دورہ سری لنکا ……ایک جیتے، ایک ہارے، حساب برابر!

دورہ سری لنکا ……ایک جیتے، ایک ہارے، حساب برابر!

  

پاکستان کرکٹ ٹیم سری لنکا میں دو ٹیسٹ میچ سیریز کھیلنے کے بعد مختلف فلائٹس سے لاہور، کراچی اور اسلام آباد پہنچ گئی۔ اظہر علی انگلینڈ چلے گئے جبکہ حسن علی دبئی میں رک گئے ہیں۔ کپتان بابر اعظم، امام الحق، عبداللہ شفیق، اظہر علی لاہور پہنچ گئے۔ سیریز ایک ایک میچ سے برابر ہوئی۔دورہ نیدرلینڈز کیلئے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا اعلان آئندہ ہفتے کیا جائے گا۔ دونوں ممالک کے مابین تین ون ڈے میچز اگست میں کھیلے جائیں گے۔ روانگی سے قبل تربیتی کیمپ چھ سے گیارہ اگست تک لاہور میں لگے گا۔ اس بات کا قومی امکان ہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے اسکواڈ میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کو ہی برقرار رکھا جائے گا۔جبکہقومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ، ٹیسٹ کرکٹ میں پریشر کنٹرول کرنا ہی اہم ہوتا ہے،سری لنکا کے بولروں نے پلان اور فیلڈ پوزیشن کے مطابق بولنگ کی لیکن ہمیں اسپن بولنگ کے خلاف مشکل پیش آئی کچھ بیٹسمین سافٹ انداز میں آؤٹ ہوئے، دورے کے دوران بہت سی چیزیں مثبت تھیں۔ بابر اعظم نے کہا کہ ٹیسٹ میچ کے بعد ایک دم سے ہمیں ون ڈے موڈ میں جانا ہوگا۔ نیدر لینڈز روانگی سے قبل تیاری کے لئے دس دن ملیں گے کوشش کریں گے ٹیم اچھی کارکردگی دکھائے۔ سری لنکا کا دورہ اچھا رہا، دوسرا ٹیسٹ میچ شفٹ ہونے سے زیادہ مشکل ہوئی جبکہ عبداللّٰہ شفیق، آغا سلمان، فاسٹ بولرز اور اسپنرز کی طرف سے بہت اچھی پرفارمنس رہی۔ متحدہ عرب امارات میں ہم نے بہت کر کٹ کھیلی ہے۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت سمیت دنیا کی بڑی ٹیموں کو شکست دی، کوشش کریں گے کہ ایشیا کپ میں اچھی کارکردگی دیں۔ بابر اعظم نے کہا کہ سری لنکا کے دورے کے لیے بہت اچھی تیاریاں کی تھیں۔کولمبو میں پریکٹس میچ سے بہت فائدہ ہوا، سری لنکا کی کنڈیشنز کو سمجھنے میں آسانی ہوئی، پتا تھا گال میں گیند بریک زیادہ ہوتی ہے اس حساب سے تیاری کی۔ دونوں ٹیسٹ میچز میں پوری ٹیم نے اچھا پرفارم کیا، بطورِ ٹیم اپروچ چینج کی ہے، سب کو کہا ہے مثبت سوچیں اور اپنا بہترین کھیل پیش کریں، ہمارے ہاتھ میں صرف کوشش ہے، پوری ٹیم کوشش کرتی ہے۔ہر میچ یا سیریز کے بعد خامیوں پر قابو پانے کے لیے بات ہوتی ہے۔جبکہ دوسری جانب پاکستان اور ویسٹ انڈیز کیسابق کپتانوں شاہد آفریدی، شعیب ملک اور ڈیرن سیمی کے بعد اب پاکستانی نڑاد جنوبی افریقی اسپنر عمران طاہر اور نیوزی لینڈ کے جارحانہ مزاج بیٹر کولن منرو بھی پاکستان جونیئر لیگ کی ٹیموں کے مینٹورز مقرر ہوگئے ہیں۔ ٹورنامنٹ کا افتتاحی ایڈیشن 4 سے 17 اکتوبر تک قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔ان پانچ نامور کھلاڑیوں کے علاوہ پاکستان کے سابق کپتان اور شہرہ آفاق بیٹر جاوید میانداد کو پہلے ہی ٹورنامنٹ کا مینٹور مقرر کیا جاچکا ہے۔ ایونٹ کی چھٹی ٹیم کے لیے مینٹور کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔عمران طاہر نے آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ 1998 میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی تاہم وہ 2005 میں جنوبی افریقہ منتقل ہوئے اور 2011 میں وہاں سے اپنے انٹرنیشنل کرکٹ کیرئیر کا آغاز کردیا۔ انہوں نے مجموعی طور پر 20 ٹیسٹ، 107 ون ڈے اور 38 ٹی ٹونٹی میچز میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کرتے ہوئے کْل 293 انٹرنیشنل وکٹیں حاصل کیں۔کولن منرو نے 65 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز میں نیوزی لینڈ کی نمائندگی کی۔ اس دوران انہوں نے تین سنچریاں اور11 نصف سنچریاں اسکور کیں۔ جارحانہ مزاج بیٹر 57 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں کھیلنے کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔جبکہ عمران طاہر کا کہنا ہے کہ لاہور ان کا آبائی شہر ہے اور پاکستان جونیئر لیگ میں ٹیم مینٹور کی حیثیت سے شرکت کے لیے لاہور واپسی پر وہ بہت خوش ہیں۔یہ ان کے پاس نوجوان اور ابھرتے ہوئے اسپنرز کی معاونت کا بہترین موقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ پاکستان جونیئر لیگ کے فلسفے کی مکمل حمایت کرتے ہیں کیونکہ یہ نوجوان کھلاڑیوں کو صلاحیتوں کے مکمل اظہار کے لیے ایک سخت اور مشکل ماحول فراہم کرے گا۔ یہ ایونٹ پاکستان میں کھلاڑیوں کا پول بڑھانے میں بھی معاونت کرے گا۔کولن منرو کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان جونیئر لیگ کے افتتاحی ایڈیشن کا حصہ بننے کے لیے بہت پرجوش ہیں، یہ ایونٹ پاکستان کی کرکٹ میں گیم چینجر ثابت ہوگا۔ نوجوانوں میں سرمایہ کاری، کھیل کے مستقبل کو محفوظ اوراپنی قومی ٹیموں کی ترقی کو یقینی بنانا تمام منتظمین کا مقصد ہونا چاہیے۔ پی سی بی نے اس قسم کا ٹورنامنٹ شروع کر کے دیگر ممالک پر سبقت لیلی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان جونیئر لیگ میں شرکت کے منتظر ہیں کیونکہ یہاں انہیں نوجوان کھلاڑیوں کو علم بانٹنے اور ان کی صلاحیتوں میں نکھار لانے کا بھرپور موقع مل رہا ہے۔ بلاشبہ پاکستان جونیئر لیگ مستقبل میں ورلڈ چیمپئنز پیدا کرے گی۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -