آیئے عیدالاضحی سنت نبوی  کے مطابق گزاریں 

آیئے عیدالاضحی سنت نبوی  کے مطابق گزاریں 

  

تحریر:مولانا حافظ اسعد عبید الازھری

”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے یوم الاضحی (قربانی کے دن) کو عید کا حکم دیا گیا جسے اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے عید بنایا ہے۔“   (ابوداؤد)

چنانچہ ہر مسلمان کی بھر پور کوشش ہونی چاہیے کہ عید الاضحی کو سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق گزارے تاکہ اس عید کے لمحات اجرو ثواب کا ذریعہ بن جائیں۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب ذو الحجہ کا پہلا عشرہ آئے تو تم میں سے جو لوگ قربانی کا ارادہ کریں وہ نہ تو اپنے بال منڈائیں اور نہ ترشوائیں اور نہ ناخن کاٹیں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ جو شخص ذوالحجہ کا چاند دیکھے اور قربانی کا ارادہ کرے اسے چاہیے کہ (جب تک قربانی نہ کرلے) نہ بال منڈائے نہ ترشوائے اور ناخن کٹوائے۔(رواہ مسلم)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی دن جس میں اللہ کی عبادت کی جائے ذوالحجہ کے عشرہ سے بہتر نہیں ہے ان دونوں میں ایک دن کے روزہ کا ثواب سال بھر کے روزوں کے ثواب کے برابر ہے۔(رواہ الترمذی وقال اسنادہ ضعیف)

یوم عرفہ یعنی نویں تاریخ کی فجر کی نماز سے تیرھویں تاریخ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد بآواز بلند ایک مرتبہ یہ تکبیر پڑھنا واجب ہے اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد فتویٰ اس پر ہے کہ باجماعت نماز پڑھنے والے اور اکیلے نماز پڑھنے والے دونوں کے لیے تکبیر پڑھنا واجب ہے صاحبینؓ کے نزدیک مرد و عورت دونوں پر واجب ہے۔ البتہ عورت بلند آواز سے تکبیر نہ کہے آہستہ کہے۔ (شامی)

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ لکھتے ہیں کہ:

اس تکبیر کا متوسط (درمیانی) بلند آواز سے کہنا ضروری ہے بہت سے لوگ اس میں غفلت کرتے ہیں پڑھتے ہی نہیں یا آہستہ پڑھ لیتے ہیں اس کی اصلاح ضروری ہے۔(احکام عیدالاضحی و قربانی ص ۳۲)

عید الاضحی کے دن یہ چیزیں مسنون ہیں:

صبح جلدی اٹھنا، غسل کرنا، مسواک کرنا، عمدہ سے عمدہ کپڑے پہننا جو پاس موجود ہوں، خوشبو لگانا، شرع کے موافق آرائش کرنا، عید گاہ میں جلدی جانا، عید گاہ میں نماز عید کے لیے جانے سے پہلے کوئی چیز نہ کھانا بلکہ نماز کے بعد قربانی کے گوشت میں سے کھانا۔

(بعض لوگ اس عمل کو روزہ کہتے ہیں۔ ایسا نہیں کہنا چاہیے اس لیے کہ عید کے ایام میں روزہ رکھنا منع ہے۔ اور یہ عمل شہر کے لیے ہے دیہات میں جہاں عید کی نماز نہیں ہوتی وہاں دسویں تاریخ کو صبح صادق کے بعد قربانی جائز ہے لہٰذا وہاں قربانی کا گوشت قربانی کے فوراً بعد کھایا جا سکتا ہے)

عید گاہ میں نماز پڑھنے کے لیے پیدل جانا، جس راستہ سے جائیں اس کے سوا دوسرے راستے سے واپس آنا،راستہ میں بلند آواز سے اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد پڑھتے جانا۔ (جب کہ عید الفطر میں آہستہ آواز سے مسنون ہے)

عیدالاضحی کی نماز پڑھنا مسنون ہے۔ (بحر، جلد ۲ ص ۱۶۰) (مدارج النبوۃ)

حضرت خالد بن سعدؓ سے مروی ہے کہ آپ کی عادت کریمہ تھی کہ عیدالفطر یوم النحر اور یوم عرفہ میں غسل فرماتے تھے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن خوبصورت اور عمدہ لباس زیب تن فرماتے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی سبز و سرخ دھاری دار چادر اوڑھتے تھے یہ چادریمن کی ہوتی تھی جسے بردیمانی کہا جاتا ہے۔ عید کے لیے زیب و زینت کرنا مستحب ہے لیکن لباس مشروع ہو۔ (مدارج النبوۃ)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت کریمہ تھی کہ نماز عید عید گاہ (میدان) میں ادا فرماتے تھے۔ (بخاری و مسلم)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے اور جب نماز سے فارغ ہوتے تو کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے۔

عیدین کے خطبہ میں پہلے تکبیر سے ابتدا کرے۔ اول خطبہ میں نو مرتبہ اللہ اکبر کہے اور دوسرے خطبہ میں سات مرتبہ۔(شرح التنویر جلد ۱ ص ۱۱۶) (بحر، جلد ۲ ص ۱۶۲)

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -