وزیراعظم کی شہریوں سے کالزپر براہ راست بات چیت ، سینئر صحافی حبیب اکرم نے بھی کال ملادی ، پھر کیا ہوا ؟ بڑی خبر 

وزیراعظم کی شہریوں سے کالزپر براہ راست بات چیت ، سینئر صحافی حبیب اکرم نے بھی ...
وزیراعظم کی شہریوں سے کالزپر براہ راست بات چیت ، سینئر صحافی حبیب اکرم نے بھی کال ملادی ، پھر کیا ہوا ؟ بڑی خبر 

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم عمران خان نے عوام کے سوالات اور مسائل حل کرنے کیلئے براہ راست کالز پر جواب دینے کے سیشن کا اہتمام کیا جس دوران سینئر صحافی حبیب اکرم نے بھی کال کی اور کہا کہ میں نے یہ کال اس لیے ملائی کہ دیکھ سکوں  کیا کالز واقعی براہ راست ہیں یا کہیں فیصل جاوید ادھر اُدھر سے  تو نہیں کر وا رہے ، میں نے سوچا تھا کہ اگر کال نہ ملی تو میں خبر بناﺅں گا اور پروگرام میں بات کروں گا لیکن کال مل گئی اور میری خبر رہ گئی ۔

تفصیلات کے مطابق صحافی حبیب اکرم کا کہناتھا کہ میں جانتاہوں کہ صحافیوں کا وقت نہیں ہے ہم آپ سے ملاقات میں سوالات بھی کر تے ہیں لیکن بطور شہری میں ایک مسئلے پر توجہ دلانا چاہتاہوں کہ شوکت خانم کو جانے والی ایک سڑک کا ایک حصہ تو بالکل ٹھیک ہے اور کوئی اشارہ نہیں ہے لیکن تین کلومیٹر پر مشتمل ایک حصے پر شہریوں کو تین سگنلز کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، وہاں کسی انڈر پاس کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یوٹرن کو مینج کر تے ہوئے معاملہ حل کیا جا سکتا ہے ، اگر آپ پنجاب حکومت کو ہدایت کر دیں تو مسئلہ حل ہو جائے گا ،اب مجھے یہ بھی یقین ہو گیاہے کہ آپ براہ راست کالز پر لوگوں سے بات کر رہے ہیں ۔

وزیراعظم عمران خان براہ راست کالز کے سیشن کے دوران حبیب اکر م کی کال پر مسکراتے رہے اور پھر جواب دیتے ہوئے کہا کہ آزا دمیڈیا سے ملک کے وہ سربراہ ڈرتے ہیں جنہوں نے قانون توڑنا ہوتاہے ،کیونکہ وہ ناجائز کام کر رہے ہوتے ہیں ، اگر میں نے چوری کی ہو اور لندن میں فلیٹس بنائیں ہوں تو مجھے آزاد میڈیا سے ڈر لگے گا ، آزاد رائے ملک کیلئے بڑی نعمت ہے ، میڈیا سے اختلاف تب ہوتاہے جب جعلی خبریں چلائی جاتی ہیں اور پراپیگنڈہ کیا جاتاہے ، صحیح صحافت اور تنقید ملک کیلئے بڑی نعمت ہے ۔

مزید :

Breaking News -اہم خبریں -قومی -