جب تک انگریز جنگی جہاز موجود ہیں کوئی دشمن سمندر کی راہ ہندوستان پر حملہ آور نہیں ہو سکتا

جب تک انگریز جنگی جہاز موجود ہیں کوئی دشمن سمندر کی راہ ہندوستان پر حملہ آور ...
جب تک انگریز جنگی جہاز موجود ہیں کوئی دشمن سمندر کی راہ ہندوستان پر حملہ آور نہیں ہو سکتا

  

مصنف : ای مارسڈن 

حفاظتِ ہند، بری وبحری فوج:

 گورنمنٹ ہند اس امر کا خیال رکھتی ہے کہ ایک زبردست فوج ملک میںموجود رہے۔ اس پر ہماری زندگی اور بچاﺅ کا مدار ہے۔ اس کے بے انداز فوائد ہیں۔ اسکے بغیر تہذیب اور امن کی برکات اور آسائشیں دم بھر میں غائب ہو جائیں۔ تجارت رک جائے۔ کھیت بے جوتے بوئے پڑے رہیں۔ مدرسے اورشفا خانے بند ہو جائیں اور ملک میں تشدد و خونریزی کا دوردورہ ہو جائے۔

 اسی واسطے ہماری سرکار ایک جرار فوج تیار رکھتی ہے۔ سپاہی پوری پوری طرح مسلح اور خوب قواعددان ہیں۔ انہیں کھانے کو عمدہ غذا اور رہنے کو بہترین بارکیں ملتی ہیں اور ان کی ہر طرح سے خبر گیری کی جاتی ہے۔ فوج کے سپاہی گورے بھی ہوتے ہیں اور مقامی بھی۔

 گورے سپاہی تعداد میں 7½ ہزار ہیں۔ وہ سب مضبوط جوان ہیں۔ 5 سال سے زیادہ ہندوستان میں نوکری نہیں کرتے، کیونکہ اگر اس سے زیادہ عرصہ ٹھہریں تو ان کی طاقت و ہمت میں کمی آ جائے۔ انہیں بڑے بڑے صحت افزا مقامات پر رکھا جاتا ہے اور ریل کے ذریعے ہندوستان کے ہر ایک حصے میں بہت جلد بھیجا جا سکتا ہے۔

 ہندوستانی سپاہی 1 لاکھ 60ہزار کے قریب ہیں۔ زیادہ تر جنگجو قوموں یعنی پنجابیوں، گورکھوں، سکھوں، راجپوتوں، پٹھانوں اور جاٹوں میں سے بھرتی کیے جاتے ہیں۔ ان سب کو معقول تنخواہیں ملتی ہیں اور ہر طرح سے ان کی پوری پوری خبر گیری ہوتی ہے۔ ان کے افسر تقریباً 3 ہزار انگریز اور بہت سے مقامی ہیں۔ رجمنٹ کے سب سے بڑے افسر کو کرنیل کہتے ہیں۔ اس کے ماتحت میجر، کپتان اور لیفٹیننٹ ہوتے ہیں۔ ہندوستانی افسر صوبہ دار اور جمعدار کہلاتے ہیں۔ 

 ان کے علاوہ والنٹیر ہیں جنہیں تنخواہ تو کچھ بھی نہیں ملتی مگر اسلحہ دیا جاتا ہے اور ان کی فوجی تربیت ہوتی ہے تاکہ جنگ چھڑ جائے تو وہ شہروں، قلعوں اور پلوں کی حفاظت کریں۔ شمال مغربی اور شمال مشرقی سرحدوں پر ملٹری (فوج) پولیس بھی ہے جو فوجی سپاہیوں کی طرح مسلح ہے اور امن قائم رکھتی ہے مگر وہ ملکی افسروں کے ماتحت ہے۔ فوج سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

 برطانیہ اعظم کا جنگی بیڑا ہندوستان کے کل انگریز علاقے کی حفاظت کرتا ہے۔ وہ ان تمام جہازوں کی نگہبانی کرتا ہے جو ہندوستان سے دیگر ممالک کو مال تجارت لے جاتے یا وہاں سے لاتے ہیں جب تک انگریز جنگی جہاز موجود ہیں۔ کوئی دشمن سمندر کی راہ ہندوستان پر حملہ آور نہیں ہو سکتا۔ بحری فوج کو برطانیہ اعظم کے محاصل سے تنخواہ ملتی ہے۔ انہیں ہندوستان کے روپے سے کچھ نہیں دیا جاتا۔

پولیس و جیل خانہ:

 جس طرح جنگ کے موقع پر فوج ہماری محافظت کرتی ہے اور حملہ آوروں کی مدافعت پر آمادہ رہتی ہے۔ اسی طرح امن کی حالت میں امن پسند رعایا کی نگہداشت پولیس کرتی ہے۔ وہ چوروں اور قزاقوں کو قابو میں رکھتی ہے۔ ہر ایک ضلعے میں پولیس کا نگران ایک افسر ہوتا ہے جسے سپرنٹنڈنٹ پولیس کہتے ہیں۔ اس کی امداد کو ایک اسسٹنٹ اور بہت سے انسپکٹر ہوتے ہیں۔ جن کے ماتحت کانسٹیبل ہوا کرتے ہیں۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس ضلع کے صاحب ڈپٹی کمشنر اور صوبے کے انسپکٹر جنرل پولیس کے ماتحت ہوتا ہے۔ برٹش انڈیا میں 1½ لاکھ کے قریب پولیس کے ملازم اور تقریباً 7 لاکھ چوکیدار ہیں۔ ان سب کا سالانہ خرچ کوئی 4 کروڑ روپے ہوتا ہے۔

 ہر ایک ضلع میں ایک جیل خانہ اپنے اپنے سپرنٹنڈنٹ کے ماتحت ہوتا ہے۔ پرانے زمانے میں یہ خیال تھا کہ مجرموں کو جیل خانہ میں صرف سزا دینے اور دوسروں کو عبرت دلانے کی خاطر رکھا جاتا ہے مگر اب مہذب ملکوں میں گورنمنٹ اس امر کی بھی کوشش کرتی ہے کہ ان کی اصلاح کی جائے۔ بعض لوگ محض اس وجہ سے چوری کرتے ہیں کہ نہ تو وہ کوئی پیشہ یا ہنر جانتے ہیں نہ ان کے گزارے کی کوئی اور صورت ہے۔ ایسے لوگوں کو جیل خانے میں اب روزی کمانے کے طریقے سکھائے جاتے ہیں۔ جیسے چھپائی، خیمہ دوزی، بڑھئی یا لوہار کا کام، بیت سے اشیا بنانا اور دری بننا وغیرہ۔

 اگلے زمانے میں قیدیوں کے ساتھ نہایت جابرانہ سلوک کیا جاتا تھا۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ بعض جگہ جیل خانے جانا مرنے کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ اب قیدیوں کی خوب نگہداشت کی جاتی ہے۔ انہیں اچھی غذا کھانے کو ملتی ہے اور باقاعدہ ورزش کرائی جاتی ہے۔ وہ صبح ہوتے ہی اٹھتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں، سویرے سویرے کام کرتے ہیں، پھر آرام لے کر دوپہر کی خوراک کھاتے ہیں، پھر کام کرتے ہیں۔ تیسری دفعہ شام کی غذا ملتی ہے پھر رات کو بند کر دیئے جاتے ہیں۔ جن کا رویہ اچھا ہو اور محنت سے کام کریں۔ انہیں اکثر اوقات قید کی پوری میعاد بھگتنے سے پہلے ہی رہا کر دیا جاتاہے۔ گورنمنٹ قیدیوں سے ایسا سلوک کیوں کرتی ہے؟ صرف اس واسطے کہ انہیں محنت کرنے کا حوصلہ دلائے اور ان کی اصلاح ہو جائے تاکہ وہ جیل خانے سے نکل کر باہر بھی بھلے مانس اور امن پسند بن جائیں اور دیانت سے روزی کمائیں۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -