نور کیس اور ہمارا معاشرہ 

نور کیس اور ہمارا معاشرہ 
نور کیس اور ہمارا معاشرہ 

  

گزشتہ دنوں وفاقی دارلحکومت سے ایک اندوہناک جرم کی کہانی سامنے آئی جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ، اس میں نہ صرف قتل کیاگیا بلکہ قتل کے بعد لاش کی بے حرمتی کرتے ہوئے سر بھی دھڑ سے الگ کر دیاگیا، ہمارے معاشرے میں عورتوں کی تربیت اور طرح طرح کی پابندیوں پر زور دیا جاتا ہے۔ لیکن اس واقعے کے بعد مجھے یہ کہنے میں کوئی قباحت نہیں کہ خواتین کے علاوہ مردوں کی تربیت کی بھی ضرورت ہے ، وہ بھی اسی معاشرے کا حصہ اور نسبتاً خواتین سے زیادہ طاقتور تصور کیے جاتے ہیں، خاندان بھی بیٹیوں کی نسبت بیٹوں کا ساتھ دیتے ہیں یا پھر بیٹی والے بھی گھر بسانے کیلئے بیٹی کو سمجھا بجھا کر مجبور کرتے ہیں کہ وہ گزارا کرے ، ہمارے معاشر ے میں یہ بات عام ہے، انہی اقدامات کی وجہ سے مردوں کو بھی ہمت بلکہ بڑھاوا ملتا ہے کہ وہ غلط کریں ۔۔۔پھر یہ بھی کہ دیا جاتا ہے کہ بیٹی والے مجبور ہوتے ہیں، کہاں کے مجبور؟ بیٹی کو دووقت کی روٹی تو کھلا ہی سکتے ہوں گے ۔یہ الگ بات ہے کہ نور کے واقعے میں ایسا نہیں ہوا۔

میڈیا میں نور کیس سے جڑے طرح طرح کے مفروضے اور کہانیاں سامنے آئی ہیں اور تاحال یہ سلسلہ نہیں تھما، ابھی بھی جب یہ سطور لکھی جارہی ہیں، اس وقت بھی ملزم کے پولی گراف ٹیسٹ کے بارے میں افواہیں چل رہی ہیں، ایک خبر یہ بھی دیکھنے کو ملی کہ ملزم نے پہلے پہل ڈرامہ کرنے کی کوشش لیکن پھر زبان کھول دی اورالٹا مقتولہ پر ہی الزام عائد کردیا اور موقف اپنایا کہ وہ اس کے ساتھ بے وفائی کررہی تھی جس کا علم ہونے پر دکھ ہوا، روکنے کی کوشش لیکن وہ نہ مانی ۔ یہ نام نہاد صدمہ برداشت سے باہر تھا اور پھر واردات کردی۔

پہلی بات تو یہ کہ اگر وہ بے وفائی کر بھی رہی تھی تو آپ نہ تو اس کے شوہر تھے اور نہ ہی کوئی محرم، آپ کو کیسے قتل کرنے کا لائسنس مل گیا؟ میں سمجھتی ہوں کہ اس میں صرف ملزم نہیں بلکہ ہمارا معاشرہ بھی جوابدہ ہے ۔ اب تک کی معلومات کے مطابق مرکزی ملزم کے بزرگ والدین اور غریب سیکیورٹی گارڈز کو بھی تحویل میں لیا جاچکا ہے جو قانون کا سامنا کررہے ہیں اور پولیس کی تفتیش بھگت رہے ہیں۔ اگر ان کی موجودگی میں یہ سب کچھ ہوا تو انہوں نے کیوں نہ روکا؟ 

ایک حدیث کا مفہوم کچھ اس طرح کا ہے کہ ’تم میں سے جو شخص خلاف شریعت کام دیکھے تو اپنے ہاتھوں سے اس کی اصلاح کرے اور اگر طاقت نہ رکھتا ہو تو زبان سے اس کا رد کرے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اس کو برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے‘۔

دل کے بھید تو اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں لیکن کیا ہم ایمان کے درمیانے درجے پر بھی نہیں ہیں؟ اگر وہ سیکیورٹی گارڈز یا اہل محلہ جنہوں نے یقینا ایک نہتی لڑکی کی آوازیں سنی ہوں گی ، وہ اگر وہاں جا کر روک نہیں سکے، اس کی مدد خود نہیں کرسکے تو ان میں یہ ہمت بھی نہیں تھی کہ پولیس کو اطلاع کردیں؟اگر بروقت مدد پہنچ جاتی تو یقینا ایک جان بچ سکتی تھی ۔  ”جس نے ایک انسان کی جان بچائی تو گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی۔“

ہمیں بطور معاشرہ بھی یہ سوچنا ہوگا کہ آپ اپنی بیٹی پر پابندیاں لگا کر اسے قید ی تو بنا سکتے ہیں لیکن کیا یہی مسئلے کا حل ہے؟ قطاً نہیں۔۔ ۔گزشتہ چند ہفتوں کے درمیان قتل ہونیوالی زیادہ تر خواتین شادی شدہ تھیں، ان کی جانیں گھریلو معاملات کی وجہ سے شوہروں کے ہاتھوں ضائع ہوئیں۔ والدین کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ وہ جس شخص کے ہاتھوں میں اپنی پیاری گڑیا کا ہاتھ تھما رہے ہیں، کیا وہ کسی عورت کو عزت دے بھی سکتا ہے یا نہیں؟ رشتہ بناتے وقت یقینا اچھا ہی سوچا ہوگا لیکن اگر بعد میں بیاہی بیٹی کوئی شکایت کرے تو والدین کو اس پر بھی غور کرنا چاہیے ، معاشرے کے سامنے اپنی ناک اونچی رکھنے کی کوشش میں کل آپ کی آنکھیں بھیگی نہیں رہنی چاہیں۔ اللہ تعالیٰ ہرکسی کی اولادکے نصیب اچھے کرے اور کسی ناگہانی آفت سے محفوظ رکھے۔ آمین

  ۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 ۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -