ارسطو کا نظریۂ غلامی اور نظریۂ آئین

ارسطو کا نظریۂ غلامی اور نظریۂ آئین
ارسطو کا نظریۂ غلامی اور نظریۂ آئین

  

تحریر: ملک اشفاق

قسط: 31

آقا کی حیثیت روح اور غلام کی حیثیت جسم کی سی ہے

 ارسطو نے غلامی کو جائز قرار دینے کےلئے ایک دلیل یہ دی کہ آقا کی حیثیت روح اور غلام کی حیثیت جسم کی سی ہے۔ اس طرح ارسطو کے نزدیک آقا کو غلام پر برتری حاصل ہے یعنی انسانی جسم میں روح کو اعلیٰ حیثیت حاصل ہے اور جسم انسانی روح کے اقدامات کے تحت اپنے تمام تر افعال انجام دیتا ہے۔ اس طرح آقا کو روح کی سی حیثیت حاصل ہے۔ ارسطو یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ غلام کو صرف آقا کے حکم کی تعمیل کرنی چاہیے۔

 ارسطو کے نظریہ غلامی پر تنقیدی جائزہ

 بہت سے مفکرین نے ارسطو کے نظریۂ غلامی پر تنقید کی ہے۔ ارسطو کا نظریۂ غلامی مفکرین کےلئے 2 بڑی وجوہات کی بناءپر قابل قبول نہیں۔

(i) یہ نظریہ انسانی قدروں سے متصادم ہے

بہ نظریہ انسانی قدروں سے متصادم ہے جو کہ کسی مہذب معاشرے کی بنیاد ہونی چاہئیں۔ یعنی سماجی اور انسانی اقداریں جن کو ہم اچھے اور مہذب معاشرے کی بنیاد بنا سکتے ہیں، یہ ان کا بالکل الٹ ہے۔ اس نظریے کے تحت ارسطو غلام کو انسان تصور نہیں کرتا۔ ارسطو غلام کو کہیں مملکت کا ایک حصہ اور کہیں انسانی جسم قرار دیتا ہے اور کہیں وہ یہ خیال ظاہر کرتا ہے کہ غلام کے پاس عقل نہیں ہوتی گویا اس طرح سے ارسطو انسان کو ترقی کرنے سے روک رہا ہے۔ ارسطو کا غلام کو انسان نہ سمجھنا ہی اس کے نظریے کی سب سے بڑی بھو ل ہے۔

(ii) منطقی تضادات ہیں

ارسطو کے نظریہ غلامی میں بہت سے منطقی تضادات ہیں جس کی بناءپر اس کو ایک موزوں اور مناسب نظریہ نہیں کہا جا سکتا۔ ارسطو نے بہت سے دلائل غلامی کے حق میں دیئے ہیں اگر ان دلائل کو بغور دیکھا جائے تو یہ بات جلد ہی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ اس نے اپنے چند اہم مخطوطات میں جگہ جگہ تبدیلی کی ہے جس کی وجہ سے اس نظریہ میں منطقی تضادات پیدا ہوئے۔

ارسطو کا نظریہ آئین

 ارسطو نے اپنے بہترین آئین کے بارے میں جو تاثرات بیان کئے ہیں اس کے بارے میں کہتا ہے کہ افلاطون نے صرف ایک خیالی ریاست کا خاکہ پیش کیا ہے کیونکہ وہ فطرتِ انسان کی تکمیل میں یقین رکھتا تھا۔ ارسطو کا خیال ہے کہ فطرت انسانی حدود کے اندر رہ کر ہی مکمل ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے وہ اچھے طرزِ حکومت کا خاکہ پیش کرتا ہے ویسے اس بارے میں کہ بہترین آئین یا ریاست کون سی ہے کوئی جواب نہیں دیتا بلکہ اس کے مطابق عوامی حکومت میں آزادی اور دولت کا امتزاج ہوتا ہے۔ آمرانہ طرزِ حکومت میں صرف دولت کی پیداوار کا عمل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت میں آزادی اور آمریت میں دولت کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔ ارسطو خیال ظاہر کرتا ہے کہ ہمیں بہترین خیالی یا مطلق طرز حکومت کی تلاش کی جستجو نہیں کرنی چاہیے بلکہ یہ دیکھیں کہ کون سا طرزِ حکومت ہے جو عملی طور پر اچھا ہو اور خاص ماحول اور حالات میں بھی کام کر سکے۔ مثالی ریاست میں مثالی صفات کی حکمرانی ہونا ضروری ہے۔ یعنی بہترین لوگوں کے سپرد حکومت کا نظم و نسق ہو۔ اگر ایک فرد اچھے اوصاف کا حامل ہے تو طرزِ حکومت بادشاہت بہتر ہے ورنہ خالص جمہوریت طرز کی حکومت ہو۔ لیکن ایسا زیادہ عرصہ تک ناممکن ہوگا کیونکہ جمہوریت اور اشرافیہ دونوں روبہ زوال ہو سکتے ہیں جو آمریت کی حکومت کی بگڑی ہوئی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -