یہ فیضانِ نظر تھا یاکہ مکتب کی کرامت تھی سکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی؟

یہ فیضانِ نظر تھا یاکہ مکتب کی کرامت تھی سکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ ...

  

علامہ کرامت عباس حیدری

جب عید قربان کا لفظ ذہن میں ابھرتا ہے تو ایک عجیب سوال پیدا ہوتا ہے کہ قربانی نام ہے اپنی پیاری چیز کے قربان کرنے کا اور اپنے سے جدا کرنے کا تو جہاں جدائی ہے وہاں کفیت غم ہے اور غم کے ساتھ لفظ عید کا تعلق ہے۔لیکن جہاں قربانی کو خوشی اور تشکر کی منزل پر ادا کی جائے اس کو عظمت کو اطاعت اللہ کہتے ہیں اللہ نے تمام انبیائے کرام میں خلیل کا لقب جناب ابراہیم کو عطا کیا۔بس معبود پہ اپنے محبوب کو قربان کرنا ہی حق عبدیت کہلاتا ہے ہر مفضول اپنے سے افضل پر قربان ہوتا ہے زمین بیج پر قربانی ہوتی ہے بیج فصل کی صورت میں جانور پر قربان ہوتا ہے جانور انسان پر قربان ہوتا ہے انسان نبی پر نبی خدا پہ قربان ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ نے بعض نبیوں کو بیٹوں سے آزمایا۔ جناب آدم علیہ السلام کو بیٹے سے آزمایا۔ جناب نوح کو بیٹے سے آزمایا جناب ابراہیم کو بیٹے سے آزمایا جناب یعقبوب کو بیٹے سے آزمایا۔

اللہ کو یہ آزمائشیں بوجہ عدم یقینیٰ نہیں بوجہ بلندی درجات انبیاء تھی جناب ابراہیم علیہ السلام کو سورہ بقرہ کی آیت نمبر 122 میں ارشاد ہوا یاد کرو جب ہم نے ابراہیم کو کلمات میں آزمایا تو کامیاب پایا اور ہم نے امامت عطا کی اور ابراہیم علیہ السلام نے اپنی ذریعت میں بھی یہ امانت منتقل کرنے کی دعا کی۔

اللہ نے ابراہیم اور جناب اسماعیل کو معمار کعبہ بھی قرار دیا۔

سورہ بقرہ آیت نمبر 126 میں فرمایا کہ یاد کرو جب ابراہیم اور اساعیل دیواروں کو بلند کرتے جا رہے تھے اور دعا کرتے جا رہے تھے کہ ہماری اس سعی کو قبول فرما۔اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیم علیہ السلام اور جناب اسماعیل علیہ السلام کو شامل درود بھی قرار دیا آج جب ہم اپنے آقا رسول اللہ اور ان کی آل مقدس پر درود بھیجھتے ہیں (کما صلیت علی ابراہیم وآلی ابراہیم) بھی کہتے ہیں اللہ نے قرآن شجرہ ابراہیم میں کہا کہ وہ مشرک نہ تھے اور مشرکین میں سے نہ تھے اللہ نے آج بھی سنت ابراہیم کو زندہ رکھا ہے جانور ذبح کرنا سنت ابراہیم ہے اور نفرتیں ذبح کرنا سنت رسولؐ ہے۔

اللہ نے جناب ابراہیمؑ کو خلیل قرار دیا یہ قربانی اور حج سنت ابراہیمؑ ہے ابراہیم علیہ السلام کو قرآن نے بت شکن قرار دیا انبیاء نہ کہ صرف بت شکن ہوتے ہیں لیکن میرے رسولؐ تو دِل شکن بھی نہ تھے اور اللہ کا کوئی بھی نبی دِل شکن نہیں ہوتا۔

اللہ نے جناب ابراہیم علیہ السلام کو نہایت پاکیزہ اور اطاعت گزار ازواج عطا فرمائیں جناب ہاجرہ اور جناب سائرہ اور دونوں وفادار اور اللہ کی اطاعت گزار تھیں، اللہ نے ان کی نسل کو خیر عطا کی جناب سائرہ سے سلسلہ نبی اسرائیل اور جناب ہاجرہ سے سلسلہ عرب جاری رہا۔ جناب سائرہ سے آخری رسول جناب عیسیٰ علیہ السلام اور جناب حاجرہ سے خاتم النبین سرکار احمد مجتبیٰ قرار پائے اور اسی طرح جناب عیسیٰ کو چوتھے آسمان پر زندہ رکھا ہے اور اولاد رسول سے جناب امام مہدی علیہ کو آنا ہے اور جناب امام مہدی کے پیچھے جناب عیسیٰ کا نماز پڑھنا ہی سورہ کوثر کے وعدے کی تکمیل ہے۔

قربانی ہمیشہ سے درجات میں بلندی عطا کرتی ہے یعنی قربانی کا حکم اپنے محبوب کو ہی دیا اللہ نے جناب ابراہیم علیہ السلام کی قرآنی دعاؤں کو قبول کیا ان کی نسل میں امامت کو بھی باقی رکھا شہر مکہ کو پھلوں کا شہر بھی بنایا امن کا شہر بھی قرار دیا اور شامل درود بھی رکھا سنت قربان اور حج بیت اللہ کی نسبت کو بھی جاری رکھا۔

بس اللہ نے جناب ابراہیم علیہ اسلام پر صحیفہ بھی بھیجا صاحب شریعت بھی قرار دیا بت شکن بھی قرار دیا۔ معصوم بھی رکھا محفوظ بھی رکھا معمار کعبہ بھی قرار دیا کامل و اکمل بھی رکھا۔جناب ابراہیم علیہ السلام کو خواب آیا کہ میرے راستے میں سب سے پیاری چیز قربان کیجئے تین دن یہ سلسلہ خواب جاری رہا اور آخر فیصلہ کیا کہ اللہ کی راہ میں سب سے پیاری چیز دوں گا اور جناب اسماعیل کا انتخاب کیا۔اپنے صاحب زادے کو بتایا کہ اگر آپ کو اللہ کی راہ میں قربان کروں تو کیسا پاؤں گا تو جناب اسماعیل نے فرمایا کہ بابا آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے۔جناب ابراہیم علیہ السلام بیٹے کو لے کر منی پہنچے اور اللہ کی اطاعت میں بیٹے کی قربانی کو تیار کیا اور اپنی آنکھوں پہ پٹی باندھی اور راہ خدا میں بیٹے کی گردن پر چھری چلا دی، ہاتھوں کو خون کی گرمی ہی محسوس ہوئی بسم اللہ پڑھ کر پٹی کھولی تو بیٹا مسکرا رہا تھا اور دُنبہ ذبح ہو چکا تھا۔

یہاں بڑی اہم بات ہے کہ بیٹے کو زندہ دیکھ کر اور دُنبے کو ذبح دیکھ کر جناب ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:اے پالنے والے کیا میری قربانی قبول نہیں ہوئی۔ خالق نے فرمایا ابراہیم ہم نے آپ کی قربانی کو قبول کیا اور آپ میرے خلیل ہیں اور آپ کا بیٹا ذبیح اللہ ہے۔

سورہ کوثر میں فرمایا گیا تھا۔

اللہ قرآن میں ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھ تک نہ خون پہنچتا ہے نہ ہڈیاں بلکہ وہ نیت پہنچتی ہے جس سے تم قربانی کرتے ہو۔

اِس لئے میرے نبی نے فرمایا تھا کہ ہر عمل کا دارو مدار نیت پر ہے، قربانی تقرب الٰہی کا بہترین وسیلہ ہے اور قربانی سجدہ شکر کے ساتھ ہو تو ایمان کامل ہے،جب امام حسین علیہ السلام نے اپنے بیٹے علی اکبر کو راہ خدا پہ قربان کرنے کا ارادہ کیا تو پوچھا کہ بیٹا اگر مَیں آپ کو قربان کرو تو کیسا محسوس کرو گے، فرمایا بابا آپ مجھے شاکرین میں سے پائیں گے۔

آج اربوں مسلمان جناب ابراہیم کی سنت کو زندہ کر کے اپنے مومن ہونے کا حق ادا کرتے ہیں، لیکن اپنی قربانی میں مساکین، غربا اور اقربا کو نہ بھولیں اللہ کے ہاں اپنے نفس کی قربانی کو ہی عظیم قربانی قرار دیا ہے۔قربانی کا مفہوم یہ ہے کہ ہمیں ہر قسم کی دل شکنیوں سے محفوظ رہنا ہے۔وطن کی محبت ایمان ہے آج ہم فریضہ قربانی ادا کرتے ہوئے آزاد ہیں یہ اللہ کا کرم ہے اس قربانی کے موقع پر نفرتوں کو ذبیح کرنا ہو گا، تقویٰ کی چھری سے غرور کو ذبح کرنا نہ بھولنا، اناؤں کو خدا پر قربان کرنا نہ بھولنا۔علم سے ظلم کو ذبح کرنا نہ بھولنا،خطاؤں کو معاف کرنا نہ بھولنا، اپنوں کو عزت دینا نہ بھولنا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -