سکھر حیدرآباد موٹروے کتنے مہینوں میں مکمل ہو گی ؟ حلیم عادل شیخ نے بتا دیا 

سکھر حیدرآباد موٹروے کتنے مہینوں میں مکمل ہو گی ؟ حلیم عادل شیخ نے بتا دیا 
سکھر حیدرآباد موٹروے کتنے مہینوں میں مکمل ہو گی ؟ حلیم عادل شیخ نے بتا دیا 
سورس: File Photo

  

جامشورو (ڈیلی پاکستان آن لائن)تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ سکھر حیدرآباد موٹروے 306 کلومیٹر پر محیط ہے،سکھر حیدرآباد موٹروے 6 لائنوں پر مشتمل ہوگا ،منصوبے پر 200 ارب روپے خرچ ہوں گے،دنیا کمیونیکیشن بہتر کرنے سے ہی ترقی کر سکتی ہے،سکھر حیدرآباد منصوبہ سندھ کی عوام کا منصوبہ ہے،سکھر حیدرآباد موٹروے کو 30 مہینوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی این ایچ اے کے عارضی دفتر جامشورو آمد، این ایچ اے حکام کی جانب سے سکھر حیدرآباد موٹروے پر بریفنگ دی، حلیم عادل شیخ کے ہمراہ پی ٹی آئی کے رہنما بھی موجود تھے۔حلیم عادل شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  این ایچ اے نے سکھر حیدرآباد موٹروے  زمین لینے کے لئے سندھ حکومت کو 14 ارب ادا کر دیئے ہیں،وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ  اپنے ضلع جامشورو سے موٹروے گذارنے کے لئے راستہ نہیں دے رہے، کیوںکہ وزیر اعلی کو اس میں بھی مال چاہیے، یہ منصوبہ عوامی منصوبہ ہے،وزیر اعلی کے ضلع میں سرکاری زمینوں پر قبضے کیئے جارہے ہیں ،منشیات سے لیکر ہر برائی وزیر اعلی کے ضلع میں ہورہی ہے،این ایچ اے کی ٹیم سکھر حیدرآباد موٹر پر کام کر ہی ہے،سکھر حیدرآباد موٹروے پر بھی رکاوٹیں کھڑی کی  جارہی ہیں،مراد علی شاہ چاہتے ہیں لیاری ایکسپریس وے کی طرح یہاں بھی کرپشن کی جائے،سکھر حیدرآباد موٹروے پر وزیر اعلی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، ہم اس میگا پروجیکٹ میں کسی کو رکاوٹ بننے نہیں دیں گے،سندھ حکومت ملک  کے لئے سیکیورٹی رسک بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران پیپلزپارٹی کی حکومت نے ہر بار سندھ میں شب خون مارا، لاک ڈاؤن لگا کر زندگی کا پہیہ روک دیا گیا، پہلے ڈبل سواری پر پابندی لگائی  اور بعد میں پابندی اٹھانی پڑی، رات دیر تک ڈبل سواری کے جرم میں لوگوں کو گرفتار کیا گیا ، سندھ حکومت نے ٹرانسپورٹ بند کر کے عوام کو پریشان کیا ہے، نادر شاہی حکم کے تحت لاک ڈاؤن لگا یا گیا، سندھ میں لاک ڈاؤن پاکستان کی معشیت کے خلاف سازش ہے،این سی او سی کی گائیڈ لائن کو فالو نہیں کیا گیا، سپریم حکومت کے فیصلے موجود ہیں صوبے اکیلے رہ کر فیصلے نہیں کر سکتے، این سی او سی کی طرف سے جو فیصلو ہوگا وہ قبول کریں گے،سندھ حکومت کے فیصلے اپنے ذاتی مقاصد کےلئے ہیں،سندھ حکومت کے ایسے فیصلے قبول نہیں کریں گے۔

 حلیم عادل شیخ نے کہا سندھ حکومت نے ایک ویکسین تک نہیں خریدی ،69 لاکھ ویکسین وفاق نے سندھ کی عوام کے لئے دی ہے، ایکسپو سینیٹر اور ویکسین بھی وفاق کی طرف سے دیئے گئے ہیں انتظامات کرنا سندھ حکومت کی ذمہ داری ہےلیکن ملازمین کو  تنخواہ تک نہیں دی،ایکسپو سنیٹر میں ہزاروں لوگوں کی لائنیں لگی ہوئی تھی، سندھ حکومت کے پاس فنڈز تھے زیادہ سینٹر کیوں نہیں بنائے؟ سندھ کی ویکسین اور عوام کے پیسے کشمیر الیکشن پر لگا دیئے، لاک ڈاؤن انسانوں کے لئے لگ سکتا ہے کتوں پر لاک ڈاؤن کون لگائے گا؟کتے آزاد گھوم رہے ہیں اور روزانہ شہریو ں کو کاٹ رہے ہیں، ہیپاٹائٹس میں روزانہ کورونا سے پانچ گنا زیادہ لوگ مر رہے ہیں، ہیپاٹائٹس پر سندھ حکومت کنٹرول کرنے میں ناکام گئی ہے ،سندھ حکومت نے سرکاری ویکسین بھی فروخت کرا دی ،سندھ حکومت ہر میدان میں ناکام ہوچکی ہے ۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -