مقتول افغان کامیڈین نذر محمد کو لوگ خاشہ کیوں کہتے تھے اور وہ اپنی موت سے متعلق کیا بات کرتے تھے؟افسوسناک کہانی سامنے آگئی

مقتول افغان کامیڈین نذر محمد کو لوگ خاشہ کیوں کہتے تھے اور وہ اپنی موت سے ...
مقتول افغان کامیڈین نذر محمد کو لوگ خاشہ کیوں کہتے تھے اور وہ اپنی موت سے متعلق کیا بات کرتے تھے؟افسوسناک کہانی سامنے آگئی

  

کابل(ڈیلی پاکستان آن لائن )گزشتہ دنوں طالبان جنگجووں کے ہاتھوں قتل ہونے والے افغان کامیڈین نذر محمد نے سب کو افسردہ کر دیا ،اس حوالے سے افغان طالبان کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آئے ۔اپنی موت سے متعلق افغان مزاحیہ فنکار خاشہ کہا کرتے تھے کہ ’ہمارا ملک تو ویسے بھی قبروں سے بھرا پڑا ہے، ایک قبر اور سہی۔‘اگر میں مر گیا اور اتنی ساری قبروں میں تم میری قبر کی شناخت نہ کر سکو تو جان لینا جس قبر پہ دو کتے ہوں اور آپس میں لڑائی نہ کر رہے ہوں تو وہی میری قبر ہو گی۔‘

ٓٓٓٓنذر محمد دبلا پتلا انسان تھا جس کی وجہ سے لوگ انہیں خاشہ یعنی تنکا کہہ کر پکارتے تھے لیکن اس نے کبھی برا نہیں منایا بلکہ لوگوں کی دی ہوئی شناخت کو ہنسی خوشی قبول کر لیا۔وہ قندھاری تھا۔ سر پہ ہمیشہ ٹوپی، سیاہ لباس اور واسکٹ میں ملبوس، کندھے پہ ٹوٹی پھوٹی بندوق لٹکائے وہ خود کو قومندان (کمانڈر) کہتا۔ وہ جہاں جاتا لوگوں کو لطیفے سناتا، کبھی طنزیہ ٹپے گاتا تو کبھی نامور شخصیات کی نقل اتارتا۔ لوگ اسے اپنے حجروں میں بلاتے، چائے پانی پلاتے اور اس سے لطیفے سنتے۔محفلیں دیر تک چلتی رہتیں۔ خاشہ مرکز نگاہ ہوتا۔ ہر ایک کی فرمائش پوری کرتا۔ کوئی خاشہ کو کہتا فلاں اداکار کی نقل اتارو تو کوئی فلاں سیاست دان کی شکل بنانے کی فرمائش کرتا۔ اچھا طالب بن کر دکھاو¿، وہ بنتا اور سب ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتے۔ پھر وہ اسے کہتے کہ چلو سامنے بیٹھے میرے دوست کے بارے میں کچھ کہو۔ خاشہ فی البدیہہ اس پہ جگتیں کستا۔ سبھی لوگوں کو یکساں ہنساتا، کبھی کوئی اس کی مٹھی گرم کر دیتا تو ٹھیک، نہیں تو وہ گھنٹوں لطیفے سنا سنا کر دہرا ہو جاتا لیکن لوگ کپڑے جھاڑ کر چلے جاتے۔

مزید :

بین الاقوامی -