سیاسی عدم استحکام اور مہنگائی

سیاسی عدم استحکام اور مہنگائی

  

پٹرولیم کے نرخوں میں اضافے کا اعلان ابھی نہیں ہوا، قیمتیں بڑھنے کی خبروں ہی سے مارکیٹ متاثر ہو گئی اور تاجر بھائیوں نے سبزی، فروٹ اور دیگر اشیاء خوردنی کے نرخوں میں 30سے40فیصد اضافہ کر دیا ہے۔دودھ اب180 روپے فی کلو ہو گیا،پیکٹ دودھ والی کمپنیوں نے بھی نرخ بڑھا دیئے اور اب یہ دودھ 230 سے240 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔تاجر حضرات نے اس اضافے کی وجہ پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں اور روپے کی بے قدری کو قرار دیا ہے تاجر تنظیموں کا یہ موقف بھی ہے کہ بجلی کے بلوں کے ساتھ انکم ٹیکس کی ادائیگی قابل قبول نہیں،تاجر تنظیموں نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ اگر ٹیکس واپس نہ لیا گیا تو شٹر ڈاؤن کر دیئے جائیں گے اور یہ ہڑتال غیر معینہ مدت کے لیے ہو گی اور مطالبے منظور ہونے تک جاری رہے گی۔جب سے ملک عدم استحکام کا شکار ہوا مہنگائی بڑھتی چلی جا رہی ہے،سابقہ ہو یا موجودہ ہر دور میں قیمتوں میں اضافہ  ہوتا رہا ہے اور اب تو لوگوں کا گذارہ مشکل ہو گیا کہ روٹی اور نان کے نرخ بھی بڑھ چکے ہیں،مہنگائی سیاسی حکومتوں کے لیے بھی نقصان دہ ہے کہ عام شہری یہ موقف نہیں مانتے کہ جانے والوں کا کِیا دھرا ہے۔موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھی مہنگائی کو قابو کرنا پڑے گا ورنہ یہ کساد بازاری احتجاج کا راستہ بھی اختیار کر سکتی ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -