برمنگھم دولت مشترکہ کھیلوں میں تمغوں کی جنگ جاری!

برمنگھم دولت مشترکہ کھیلوں میں تمغوں کی جنگ جاری!

  

کامن ویلتھ گیمز 2022 کا باقاعدہ آغاز رنگا رنگ اور دلفریب تقریب سے ہوا،جس کا افتتاح شہزادہ چارلس نے کیا، لندن او لمپکس 2012 کے بعد برطانیہ میں منعقد ہونے والا سب سے بڑا ملٹی اسپورٹس ایونٹ ہے۔ گیمز میں شریک کھلاڑیوں نے مارچ پاسٹ کیا، افتتاحی تقریب میں معروف فن کاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا، برطانیہ کی ثقافت پیش کی گئی جس میں آزادی کے بعد سے ملک میں استعمال ہونے والی پرانی گاڑیوں سے لے کر جدید ترین گاڑیوں نے گراؤنڈ میں چکر لگایا، کھلاڑیوں نے حلف اٹھایا،بچوں نے اور فن کاروں نے رقص پیش کئے، برطانیہ کو تاریخ کو پیش کرتے ہوئے اخبارات کی طباعت کے مناظر بھی دکھائے گئے، شہزادہ چارلس نے کہا کہ دنیا بھر کے کھلاڑیوں کی برطانیہ میں آمد ہمارے لئے اعزاز کی بات ہے،ہمیں اپنی میزبانی پر فخر ہے، انہوں نے ملکہ برطانیہ کی جانب سے کھلاڑیوں کے لئے نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا،افتتاحی تقریب میں ملالہ یوسفزئی نے بھی خصوصی مہمان کے طور پر خطاب کیا اور دنیا میں لڑکیوں کی تعلیم پر زور دیا انکے آنے سے قبل کتاب کی اھمیت کا تھیم بھی خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا۔ معروف ٹی وی سیریز پکی بلائنڈرز کے ڈائریکٹر اسٹون نائٹ نے ڈائریکٹ کیا جبکہ تقریب کے کریٹو ڈائریکٹر برٹش پاکستانی اقبال خان تھے۔کامن ویلتھ گیمزکی تقریب میں ملکہ برطانیہ کی 1958 سے اب تک مختلف ممالک کے سربراہان سے ملاقات کی وڈیو دکھائی گئی۔ تقریب میں ملکہ برطانیہ کی جگہ پرنس چارلس نے شرکت کی۔ تقریب میں ملکہ کا کامن ویلتھ ممالک کے عوام کے نام خصوصی پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔رنگا رنگ تقریب کے آغاز میں برطانوی رائل ایئر فورس کے طیاروں نے فلائی پاسٹ کیا۔کامن ویلتھ گیمز کی افتتاحی تقریب میں ٹیموں کا مارچ پاسٹ ہوا جس میں سب سے پہلے آسٹریلیا کا دستہ میدان میں داخل ہوا۔تقریب میں پاکستان کا ایک سو تین رْکنی دستہ شریک ہوا، مارچ پاسٹ میں ریسلر انعام بٹ اور ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان بسمہ معروف نے پاکستانی دستے کی سربراہی کی۔برمنگھم 2022 کامن ویلتھ گیمز کا آغاز نئے نئے تیار کردہ الیگزینڈر اسٹیڈیم میں 30,000 سے زیادہ کے براہ راست ناظرین اور ایک ارب سے زیادہ کے عالمی سامعین کے لیے شو اسٹاپنگ افتتاحی تقریب کے ساتھ ہوا۔ افتتاحی تقریب نے برمنگھم اور ویسٹ مڈلینڈز کی بھرپور اور متنوع تاریخ، ثقافت اور شناخت کو تلاش کرنے والی تھیٹریکل داستان کے ساتھ اس سال کے کھلاڑیوں کا خیرمقدم کیا۔ ابتدائی مینوفیکچرنگ اور صنعت سے لیکر جدت اور ثقافتی انقلاب تک، آرٹسٹک ڈائریکٹر اقبال خان نے نہ صرف کہانی سنانے کے روایتی تاثرات کو چیلنج کیا بلکہ برمنگھم نے خود کو دیکھنے کے انداز کو بھی چیلنج کیا۔ دولت مشترکہ کے 72 ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان کھلاڑیوں کا ایک گروپ افتتاحی تقریب نے شہر کے ماضی کے تجربات اور نئے ثقافتی اور نسلی اثرات کا جواب دیتے ہوئے، یہ کس طرح آگے بڑھ رہا ہے، کا ذکر کیا۔ 1,500 سے زیادہ پیشہ ور اور رضاکار کاسٹ ممبران پر مشتمل، افتتاحی تقریب نے 10 سے زیادہ متحرک مناظر تیار کیے جس کا آغاز کامن ویلتھ کے 'شارڈز' کے اجتماع سے ہوا -محترمہ دی کوئین کو یادگار خراج تحسین پیش کرتے ہوئے، برمنگھم کنزرویٹوائر کی گریجویٹ اور میزو سوپرانو سمانتھا آکسبورو نے قومی ترانہ پیش کیا، جس کی حمایت مشہور کنڈکٹر الپیش چوہان کے تحت مشہور سٹی آف برمنگھم سمفنی آرکسٹرا نے کی، جب کہ رائل میرینز کے موسیقاروں نے روئیل میرینز کے ساتھ مل کر گانا پیش کیا۔.برمنگھم کی جوش و خروش اور اس کے معنی کو یکجا کرتے ہوئے، میوزیکل پرفارمنس میں ملٹی گریمی جیتنے والے ٹونی آؤمی (بلیک سبت)، مشہور سیکسو فونسٹ سویٹو کنچ، آر این بی کے گلوکار انڈیگو مارشل اور گیمبیمی، گریمی ایوارڈ یافتہ پرکوشنسٹ لیکان راناجلا، گھاکان راناجلا شامل تھے۔ شام پلیئر جوڈ ریس، بیگپائپر کرس کروچ، ڈیجبی پلیئر ابراہم پیڈی ٹیٹی، دی ڈسٹرائرز، کریٹیکل ماس، سٹی آف برمنگھم سٹی آرکسٹرا، ایکپیلا گروپ بلیک وائسز اور برمنگھم 2022 کامن ویلتھ گیمز ماس کوئر۔برمنگھم رائل بیلے اور ایلمہرسٹ بیلے اسکول کے ساتھ ساتھ جنی لیمن، 'چارلی چپلن' اور برمنگھم کی تاریخی بلنگ مارکیٹ کے نمائندہ 10 میٹر اونچے بْل سے بھی خصوصی مہمانوں کی شرکت دیکھی گئی۔ان بھرپور میوزیکل لمحات اور ثقافتی کہانیوں نے مشہور برطانوی بینڈ، ڈوران ڈوران کے لیے افتتاحی تقریب کو اختتام تک پہنچانے کے لیے اسٹیج مرتب کیا، جس نے اپنے قابل ذکر کیٹلاگ میں سے چار بہت پسند کیے جانے والے ٹریکس پرفارم کیا۔اپنی پوری تاریخ میں، برمنگھم کو دولت مشترکہ کی برادریوں کی نسلوں کے گلے لگنے سے مالا مال کیا گیا ہے، جو آج ایک کثیر الثقافتی شہر کے طور پر ابھرا ہے۔ برمنگھم 2022 کامن ویلتھ گیمز کی افتتاحی تقریب الہام اور حیرت کے لمحات سے بھری ہوئی تھی، جو دولت مشترکہ بھر کے دوستوں کے ساتھ مل کر منائی گئی اس یاد دہانی کے لیے کہ کل کے واقعات کو چیلنج کرنے میں سچائی اور خوشی ہے تاکہ ہم مکمل اور مستند ہوں۔افتتاحی تقریب 11 دنوں کے شاندار کھیل کے آغاز کا اشارہ دیتی ہے، جس میں کامن ویلتھ کے بہترین ایتھلیٹس 19 کھیلوں اور آٹھ پیرا کھیلوں میں حصہ لے رہے ہیں، جو ویسٹ مڈلینڈز کے علاقے میں منعقد ہونے والے اب تک کے سب سے بڑے ایونٹ میں ہے۔افتتاحی تقریب کے اختتام پر آتش بازی کا دلکش مظاہرہ کیا،جبکہ برمنگھم کے مقابلوں میں پاکستانی ویٹ لفٹرز اور پہلوانوں پر سب کی نظریں ہیں۔چار سال قبل آسٹریلیا کے شہر گولڈ کوسٹ میں منعقد ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان نے ایک طلائی اور چار کانسی کے تمغے جیتے تھے اور یہ سب ان ہی دو کھیلوں میں حاصل کیے گئے تھے۔پہلوان انعام بٹ نے 86 کلوگرام کیٹگری میں طلائی تمغہ جیتا تھا جبکہ طیب رضا اعوان اور محمد بلال نے کانسی کے تمغے حاصل کیے تھے۔ویٹ لفٹنگ میں طلحہ طالب اور نوح دستگیر بٹ کے حصے میں کانسی کے تمغے آئے تھے۔نوجوان ویٹ لفٹر طلحہ طالب بدقسمتی سے ڈوپنگ کی وجہ سے کامن ویلتھ گیمز میں شریک نہیں ہیں لیکن نوح دستگیر بٹ، حیدر علی اور بیس سالہ ہنزلہ دستگیر بٹ اچھی کارکردگی دکھانے کے لیے پْرعزم نظر آتے ہیں۔ریسلنگ میں پاکستانی سکواڈ انعام بٹ، علی اسد، طیب رضا اعوان، محمد شریف طاہر اور زمان انور پر مشتمل ہے۔انعام بٹ ایک مرتبہ پھر 86 کلوگرام کیٹگری میں اپنی صلاحیتیں آزمائیں گے۔وہ پاکستان کے سب سے کامیاب پہلوان ہیں جو 2018 کے علاوہ 2010 کے دہلی کامن ویلتھ گیمز میں بھی گولڈ میڈل جیت چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے ورلڈ بیچ ریسلنگ چیمپیئن شپ میں بھی پانچ گولڈ میڈل جیت رکھے ہیں۔پہلوانی ریسلنگ ایک ایسا کھیل ہے جس میں پاکستان نے کامن ویلتھ گیمز میں ہمیشہ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔جبکہ سال 1962 میں آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں منعقدہ چوتھے کامن ویلتھ گیمز کارکردگی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بہترین گیمز ثابت ہوئے تھے جن میں پاکستان نے آٹھ طلائی تمغے جیتے تھے۔ ان میں سے ایک گولڈ میڈل ایتھلیٹ غلام رازق کا تھا جبکہ سات طلائی تمغے پہلوانوں کی شاندار کارکردگی کا منھ بولتا ثبوت تھے۔پاکستانی پہلوان محمد نیاز دین، محمد سراج الدین، علاؤالدین، محمد اشرف، محمد بشیر، محمد نیاز اور محمد فیض گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ صرف ایک پہلوان محمد سعید کو فائنل میں شکست ہوئی تھی اور انھیں چاندی کا تمغہ ملا تھا۔ انعام بٹ نے برمنگھم میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ چار سال قبل گولڈ کوسٹ میں طلائی تمغہ جیتنے کے بعد صورتحال اْتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔ 2018 میں حکومت کی تبدیلی کے بعد قومی سطح کے تمام تربیتی کیمپ بند کر دیے گئے اور 2020 تک کوئی بھی تربیتی کیمپ نہیں لگا۔ اس کے بعد کووڈ آگیا اور اس کی وجہ سے بھی پورا سال ضائع ہوگیا۔ تمام کھلاڑی گھروں میں بیٹھے رہے۔انعام بٹ کہتے ہیں کہ ٹوکیو اولمپکس دنیا کے سب سے بڑے مقابلے تھے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اس کے لیے بھی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔’اس کے برعکس دنیا کے دیگر ممالک نے کووڈ کے باوجود اپنے کھلاڑیوں کے لیے بائیو سکیور ببل قائم کر کے اولمپکس کی تیاری جاری رکھی تھی۔ ان کی ٹریننگ ایک دن بھی نہیں رکی تھی،انعام بٹ کے بعد ارشد ندیم وہ دوسرے کھلاڑی ہیں جن سے اچھی کارکردگی کی توقع ہے۔ارشد ندیم نے 2019 کے ساؤتھ ایشین گیمز میں 86 اعشاریہ 29 میٹرز دور جیولن تھرو کر کے ٹوکیو اولمپکس کے لیے براہ راست کوالیفائی کیا تھا۔ٹوکیو اولمپکس میں ارشد ندیم پانچویں نمبر پر آئے تھے۔ انھوں نے 84 اعشاریہ 62 میٹرز دور نیزہ پھینکا تھا۔ انڈیا کے نیرج چوپڑا نے ان مقابلوں میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔امریکہ میں منعقدہ حالیہ ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں بھی ارشد ندیم کی پوزیشن پانچویں رہی۔انھوں نے 86 اعشاریہ 16 میٹرز دور جیولن تھرو کی جو اس سیزن میں ان کی سب سے اچھی کارکردگی ہے۔ عالمی مقابلے میں انڈیا کے نیرج چوپڑا چاندی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ارشد ندیم اگرچہ کامن ویلتھ گیمز میں بلند حوصلے کے ساتھ شریک ہیں لیکن وہ کافی دنوں سے کہنی کی تکلیف میں بھی مبتلا ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے سے بہتر محسوس کر رہے ہیں تاہم انھیں ان گیمز کے بعد کہنی کے علاج پر بہت زیادہ توجہ دینی ہوگی کیونکہ وہ خود کہہ چکے ہیں آٹھ دس تھرو کے بعد انھیں کہنی اور بازو میں درد شروع ہوجاتا ہے۔ارشد ندیم کا کہنا تھا کہ ٹریٹمنٹ سے کہنی کی تکلیف آہستہ آہستہ کم ہورہی ہے۔ ایونٹ سے پہلے اس درد سے نجات پالوں گا۔کامن ویلیتھ گیمز میں پاکستان کے لیے میڈل جیتنا ٹارگٹ ہے۔ کوشش ہوگی کہ یہاں بھی اچھی پرفارمنس دے کر ملک کا نام روشن کروں۔ا نہوں نے کہا کہ فیڈریشن کے صدر جنرل ریٹائرڈ اکرم ساہی، سیکرٹری محمد ظفرکوچ سلمان بٹ اور ڈاکٹر اسد عباس کا بہت مشکور ہوں،امریکی ریاست اوریگون میں گزشتہ ہفتے ختم ہونے والی ورلڈ اتھلیٹکس چیمپین شپ میں ارشد ندیم نے کہنی کی انجری کے باوجود شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچویں پوزیشن پائی تھی۔جبکہ دوسری جانب برمنگھم کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان نے مایوس کن آغاز کیا اور پہلے ہی روز چار سوئمرز، ایک باکسر اور جمناسٹ اچھی کارکردگی نہ دکھانے پر اگلے مرحلے تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ جس میں پاکستانی کھلاڑیوں نے مایوس کن آغاز کیا اور پہلے روز ہی تین مقابلوں سے باہر ہوگئے۔ سوئمنگ ایونٹ میں حسیب طارق اپنے راؤنڈ میں ٹاپ پر رہے تاہم وہ کوالیفائی نہ کرسکے اور دوسو میٹر فری اسٹائل جہاں آرا کا تیس سوئمرز میں بائیسواں نمبر رہا جب کہ سو میٹر بٹر فلائی میں بسمہ خان اڑتیس میں سے اکتیسویں نمبر پر رہیں۔مشال کا ایونٹ کا تینتیس ایتھلیٹس میں اکتیسواں نمبر رہا، جب کہ باکسنگ میں پاکستان کے سلیمان بلوچ کو راؤنڈ آف سکسٹین میں شکست ہوئی جنہیں بھارتی باکسر نے یکطرفہ مقابلے میں زیر کیا۔

٭٭٭

شریک ممالک کی ٹیمیں اور ایتھلیٹس اپنی محنت کا پھل پانے کے لئے کوشاں 

ریسلنگ میں پاکستانی سکواڈ انعام بٹ، علی اسد، 

طیب رضا اعوان، محمد شریف طاہر اور زمان انور پر مشتمل ہے

مزید :

ایڈیشن 1 -