1972ءمیں ہم نے اپنا اولین غیر ملکی دورہ کیا ، برطانیہ میں جونہی ہم گیت ختم کرتے، لوگوں کا جوش و خروش قابل دید ہوتا تھا

1972ءمیں ہم نے اپنا اولین غیر ملکی دورہ کیا ، برطانیہ میں جونہی ہم گیت ختم ...
1972ءمیں ہم نے اپنا اولین غیر ملکی دورہ کیا ، برطانیہ میں جونہی ہم گیت ختم کرتے، لوگوں کا جوش و خروش قابل دید ہوتا تھا

  

مترجم:علی عباس

قسط: 32

”ڈانسنگ مشین“۔۔۔ رقصِ ماہتاب

میرے بارے میں میڈیا ہمیشہ غیر معمولی خبریں شائع کرتا رہا ہے۔ سچائی کو غلط انداز دینا مجھے دِق کرتا ہے۔ میں عام طور پر زیادہ خبریں نہیں پڑھتا ہوں تاہم میں اکثر ان کے بارے میں سُنتا رہتا ہوں۔

میں نہیں سمجھ سکا کہ وہ میرے بارے میں چیزوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی ضرورت کیونکر محسوس کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر خبر میں سکینڈل نہ ہو تو اُسے دلچسپ بنانا ضروری ہوتاہے۔ میں ان تمام باتوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہوں کہ میں ان چیزوں میں نہیں پھنسا۔ انٹرٹینمنٹ کی صنعت سے وابستہ بہت سارے بچوں کا کیریئر منشیات کے استعمال اور اپنے ہاتھوں تباہ ہوا: فرانکی لے مین، بوبی ڈرِسکول اور بہت سارے چائلڈ سٹارز کے ساتھ ایسا ہوا ہے اور میں اُن کی منشیات کی جانب راغب ہونے کی وجہ جان سکتا ہوں، یہ اُس دباﺅ کا نتیجہ ہے جو اُن پر بہت کم عمر میں ڈال دیا تھا۔ یہ ایک مشکل زندگی ہے۔ معدودے چند بچے ہی ایسے ہیں جو عام بچپن کی کچھ سرگرمیوں کو جاری رکھ سکتے ہیں۔ 

میں نے خود کبھی منشیات کا استعمال نہیں کیا۔۔۔ کوئی چَرس نہیں،کوئی کوکین نہیں، کچھ بھی نہیں۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ میں نے ان چیزوں کو کبھی استعمال نہیں کیا۔

بھول جاﺅ۔

میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہم نے کبھی کوشش نہیں کی۔ ہم ایک ایسے دور میں موسیقی کی دنیا سے وابستہ ہوئے تھے جب منشیات کا استعمال عام تھا۔ میں کوئی فتویٰ نہیں دے رہا۔۔۔ حتیٰ کہ یہ میرے لئے اخلاقی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔۔ لیکن میں نے منشیات کے استعمال کے باعث بہت ساری زندگیوں کو تباہ ہوتے ہوئے دیکھا ہے جس کے باعث میں ان سے دور رہا ہوں۔ میں کوئی فرشتہ نہیں ہوں اور ہو سکتا ہے کہ میری کچھ اپنی بُری عادتیں ہوں لیکن ان میں منشیات کا استعمال شامل نہیں ہے۔

 جب” بین“ ریلیز ہوئی، ہم آگاہ تھے کہ ہم پوری دنیا میں مشہور ہونے جا رہے ہیں۔ امریکہ کی ساﺅل موسیقی دوسرے ممالک میں نیلی جینز اور ہیمبرگر کی طرح مشہور ہو چکی تھی۔ ہمیں اس بڑی دنیا کا حصہ بننے کی دعوت دی گئی تھی اور 1972ءمیں ہم نے اپنا اولین غیر ملکی دورہ کیا اور اس دوران انگلینڈ بھی گئے۔ اگرچہ ہم وہاں پہلے کبھی نہیں گئے تھے اور نہ ہی کسی برطانوی ٹی وی چینل کے شو میں شریک ہوئے تھے لیکن لوگ ہمارے گیتوں کے الفاظ تک جانتے تھے۔حتیٰ کہ انہوں نے بڑے بڑے سکارف اوڑھ رکھے تھے جن پر ہماری تصاویر اور ” جیکسن فائیو“بڑے حروف میں کندہ تھا۔ یہ تھیٹرز اُن امریکی تھیٹروں کے مقابل چھوٹے تھے جہاں ہم پرفارم کرنے کے عادی تھے لیکن جوں ہی ہم گیت ختم کیا کرتے، لوگوں کا جوش و خروش قابل دید ہوتا تھا۔ وہ امریکی شائقین کی طرح گیتوں کے درمیان چیختے نہیں تھے، چنانچہ وہاں لوگ بتا سکتے تھے کہ ٹیٹو کس قدر اچھا گٹار بجاتا ہے کیونکہ وہ اُسے سُن سکتے تھے۔

ہم رینڈی کو اپنے ساتھ لےکر گئے تھے کیونکہ ہم چاہتے تھے کہ اُسے تجربہ حاصل ہو اور وہ چیزوں کو رونما ہوتے ہوئے دیکھ سکے۔ وہ رسمی طور پر ہمارے بینڈ کا حصہ نہیں تھا لیکن وہ پسِ پردہ ڈرم بجانے والوں کے ساتھ رُکا تھا۔ اُس نے جیکسن فائیو کا لباس زیب تن کر رکھا تھا۔ چنانچہ جب ہم اُسے متعارف کراتے تو لوگ خوش ہوتے۔ اگلی بار جب ہم برطانیہ کے دورے پر آئے تو وہ بینڈ کا رُکن تھا۔ رینڈی سے قبل میں بونگو بجاتا تھا اور مارلن مجھ سے پہلے ایسا کرتا رہا تھا۔ چنانچہ یہ ایک طرح سے ہماری روایت بن چکی تھی کہ نیا آنے والا ساتھی اُن چھوٹے ڈرموں کو بجاتا تھا۔ )جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -