چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس کا معاملہ

  چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس کا معاملہ

  

تحریک انصاف نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس فیصلے کی وجہ اس ملاقات کو بنایا گیا ہے کہ جو چیف الیکشن کمشنر نے حکمران اتحاد کے وفد سے کی۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے زیر صدارت اِس حوالے سے ایک اجلاس ہوا جس میں کہا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر نے کوڈ آف کنڈیکٹ کی دھجیاں اڑا دی ہیں اُن کی مراعات اور تنخواہ سپریم کورٹ کے جج جیسی ہیں اس لیے اُن پر کوڈ آف کنڈیکٹ بھی وہی لاگو ہوتا ہے،ایسے میں ایک زیر التواء کیس کے معاملے میں ایک وفد سے مل کر چیف الیکشن کمشنر نے اپنے عہدے کے حلف سے روگردانی کی ہے اس لیے اُن کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا جائے گا۔یاد رہے کہ حکومتی وفد نے چیف الیکشن کمشنر سے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ جلد کرنے کی درخواست کرنے کے لیے ملاقات کی تھی اور یہ ملاقات خفیہ نہیں بلکہ اعلانیہ ہوئی تھی ایسی ملاقاتیں چیف الیکشن کمشنر سے پہلے بھی مختلف افراد اور وفود کرتے آئے ہیں یہ معمول کی بات ہے۔الیکشن کمیشن کے ریکارڈ سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق خود پی ٹی آئی کے وفود،رہنما اور وزراء چیف الیکشن کمشنر سے ملتے رہے ہیں۔تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں متعدد وزراء چیف الیکشن کمشنر سے اسی فارن فنڈنگ کیس کے سلسلے میں ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ حکومت جانے کے بعد بھی مئی اور جون کے مہینوں میں تحریک انصاف کے رہنماؤں نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقاتیں کیں۔کہنے کو تحریک انصاف نے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کو سپریم کورٹ کے جج کے ہم پلہ قرار دیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کی نوعیت بہت کچھ مختلف ہے وہ صرف ایک جج کا کردار ہی ادا نہیں کرتے بلکہ انہیں مختلف انتظامی معاملات بھی دیکھنا پڑتے ہیں۔اُن سے سیاسی لوگ ملاقاتیں کرتے ہیں کیونکہ اُن کے عہدے کا تعلق ہی انتخابات اور سیاسی معاملات سے ہے۔حکومتی وفد نے اگر اُن سے ملاقات کرنے کی درخواست کی تو انہوں نے الیکشن کمیشن کے انتظامی سربراہ کی حیثیت سے اُن کے ساتھ ملاقات کی۔ایسی ملاقاتیں چیف الیکشن کمشنر تحریک انصاف کے دور میں بھی کرتے رہے ہیں اور اب بھی تحریک انصاف جب چاہتی ہے اُن سے ملاقات کر کے اپنے تحفظات یا مطالبات پیش کرتی رہتی ہے۔الیکشن کمیشن کے ذرائع نے یہ سوال بجا طور پر اٹھایا ہے کہ تحریک انصاف کے وفد سے ملاقات کرنا اگر کوڈ آف کنڈیکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتا تو حکومتی وفد سے ملاقات میں کیونکر آ سکتا ہے۔

تحریک انصاف نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا اعلان اُس وقت کیا جب برطانوی اخبار ”فنانشل ٹائمز“ میں تحریک انصاف کے لیے فارن فنڈنگ کی بابت ایک نقاب کشا سٹوری شائع ہوئی۔اس سٹوری کو جھٹلانے کے بجائے تحریک انصاف نے اپنی توپوں کا رخ الیکشن کمیشن کی طرف کر لیا ہے کیونکہ وہاں تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کیس زیر التواء ہے۔پی ڈی ایم اپنے اجلاس میں یہ مطالبہ کر چکی ہے کہ آٹھ سال سے زیر سماعت اس مقدمے کا فیصلہ سنایا جائے جبکہ اس فیصلے کو رکوانے کے لیے تحریک انصاف عدالتی اور عوامی دونوں فورمز استعمال کرتی رہی ہے۔پچھلے کچھ عرصے سے عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کو نشانے پر رکھا ہوا ہے وہ اُن پر دھاندلی کرانے، مسلم لیگ(ن) کا ساتھ دینے اور تحریک انصاف کو نقصان پہنچانے کے الزامات لگاتے رہے ہیں،حتیٰ کہ انہوں نے پنجاب کے ضمنی انتخابات میں مثالی کامیابی حاصل کرنے کے باوجود چیف الیکشن کمشنر پر الزام لگایا کہ انہوں نے دھاندلی کی پوری کوشش کی جسے ہم نے ناکام بنا دیا جبکہ عام طور پر ان انتخابات کو شفاف اور غیر جانبدارانہ قرار دیا گیا اور الیکشن کمیشن کی تعریف کی گئی۔اب تحریک انصاف نے کہا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں سے چیف الیکشن کمیشن کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پاس کرائی جائیں گی جس کے بعد اُن کا عہدے پر رہنا غیر آئینی تصور ہو گا، نجانے یہ راہ تحریک انصاف کو کس نے دکھائی ہے۔یہ کون سا آئینی راستہ ہے چیف الیکشن کمشنر یا اُن کے ممبران کو نکالنے کا؟ پی ٹی آئی خود تسلیم کرتی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ سپریم کورٹ کے جج کے برابر ہے،کیا سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے ججوں کو اسمبلیوں میں قرارداد پاس کر کے عہدوں سے ہٹایا جا سکتا ہے؟ چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کا وہی طریقہ ہے جو آئین میں اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان کے لیے درج ہے یعنی کسی بھی معاملے میں جوڈیشنل کمیشن میں ریفرنس بھیج کر عہدے سے ہٹانے کی درخواست کی جا سکتی ہے کوئی دوسرا فورم موجود نہیں جس کے ذریعے چیف الیکشن کمشنر کو ہٹایا جا سکے۔اگر تحریک انصاف اس معاملے میں واقعی سنجیدہ ہے اور سمجھتی ہے کہ اُس کے پاس خاطر خواہ مواد بھی موجود ہے تو اُسے سپریم جوڈیشنل کونسل سے رجوع کر لینا چاہیے اس کے لیے اتنا واویلا کرنے کی ضرورت نہیں، یہ سیدھا سادہ آئینی راستہ ہے جسے اختیار کر کے نتیجے کا انتظار کیا جا سکتا ہے۔یہ حقیقت تو اپنی جگہ موجود ہے کہ الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کیس زیر سماعت ہے۔اُس کی سماعت کے تقریباً تمام مراحل مکمل ہو چکے ہیں اور فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔پی ٹی آئی کی حتیٰ الامکان کوشش رہی ہے کہ اس کیس کا فیصلہ نہ سنایا جائے اور پیپلزپارٹی،مسلم لیگ(ن) اور جے یو آئی کے کیسوں کو بھی مکمل کر کے سب کا ایک ساتھ فیصلہ کیا جائے۔وہ کیسز ابھی مکمل نہیں ہوئے اور سماعت کے مراحل میں ہیں جبکہ تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس ہر لحاظ سے مکمل ہو چکا ہے۔

عام تاثر یہ ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کی چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے خلاف مہم کا مقصد ایک ہی ہے  کہ کسی طرح دباؤ ڈال کر فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ اپنے حق میں کرایا جائے یا پھر اس فیصلے کو باقی جماعتوں کے فیصلوں تک لٹکا دیا جائے۔عمران خان متعدد مرتبہ چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ بھی کر چکے ہیں جسے الیکشن کمیشن کی طرف سے رد کر دیا گیا۔ اب انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو اُن کا حق ہے تاہم اس سے پہلے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دیگر ممبران کے خلاف معاندانہ مہم چلانا دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش ہی سمجھی جائے گی۔الیکشن کمیشن کے ذرائع نے کہا ہے کہ دباؤ ڈالنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو گی اور فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ قانون اور میرٹ کے مطابق سنایا جائے گا تاہم الیکشن کمیشن کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اس معاملے کو نمٹا دے تاکہ اس مسئلے پر جو سیاسی اضطراب پایا جاتا ہے اُس کا خاتمہ ہو سکے۔

مزید :

رائے -اداریہ -