نئے خطرات

 نئے خطرات
 نئے خطرات

  

 لوگوں کو مولانا ابوالکلام آزاد کے خیالات سے بے پناہ اختلاف ہے جس عہد میں بھارت تقسیم ہو رہا تھا وہ برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی بیداری کے عروج کا زمانہ تھا اور ان دِنوں مسلم لیگ سے اختلاف کرنا گویا پوری مسلمان قوم کے جذبات کے مخالف کھڑا ہونے کے مترادف تھا۔اس بات سے قطع نظر کہ مولانا کا بھارت کی تقسیم کے حوالے سے کیا نکتہ نظر تھاانہوں نے بعض اہم باتیں مسلم لیگ کی قیادت کی سوچ بچار کے حوالے سے بھی کی تھیں۔ شورش کاشمیری مرحوم کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے نوآبادتی ریاست کے جابرانہ کردار کو بہت وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا تھا، نو آبادیاتی ریاست کے اداروں پر انہوں نے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک دن پاکستان کی ریاست پر عوام کے حق ِ حکمرانی کی نسبت نو آبادیاتی ریاستی اداروں کا غلبہ ہو گا اور یہ کام پاکستان بنتے ہوئے ہی شروع ہو گیا۔ اگر کوئی مسعود کھدر پوش جیسا  استثنیٰ سامنے آیا تو اس کی کوئی نہ چلنے دی۔

مسعود کھدر پوش جو متحدہ بھارت میں پسماندہ لوگ بھیل برادری میں بھگوان کے نام سے پکارے جاتے تھے،بھارت کی نوآبادی ریاست میں ایک عوام دوست استثنیٰ تھے جب پاکستان کے گورنر جنرل کے حکم پر سندھ میں جاگیرداری کی اہانت آمیز انسان دشمنی کے پس منظر میں ہاری کمیٹی تشکیل دی گئی تو جس نے جاگیرداروں کو صادق اور امین قرار دیا تو مسعود کھدر پوش نے اس پر ایک اختلافی نوٹ لکھا جو آج بھی پاکستان کی عمومی سماجی زندگی اور خاص طور پر سندھ کے حوالے سے چشم کشا حقائق کا حامل ہے۔ آج کا سندھ یعنی75برس گزرنے کے بعد بھی وہی ہے جو مسعود کھدر پوش کے اختلافی نوٹ میں نظر آتا ہے اور آج   سندھ  میں پیپلزپارٹی کی حکومت اسے اسی طرح قائم و دائم رکھنا چاہتی ہے جس طرح عبدالستار پیرزادہ کی حکومت رکھنا چاہتی تھی، یعنی سندھ میں جاگیرداروں اور وڈیروں کے ساتھ بڑے سرمایہ داروں، سرمایہ کاروں اور رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے والے ماہرین کی مشترکہ حکومت سندھ میں گزشتہ پندرہ سال سے بھٹو کے نام پر حکومت کرتی جا رہی ہے اور حکومت کرنے والوں میں کوئی ایک آدمی ایسا نہیں ہے کہ جو بھٹو کے اصل مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتا ہو۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سب سے بڑی خواہش ملک میں تعلیم کا فروغ تھا،انہوں نے برسر اقتدار آتے ہی میٹرک تک تعلیم مفت کر دی تھی۔پورے ملک کے نجی تعلیمی ادارے قومی ملکیت بن گئے تھے اُس وقت بہت چیخ و پکار کی گئی لیکن آج پاکستان کے 70 فیصد سے زائد غریب عوام بچوں کی تعلیم کے لئے ترس رہے ہیں،22کروڑ کی آبادی میں دو کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں آخر کیوں اس لئے کہ والدین نہ اپنا پیٹ بھرنے کے قابل ہیں اور نہ ان بچوں کی فیس ادا کرنے کے قابل، لیکن شہروں کا ایک خاص طبقہ جو شہر کے پوش علاقوں کا مکین ہے اب بھی سرکاری سکولوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے بچہ چاہے زرداری کا ہو، مریم نواز کا یا سعد رفیق جیسے نچلے درمیانے طبقے کے خاندان سے تعلق رکھنے والا سب اعلیٰ نجی اداروں میں تعلیم حاصل کر کے بیرون ملک ڈگریاں لینے چلے جاتے ہیں۔ پنجاب میں سیاسی لڑائی نے عام انسان کی زندگی کو بدترین مہنگائی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ عثمان بزدار تو ویسے ہی ”ملنگ“ آدمی تھے اُنہیں بازار کی قیمتوں سے کوئی تعلق ہی نہ تھا بے چارے کہیں اور ہی لو لگائے رکھتے تھے۔

مسعود کھدر پوش کے ذکر میں اور باتیں بھی آتی چلی گئیں۔ ایک اہم بات جو ضروری ہے اس کا بھی ذکر ہو جائے۔ جب 1962ء میں ایوب نہرو نہری معاہدہ ہونے جا رہا تھا اور پاکستان اپنے تین دریاؤں جہلم، چناب اور راوی سے دستبردار ہو رہا تھا۔ اس وقت صرف ایک بیورو کریٹ تھا جس نے ایوب خان کے سامنے اس معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو ملک اپنے پانی کے وسائل بیچ دیتا ہے اس کی قسمت میں صحرا بننا لکھا ہوتا ہے جونہی ایوب نہرو معاہدہ ہوا پاکستان کے علاقوں میں ایک دوسرے کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں۔ ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد آج پاکستان کے صوبے پانی کی تقسیم پر ہر روز جھگڑتے نظر آ رہے ہیں۔ عوامی رائے سرکاری اقدامات اور جبر تلے دب چکی ہے ایک مرتبہ پھر مضبوط مرکز ون یونٹ کی طرف بڑھتے ہوئے خطرے نظر آ رہے ہیں جو پاکستان کے قومی اتحاد کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -