پنجاب اسمبلی میں چیف الیکشن کمشنر، ممبران کیخلاف قرار داد منظور، مستعفی ہونے کا مطالبہ

  پنجاب اسمبلی میں چیف الیکشن کمشنر، ممبران کیخلاف قرار داد منظور، مستعفی ...

  

       لاہور(نمائندہ خصوصی)پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کی عدم موجودگی میں چیف الیکشن کمشنر اور ارکان الیکشن کمیشن کے مستعفی ہونے ملک میں نئے الیکشن کروانے کے مطالبے اورعالمی سازش کے تحت تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کی مذمتی قرار داد منظور،نومنتخب ڈپٹی سپیکر نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا، سپیکر سبطین خان اسمبلی رولز سے ناواقف نکلے،اسمبلی کو ایک بار پھر سیکرٹری اسمبلی کے ماتحت کردیا گیا،پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر سبطین خان کی زیر صدارت دو گھنٹے پندرہ منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر سپیکر نے ایوان کو بتایا کہ ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے لئے کاغذات نامزدگی واثق عباسی کے سوا اپوزیشن کی جانب سے کسی نے جمع نہیں کرائے لہذا واثق عباسی کو پنجاب اسمبلی کا ڈپٹی سپیکر ڈکلیئر کیا جاتا ہے،جس کے بعد سپیکر نے ڈپٹی سپیکر سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔ اس موقع پر ڈپٹی سپیکر واثق عباسی نے اظہار خیال کرتے ہوئے اپنی قیادت چیئر مین عمران خان وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی اور پارٹی ممبران کا شکریہ ادا کیا اور قیادت کی خدمات اور ان کے اعتماد پر انہیں خراج تحسین پیس کیا۔ پنجاب اسمبلی کے ایوان میں اپوزیشن کی عدم موجودگی میں حکومت کی جانب سے ایک قرارداد پیش کی گئی جس میں کہا گیا ہے یہ ایوان چیف الیکشن کمشنر اور ان کے ممبران پر عدم اعتماد کااظہار کرتا ھے۔لہٰذا چیف الیکشن کمیشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان فوری طور پر مستعفی ہوں، قراردادمزید کہا گیا کہ چونکہ اس وقت ملکی معاشی صورتحال انتہائی بد ترہے اور ملک سیاسی طور پر عدم استحکام کا شکار بھی ہے اس سے نکلنے کا واحد راستہ صاف شفاف الیکشن ہیں اس لئے ملک میں فوری طور پر عام انتخابات کا اعلان کیا جائے، قرارداد میں مزید کہا گیا کہ یہ ایوان عالمی سازش کے تحت تحریک انصاف کی قانونی حکومت ختم کرنے کی شدید مذمت کرتا ہے،جس کہ تحت ملکی معیشت تباہ و برباد ہو گئی ہے، جس کے باعث ملک میں مہنگائی کی صورتحال انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے، یہ قراردادپی ٹی آئی کے رکن کی  طرف سے پیش کی گئی۔اجلاس کے دوران ایک بل بھی منظور کیا گیا جس میں پنجاب اسمبلی کو ایک بار پھر سیکرٹری اسمبلی کے ماتحت کردیا گیا، پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں سپیکر سطین خان اسمبلی قواعد ضوابط سے ناوقف نکلے۔اجلاس میں سپیکر پنجاب اسمبلی عمران خان کو بار بار وزیر اعظم پاکستان کہتے رہے۔حکومتی رکن نے نشاندہی کی کہ میرے حلقے میں بارشوں کی وجہ سے کاشتکاروں کا بہت نقصان ہوا ہے۔اس پر سپیکر اسمبلی نے کہا میانوالی میں وزیر اعظم عمران خان کے حلقے میں بھی بارشوں کی وجہ سے تباہی ہوئی۔سرکاری کاروائی کے دوران سپیکر پنجاب اسمبلی پروسیجربل کو بار بار اسمبلی موشن کہتے رہے۔بل پیش کرنے کیلئے راجہ بشارت نے قواعد کی معطلی کی قراداد پیش کرنا تھی جوسپیکر نے خودپیش کر دی۔جس کے بعد راجہ بشارت نے سپیکر کے پاس آ کر نشاندہی کی کہ سپیکر صاحب قواعد کی معطلی کی تحریک میں نے پیش کرنا تھی۔سپیکر نے اس کے بعد ایک اور غلطی کر دی بل راجہ بشارت نے پیش کرنا تھا بل بھی سپیکر نے ایوان میں خود ہی پیش کر دیا۔راجہ بشارت اور سیکر ٹری اسمبلی عنایت اللہ لک سر پکٹر کر بیٹھ گے۔اس کے بعد حکومتی رکن نے چیف الیکشن کمشن کے خلاف قراداد پیش کرنا تھی۔آوٹ آف ٹرن قرارداد پیش کرنے سے قبل حکومتی رکن نے قواعد کی معطلی کی تحریک پیش کرنا تھی۔لیکن محرک نے پہلے قررداد پیش کر دی۔سیکرٹری اسمبلی عنایت اللہ لک اپنی سیٹ سے اٹھ کر محرک کے پاس خود آئے اسمبلی رولز کے بارے بتایا۔آپ نے پہلے قواعد کی معطلی کی تحریک پیش کرنا تھی پھر قرارداد پیش کرنی تھی۔پھر رکن نے قواعد کی معطلی کی تحریک پیش کی اور پھر قرارداد پیش کی۔اس سے قبل راجہ بشارت نے پنجاب اسمبلی پروسیجر بل 2022 پیش کیا جس کو کثرت رائے سے پاس کرلیا گیا۔ ہاشم ڈوگر کی نشاندہی پر راجہ بشارت نے ایوان کو بتایا عمران خان کے حکم پر ایک کمیٹی قائم کی ہے جو پارٹی رہنماو ¿ں اور کارکنوں پر درج مقدمات خارج کرے گی،اس حوالے سے تمام اضلاع کے پولیس افسران کو آگاہ کردیا ہے۔اس کی رپورٹ جلد ایوان میں پیش کی جائے گی۔بعد ازراں ایجنڈا مکمل ہونے پر سپیکر نے اجلاس پندرہ اگست دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردیا۔

قرار داد منظور

مزید :

صفحہ اول -