جمہوریت کو لگی دیمک

جمہوریت کو لگی دیمک
جمہوریت کو لگی دیمک

  

گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ خواہش ہی رہی ہے کہ قومی اسمبلی کا کوئی ایسا اجلاس ہو جس میں نہایت شائستگی اور بردباری کے ساتھ ارکان اسمبلی خطاب کریں، ایک دوسرے کا مؤقف سنیں، تعمیری گفتگو ہو، ملک و قوم کے مسائل حل کرنے کی سنجیدہ کوششیں نظر آئیں مگر اے بسا آرزو کہ خاک شد،کبھی یہ خواہش پوری نہیں ہوئی بلکہ معاملہ پہلے سے گھمبیر تر ہوتا چلا گیا۔ یہ آج کی بات نہیں کہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور خواجہ آصف نے ایک دوسرے کے بخیئے اُدھیڑے، ایسی زبان استعمال کی جو کسی معیار پر پوری نہیں اترتی، ایسے شخصی حملے کئے جو سینئر سیاستدانوں کو زیب نہیں دیتے، بلکہ پہلے بھی یہی منظر اسی ایوان میں تسلسل کے ساتھ نظر آتا رہا ہے۔ اب ذرا غور فرمائیں کہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور خواجہ آصف تو 60 برس کی عمر کو پہنچے ہوئے ہیں، لیکن معاملہ تو دوسری طرف بھی ایسا ہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور مراد سعید نوجوان سیاستدان ہیں مگر مجال ہے انہوں نے اپنی خو بدلی ہو، وہ بھی اسی ڈگر پر چل رہے ہیں، جو کئی دہائیوں سے ہمارا مقدر بنی ہوئی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا ہدف اگرچہ مراد سعید نہیں عمران خان ہوتے ہیں لیکن جواب میں مراد سعید بلاول بھٹو زرداری کو نشانہ بناتے ہیں، مراد سعید کی ذاتی شخصیت بچتی ہے اور نہ بلاول بھٹو زرداری کی شخصیت کو بخشا جاتا ہے۔ اس بار تو ایک عجیب روایت قائم ہوئی ہے بلاول بھٹو زرداری تقریر کرتے ہیں، جب مراد سعید کی باری آتی ہے تو اپوزیشن بائیکاٹ کر جاتی ہے اس سے پہلے وزیر اعظم عمران خان بھی اب تک یہ روایت قائم کر چکے ہیں کہ خود تقریر کرتے ہیں اور اس کے فوراً بعد ایوان سے چلے جاتے ہیں۔ اپوزیشن رہنماؤں کی یہ خواہش دل ہی میں رہ جاتی ہے کہ انہیں جواباً کچھ سنائیں۔

مجھے یاد ہے کہ میں 90 کی دہائی میں بھی اسی موضوع پر کالم لکھتا تھا کہ قومی اسمبلی کا ایوان مچھلی منڈی بن گیا ہے اور آج بھی اس کی صورت منڈی جیسی ہی نظر آتی ہے اب تو معاملہ اس لئے مزید خراب ہو گیا ہے کہ قومی اسمبلی کے خطاب براہ راست دکھائے جاتے ہیں پوری قوم یہ دیکھ رہی ہوتی ہے کہ ایوان میں اس کے نمائندے کیا کر رہے ہیں یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ جتنی پھکڑ گفتگو کی جائے گی، اتنا ہی مقبولیت ملے گی ذو معنی جملوں کے ذریعے بازاری زبان کی حد تک کھلواڑ کیا جاتا ہے بعض اوقات تو گھن آنے لگتی ہے کہ اگر ہمارے عوامی نمائندے یہ ہیں تو دست بستہ ان سے پناہ مانگ لی جائے۔ صاف نظر آتا ہے کہ ارکان اسمبلی جنہیں ملکی مسائل پر پوری تحقیق سے بات کرنی چاہئے، اس طرف ذرہ بھر توجہ نہیں دیتے، بس ایوان میں آکر اس کا ماحول دیکھ کے اظہار خیال کرتے ہیں جس کا مقصد سوائے مخالف کی تضحیک کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ یہ ایسی اسمبلی کا حال ہے جس پر عوام کے کروڑوں روپے صرف ہوتے ہیں یہ اس ملک کی اسمبلی ہے جو گھٹنوں تک مسائل میں ڈوبا ہوا ہے۔ یہ ایسے عوام کا ایوان ہے جو معاشی و سماجی مسائل کی وجہ سے انتہائی کسمپرسانہ زندگی گزار رہے ہیں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کی نمائندگی کے نام پر جو لوگ ان ایوانوں میں پہنچے ہیں، ان کا عوام کے مسائل سے سرِ مو کوئی تعلق نہیں، وہ صرف اپنے مسائل پر بحث کے لئے اس ایوان میں آتے ہیں اور مخالف کو تنقید کا نشانہ بنا کر حقِ نمائندگی ادا کرتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں سب نے دیکھا کہ احتساب قوانین میں ترمیم کے لئے اپوزیشن اور حکومت کتنی سنجیدہ نظر آئیں۔ ایک انتہائی اہم مسئلے پر جو ہڑبونگ نظر آئی، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مل بیٹھ کے مسائل کو حل کرنے کی کوئی روایت سرے سے موجود ہی نہیں۔ اپوزیشن اس معاملے میں ایک انتہا پر کھڑی ہے اور حکومت دوسری انتہا پر دونوں پہلے اس نکتے پر تو متفق ہوں کہ ملک میں احتساب کا عمل جاری رہنا چاہئے۔ اپوزیشن نے جو 35 نکاتی تجاویز پیش کیں، ان پر عمل ہو جائے تو ملک سے احتساب کا جنازہ ہی نکل جائے، دوسری طرف حکومت ہے کہ جو اس معاملے پر لچک دکھانے کو تیار نہیں البتہ اسمبلی کے فلور پر ایک دوسرے کو چور، ڈاکو، لٹیرے کہنے کی رسم دونوں طرف سے پوری شد و مد کے ساتھ ادا کی جا رہی ہے۔ اسی بات کو مان لیا جائے تو پھر دونوں طرف یہ مطالبہ ہونا چاہئے کہ کڑا احتساب کیا جائے، کڑے قوانین بنائے جائیں مگر اس کی بجائے تان اس نکتے پر ٹوٹتی ہے، کہ نیب کو ختم کیا جائے، نیب قوانین میں تبدیلی لائی جائے، اختیارات کم سے کم کئے جائیں، یعنی سب چور بھی ہیں اور سب یہ بھیک مانگتے ہیں کہ کسی کو پکڑا بھی نہ جائے۔ کیا دنیا میں کوئی ایسا ملک ہے جہاں احتساب کا قانون موجود نہ ہو کیا سرکاری عمال اور عوامی نمائندوں کو کسی ملک میں کرپشن کرنے کی کھلی چھوٹ موجود ہے۔ احتساب کا ادارہ تو ہونا ہے کیونکہ آئین بھی یہی کہتا ہے۔ اب بات چیت تو اس موضوع پر ہونی چاہئے کہ ایک شفاف اور بے لاگ احتساب کے لئے قوانین میں کیا تبدیلی لائی جائے۔ اس کی بجائے تبدیلی یہ مانگی جا رہی ہے کہ نیب کے اختیارات کو ختم کیا جائے، ایک ارب تک کی کرپشن کو نیب کے دائرے سے نکالا جائے اس کے گرفتار کرنے کے اختیارات ختم کئے جائیں، غرض در پردہ تجویز ہے، جس سے یہ کھلی چھٹی مل جائے کہ جو کوئی لوٹ مار کرنا چاہتا ہے بے فکری کے ساتھ کرے، اسے کوئی نہیں پکڑے گا۔ معاملہ صرف سوچ میں تبدیلی کا ہے۔ اگر ہمارے عوامی نمائندے، جو اپوزیشن اور حکومت دونوں جگہ موجود ہیں اس سوچ کے ساتھ قوانین میں تبدیلی کریں کہ ملک میں احتساب کا ایک شفاف نظام رائج کریں گے، جس میں کوئی بے گناہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنے اور نہ اس کی زندگی اجیرن کی جائے اور دوسری طرف کوئی مجرم سزا سے بچ نہ سکے، تو معاملات مل کر حل کرنے کی کوئی راہ نکل سکتی ہے۔ مگر اگر یہ سوچ ہے کہ احتساب کو سرے سے دیس نکالا دینا ہے اور حکومت میں آ کر جو چاہے کرنا ہے، تو پھر نہ یہ سوچ عملی شکل اختیار کر سکتی ہے اور نہ عوام ایسے احتساب قانون کی حمایت کر سکتے ہیں۔

یہ پارلیمینٹ آخر کس مرض کی دوا ہے۔ اس میں سارے معاملات زیر بحث کیوں نہیں لائے جاتے سارے فیصلے بالا بالا ہی کیوں کئے جاتے ہیں شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر دور کی حکومت یہ سمجھتی رہی ہے کہ معاملہ اگر اسمبلی میں لایا گیا تو کئی پنڈورا بکس کھل جائیں گے، اس لئے وہ خاموشی سے فیصلے کرتی ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن میں بھی اتنی سنجیدگی اور بصیرت نہیں ہوتی کہ کسی بھی ایشو کو پوری جزئیات کے ساتھ سامنے لا سکے دونوں طرف کا یہ رجحان بالآخر اس بازاری بحث کو جنم دیتا ہے، جسے ہم آئے روز دیکھتے ہیں یہی وہ سب سے بڑی دیمک ہے، جو ہماری جمہوریت کو مضبوط نہیں ہونے دیتی۔ جب تک منتخب ایوان مضبوط اور با اختیار نہیں ہوں گے، جمہوریت ایسی ناؤ کی صورت ہچکولے کھاتی رہے گی جو طوفانی تھپیڑوں کی زد میں آئی ہوئی ہو۔

مزید :

رائے -کالم -