کاشتکاروں کو جڑی بوٹیوں کے فوری تدارک کی  ہدایت

کاشتکاروں کو جڑی بوٹیوں کے فوری تدارک کی  ہدایت

  

فیصل آباد(اے پی پی):جامعہ زرعیہ فیصل ۱ٓباد کے ماہرین زراعت نے بتایا کہ جڑی بوٹیاں گندم کی فی ایکڑ پیداوار8 1 سے 30 فیصد، کپاس کی 3سے 41 فیصد،دھان کی17سے39  فیصد، گنے کی10سے 35 فیصد،مکئی کی 24سے47 فیصد، دالوں کی 25سے 55 فیصد،تیلدار اجناس کی 21سے 45 فیصد اور سبزیات کی39سے 89 فیصد تک کم کر دیتی ہیں لہٰذا کاشتکاروں کو فوری تدارکی اقدامات کی ہدائت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ جڑی بوٹیوں کو فوری تلف کرکے بڑے نقصان سے بچا جا سکتا ہے کیونکہ فصلات کی فی ایکٹر پیدا وار میں 45 فی صدتک کمی سے جہاں زرعی اجناس کی پیداوار کا مقررہ ہدف متاثر ہوتا ہے وہیں کاشتکاروں کو بھی بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے بتایاکہ فصلوں کی منافع بخش کاشت میں سب سے زیادہ خطرہ جڑی بوٹیوں سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق کیڑے مکوڑے 30 فیصد، بیماریاں 20 فیصد، متفرق 5فیصد اور جڑی بوٹیاں فصلوں کی فی ایکٹر پیدا وار میں 45 فیصدتک کمی کا باعث بنتی ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں جڑی بوٹیوں پر کی گئی تحقیق کے مطابق جڑی بوٹیاں قیمتی زرعی وسائل کیلئے بہت بڑ ا خطرہ بن کر سامنے آئی ہیں۔ 

انہوں نے مزید کہاکہ زرعی وسائل جن کو جڑی بوٹیاں بہت زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں ان میں پانی،خوراک،روشنی اور جگہ بہت اہم ہیں کیونکہ فصلوں کی منافع بخش کاشت کیلئے پانی بہت ضروری ہے۔ انہوں نے بتایاکہ جڑی بوٹیاں زمین میں پہلے سے موجود پانی اور آبپاشی کی صورت میں دیا جانے والا قیمتی اور تیزی سے نایاب ہوتا ہوا پانی اپنی نشوونما کیلئے استعما ل کر کے ضائع کر دیتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جڑی بوٹیاں فصلوں کے مقابلہ میں تیزی اور زیادہ گہرائی سے پانی حاصل کرتی ہیں اسلئے ان کا فوری تدارک اشد ضروری ہے۔

مزید :

کامرس -