساتھ ایک نئی حس پیدا ہوتی ہے۔ اکثر صورتوں میں یہ حس انسانوں کے لئے بڑی تباہ کن ہوتی ہے۔ ایسے لوگ انسانوں یا دشمنوں کو تڑپتے، مرتے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ وہ اپنے مخالفین کو ذلیل و خوار ہوتے ہوئے دیکھنے کے جنون میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ان کے کردار کی یہ حس لوگوں کو ہی عذاب میں مبتلا نہیں کرتی بلکہ یہ خود انہیں بھی مسلسل عذاب میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ایسے لوگوں کی نیند رخصت ہو جاتی ہے۔ صحت کے عجیب و غریب مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ بعض اوقات کینسر جیسا موذی مرض اپنی پوری دہشت کے ساتھ نمودار ہوتا ہے۔

امریکہ میں اس حس کو نفسیاتی مسئلہ قرار دیا جاتا ہے۔ پولیس افسروں کے لئے چھٹی پر جانا لازم قرار دیا جاتا ہے اور انہیں نارمل انسان بنانے کے لئے ان کے لئے مختلف تفریحات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مغربی معاشرے کام کی عظمت سے انکار نہیں کرتے لیکن انہوں نے زیادہ ترقی ہفتے میں پانچ دن، آٹھ سے دس گھنٹے تک کام کر کے کی ہے۔ وہ مشینوں پر حکومت کرتے ہیں اور مشینوں سے اپنے کاروبار مملکت چلاتے ہیں لیکن خود کوشش کرتے ہیں کہ مشین نہ بنیں۔ امریکہ میں صدر ریگن کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ وہ دو مرتبہ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے۔ تیسری مرتبہ ان کا نائب صدر امریکہ منتخب ہوا۔ انہوں نے سوویت یونین کا خاتمہ کیا اور امریکی معیشت کو ناقابل یقین حد تک بہتر بنایا۔ مگر صدر ریگن دوپہر کو سوتے تھے اور رات کو نو بجے خواب گاہ میں چلے جاتے تھے اور انہوں نے ہدایت کر رکھی تھی کہ انہیں صبح تک کسی صورت ڈسٹرب نہ کیا جائے۔ انہوں نے اپنے عملے کو ہدایت کی تھی کہ وہ ان کے پاس تمام اہم فائلیں بھیجیں۔ تاہم ان کے پڑھنے کے لئے صرف ایک پیرگراف ہونا چاہیے۔ وہ پوری فائل پڑھنے کی بجائے محض ایک پیراگراف پڑھ کر انسانی تاریخ کے اہم فیصلے کرتے رہے۔ انہوں نے اقتدار کے جن پر قابو پا لیا تھا۔ انہوں نے اقتدار کو اپنی شخصیت مسخ کرنے کی اجازت نہیں دی اور تاریخ عالم میں ایک منفرد مقام بنایا۔ میں اکثر مقتدر لوگوں کو دیکھتا ہوں۔ ایسے لوگوں سے بھی ملاقات ہوتی ہے جو اپنی خوشی اور راحت لوگوں کے عذاب میں تلاش کرتے ہیں۔ ان سے اگر کسی کا فائدہ ہو جائے یا ان کی بات سے کوئی خوش ہو جائے۔ اس سے وہ باقاعدہ ہفتوں پریشان ہوتے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن میں ابنارمل چھٹی حس ہوتی ہے۔ جو ان کے لئے ہی نہیں دوسروں کے لئے نئے نئے عذاب تخلیق کرتی رہتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -