ن لیگ کی بد ذائقہ بریانی 

ن لیگ کی بد ذائقہ بریانی 
ن لیگ کی بد ذائقہ بریانی 

  

وقت، سوچ اور اشیاء کس غیرمحسوس انداز میں بدلتی ہیں؟اس کا ادراک تب ہوتا ہے جب لمحۂ موجود ماضی میں مدغم ہو جاتا ہے،پاکستان کی سیاست کب کیا ہوجائے؟ گدا بادشاہ اور بادشاہ گدا ہوجائے۔پتا نہیں چلتا ۔۔۔۔

عمران خان کی سیاسی قوت توانا تر ،ن لیگ گڑھ سیالکوٹ میں بھی تحریک انصاف نے معرکہ سر کرلیا ۔ ن لیگ پی پی 38 کا دفاع نہ کرسکی ، سیاست پر عمران خان کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے ، آزاد کشمیر کے الیکشن میں جیت نے اسے مزید مضبوط بنایا ،ن لیگ اندرونی انتشار کا شکار ہے،اپوزیشن کا شیرازہ بکھر گیا ،پاکستان کی سیاست کا رخ 2023 کے عام انتخابات کی طرف،ایسا کیوں ہے؟ کیا پنجاب میں ن لیگ کا زور ٹوٹ رہا ہے؟ ن لیگ میں چل کیا رہا ہے؟ 

آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج سے وہ تاثر زائل ہوگیا کہ پی ٹی آئی کے سیاسی طور پر پیر جم نہیں پار ہے،اس الیکشن سے پی ٹی آئی کے اعتماد میں اضافہ ہوگیا ، حکومت کو ان انتخابی نتائج سے ایک بوسٹ ملا ہے،حکومت کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے،یہ گلگت بلتستان کے الیکشن کا تسلسل ہے،تحریک انصاف خیبر پی کے سے پنجاب ،پنجاب سے گلگت بلتستان ،آزاد کشمیر کو ’فتح‘ کرچکی ،اب اس کا ہدف سندھ ہے،ایک سیٹ والے وفاقی وزیر تو ابھی سے کہہ رہے ہیں کہ 2023 ہمارا ہوگا ۔

آزاد کشمیر اور سیالکوٹ کے ضمنی الیکشن نے ن لیگ کی کمزوریوں کو بھی عیاں کردیا ہے،ایسے لگتا ہے سر کردہ رہنما ایک صفحے پر نہیں ہیں ۔نواز شریف اور مریم نواز کا بیانیہ اور سوچ کچھ اور ہے تو شہباز شریف کا قبلہ اور ہے،شریف خاندان کے ایک پیج پر نہ ہونے سے  پارٹی کارکن  کنفیوژن کا شکار ہیں ،ارکان اسمبلی گومگو کی کیفیت میں ہیں کہ شہباز شریف کی زبان بولیں یا مریم نواز کے نعرے کا جواب دیں ،ن لیگی ذرائع کہتے ہیں کہ 80 فیصد ارکان اسمبلی شہباز شریف کی بولی بولنا چاہتے ہیں لیکن نواز شریف کے ڈر سے خاموش ہیں ۔

اپوزیشن کی سیاسی صورتحال ٹھیک نہیں ہے،ن لیگ آپس میں دست و گریبان ہے تو پیپلز پارٹی سے بھی تعلقات اچھے نہیں رہے،پی ٹی آئی کی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے،یہ اپوزیشن کیلئے یہ لمحہ فکریہ ہے۔ایک بیانیے پرن لیگ کے دونوں دھڑے متفق ہیں  وہ یہ ہے کہ دونوں سمجھتے ہیں کہ 2018 کے عام انتخابات شفاف نہیں ہوئے،اختلاف اس بات پر ہے کہ آگے کیا کرنا ہے ،کیسے چلنا ہے؟  تین سال سے ایک بیانیہ چل رہا ہے،کشمیر میں بھی اسی بیانیے کو دوہرایا گیا ہے،اس کے نتائج کیا نکلے ؟ اس پر بھی پارٹی میں اختلاف ہے،ن لیگ کو بڑے ایشوز کا سامنا ہے۔

بیانیے کی جنگ ن لیگ  اور اس کی مقبولیت پر اثر انداز ہورہی ہے،شہباز شریف اداروں کیخلاف ایک حد سے آگے جانے کیلئے تیار نہیں ہیں ،دوسری طرف مریم نواز اسٹیبلشمنٹ کو ٹارگٹ کرکے عوامی پذیرائی حاصل کررہی ہیں ،آزاد کشمیر میں مریم نواز نے بڑے جلسے تو کیے لیکن ان جلسوں سے نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہیں ،جیت کیلئے حکمت عملی نہیں اپنائی گئی ۔سیالکوٹ میں اپ سیٹ ہوا ،یہ انتخاب اور ن لیگ کی سیاست کا اپ سیٹ ہے،یہاں چودھری برادران کی حکمت عملی کامیاب ہوئی ہے،یہاں جوڑ توڑ کی سیاست جیتی ہے۔

ن لیگ اس نہج پر کیسے پہنچی ؟ وہ کون ہیں جو ملک کی سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی کو یہاں تک لے آئے ؟ ن لیگ کو مروانے میں مولانا فضل الرحمان کا کردار زیادہ ہے،نواز شریف کا اپنا ہاتھ بھی ہے،ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو صرف تقاریر اور کالم لکھ سکتے ہیں ،مریم نواز  تقاریر تو اچھی کرلیتی ہیں ،مجمع جمع کرلیتی ہیں ،شرکا کو اپنے اشاروں پر نچا بھی لیتی ہیں لیکن اپنی جماعت کی تاریخ سے ناواقف ہیں ،ان کو اپنی جما عت کی تاریخ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے،ن لیگ کی آبیاری کرنے والے وہی لوگ ہیں جن کیخلاف انہوں نے ٹکر لے رکھی ہے،نواز شریف تو بھول نہیں سکتے ۔شہباز شریف ایک عملی آدمی ہیں اور نہ ہی تقاریر لکھنے والوں کو قریب آنے دیتے ہیں ،ان کو علم ہے کہ ہمارا ڈی این تبدیل نہیں ہوسکتا ،ہماری آبیاری اسی نرسری میں ہوئی ہے جسے مریم تباہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

ایک پارٹی کا ڈی این اے ایک ادارے سے جڑا ہے تو اسے اپنے ڈی این اے سے کتنا دور کیا جاسکتا ہے؟  شہباز شریف کیا اپنے بھائی اور بھتیجی کو’ایمبیرس‘‘کرنے کی پوزیشن میں ہیں؟ نہیں تو حالات اسی طرح رہیں گے،دیکھنا یہ ہے کہ کون سی سیاسی سوچ چلے گی ؟

ایک بات طے ہے کہ ایک کھانا روز کھایا جائے تو انسان اکتا جاتا ہے،جانور کو بھی روز ایک جیسا چارہ ڈالا جائے تو وہ بھی ادھر ادھر منہ مارنے لگتا ہے،ن لیگ تو 2017 سے اپنے کارکنوں کو ایک ہی نعرے اور ایک جیسی تقاریر کے پیچھے لگائے ہوئے ہے،ان تقاریر کا وقتی جو ش تو ہے لیکن نہ کوئی سر ہے نہ پیر ۔ووٹ کو عزت کا نعرہ لگانے کی بات کی جاتی ہے،ملک پر مرنے کا عزم کیا جاتا ہے،جوش بڑھایا جاتا ہے،یہ جوش تب ٹھنڈا ہوجاتا ہے جب پتا چلتا ہے کہ نواز شریف علاج کے نام پر لندن گئے اور وہاں ہٹے کٹے ہیں ۔ملک میں واپس آنے کا نام نہیں لیتے،مریم نواز خود تو عوام کی بات کرتی ہیں لیکن ان کا پورا خاندان دیار غیر میں پولو کھیلتا اور جشن مناتا پھر رہا ہے،مریم نواز کو یہ مان لینا چاہئے ووٹرز کو روز ایک جیسی ’بریانی ‘پر نہیں بہلایا جاسکتا ۔ان کو مان لینا چاہئے یہ بریانی اب بدذائقہ ہوچکی ہے ۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -