کراچی میں شہید پولیس افسر کو عقب سے گولی ماری گئی

کراچی میں شہید پولیس افسر کو عقب سے گولی ماری گئی

  

کراچی (کرائم رپورٹر)کراچی میں ناردرن بائی پاس پر گزشتہ رات پولیس افسر کی ٹارگٹ کلنگ کے وقت لوڈ پستول مقتول پولیس سب انسپکٹر یار محمد کے ہاتھ میں تھی انہیں عقب سے ایک ہی گولی ماری گئی۔ کاونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ نماز جنازہ کے بعد میت فیصل آباد روانہ کر دی گئی ہے۔پولیس کے مطابق گلشن معمار تھانے میں دن کی ڈیوٹی پر تعینات سب انسپکٹر یار محمد گزشتہ رات 8 بجے ڈیوٹی ختم کرکے پولیس کانسٹیبل غوث بخش کے ساتھ قائد آباد میں واقع اپنے گھر جانے کے لیے روانہ ہوئے۔ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر کے مطابق اکثر ایسا ہوتا تھا کہ سب انسپکٹر یار محمد پولیس کانسٹیبل غوث بخش کے ساتھ موٹر سائیکل پر تھانے سے گھر کے لیے روانہ ہوتے تھے، وہ عباس کٹ سے نادرن بائی پاس سے ہوتے ہوئے موٹروے سے ملیر ماڈل کالونی لنک روڈ لیتے تھے۔عرفان بہادر کے مطابق پولیس کانسٹیبل غوث بخش سب انسپکٹر یار محمد کو ملیر ہالٹ بس اسٹاپ پر موٹرسائیکل سے اتار دیتے تھے جہاں سے یار محمد بس میں سوار ہوکر قائد آباد کے لیے روانہ ہو جاتے تھے۔ پولیس کے مطابق واردات کے وقت بھی غوث بخش ساتھ تھے جو سی ٹی ڈی تھانے میں قتل اور انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت درج مقدمہ نمبر 114 میں مدعی ہیں۔پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق گلشن معمار تھانے سے روانہ ہوکر نادرن بائی پاس تک پہنچنے کے لیے ویران علاقے میں وارداتوں کا خطرہ رہتا ہے جس بنا پر سب انسپکٹر یار محمد نے موٹر سائیکل پر سفر کے دوران اپنا لائسنس یافتہ پستول لوڈ کرکے اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا تھا اور وہ کسی بھی ممکنہ واردات کی صورت میں پہلے سے چوکنا تھے۔پولیس ذرائع کے مطابق واردات کرنے والوں کو شاید اس بات کا اندازہ تھا اور شاید اسی بنا پر ملزمان نے عقب سے وار کیا۔ایس ایس پی عرفان بہادر کے مطابق عقب سے ماری گئی ایک ہی گولی یار محمد کے دل کو چھیدتے ہوئے سامنے سے نکل گئی اور یہ ایک ہی گولی یار محمد کی فوری موت کا سبب بنی۔اس واردات کے واحد عینی شاہد اور مدعی کانسٹیبل غوث بخش کے مطابق ملزمان دو تھے جنہیں وہ سامنے آنے پر شناخت کر سکتے ہیں۔غوث بخش کے مطابق ملزمان نے ایک ہی گولی چلائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق یار محمد کو ایک ہی گولی لگی تاہم پولیس کے مطابق اسے گولی کا خول تاحال برآمد نہیں ہو سکا۔جولائی میں ہونے والی پولیس کی ٹارگٹ کلنگ کی تین وارداتوں میں ملزمان شہید اہلکاروں سے اسلحہ بھی چھین کر لے جاتے رہے ہیں مگر اس واردات میں پستول سامنے ہونے کے باوجود ملزمان کو مبینہ طور پر اسلحہ چھیننے کی ہمت نہیں ہوئی یا ان کا مقصد محض پولیس افسر کی ٹارگٹ کلنگ تھی۔

مزید :

صفحہ آخر -